35پنکچر اور خود کشی کا چیلنج

35پنکچر اور خود کشی کا چیلنج
35پنکچر اور خود کشی کا چیلنج

  


آج صبح گاڑی کا پنکچر لگوانے ٹائر شاپ پر گیا، تو اتفاق سے شیدا ریڑھی والا بھی اپنی ریڑھی کے ساتھ وہیں کھڑا تھا۔ اُس نے مجھے ٹائر کا پنکچر لگواتے دیکھا، تو میرے پاس آ گیا کہنے لگا....”بابو جی کتنے پنکچر نکلے ہیں“۔ .... مَیں نے کہا ابھی تو چیک کر رہا ہے۔ شیدا فوراً بولا: ”فکر نہ کریں بابو جی35 پنکچر تو پھر بھی نہیں نکلیں گے“۔ مَیں سمجھ گیا کہ شیدے کی سوئی ان پنکچرز پر اڑی ہوئی ہے، جن کا نجم سیٹھی کے حوالے سے آج کل اخبارات میں بہت چرچا ہے۔ جب تک ٹائر کو پنکچر لگتا رہا، شیدے کی اس حوالے سے گفتگو جاری رہی۔ خدا خدا کر کے ٹائر فٹ ہوا، تو مَیں نے کالج کی راہ لی۔ وہاں سٹاف روم میں اخبار دیکھا، تو پھر یہی پنکچر والی بات سامنے پڑی تھی۔ مَیں حیران رہ گیا نجم سیٹھی کو ایسا بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ایسا اُسی صورت میں ہوتا ہے، جب آدمی کسی بات یا چیز کو اپنا دُکھ بنا لے۔ اُن کے بیان پر اخبار نے یہ سرخی جمائی تھی ”عمران خان کا 35پنکچر والا الزام ثابت ہو جائے تو خود کشی کر لوں گا“۔ مَیں سوچنے لگا نجم سیٹھی صاحب ابھی رعایت کر گئے ہیں، وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ ”خود کش حملہ کر دوں گا“ کیونکہ آج کل خود کشیوں سے زیادہ خود کش حملوں کا رواج ہے۔ نجم سیٹھی جب سے اقتدار کی ”نذر“ ہوئے ہیں مسلسل الزامات اور تنقید کی زد میں ہیں۔ انہیں یہ بات مان لینی چاہئے کہ اقتدار میں یہ سب کچھ ہوتا ہے، مگر وہ اپنے اندر کے دانشور صحافی اور لکھاری کو نہیں مار سکے، جو ایسے الزامات پر تلملاتا ہے اور انہیں اس حد تک زچ کر دیتا ہے کہ وہ خود کشی کی دھمکی دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

نجم سیٹھی کو جب عبوری وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا، تو صحافتی حلقوں میں تاثر یہ تھا کہ انہیں وزارتِ اعلیٰ طشتری میں سجا کر زبردستی دی گئی ہے، لیکن اب جو انہیں پی سی بی کی ایڈہاک کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیاہے، تو کہا جا ہا ہے کہ انہوں نے اس عہدے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی اور جدوجہد کی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جس انداز سے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ذکاءاشرف کوبرطرف کیا اور نجم سیٹھی کی تقرری کی، اس نے بحث کے کئی دروا کر دیئے۔ جب کوئی اس قدر خصوصی اختیارات کے تحت کسی عہدے پر تعینات کیا جاتا ہے ، توچہ میگوئیاں ہوتی ہیں۔ نجم سیٹھی اس عہدے سے چونکہ عدالتی حکم کے بعد معزول ہوئے تھے، اسی لئے توقع یہی کی جا رہی تھی کہ وہ یہ عہدہ دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش نہیں کریں گے، کیونکہ اُن جیسی بڑی شخصیت کا مالک آدمی ایسی صورت حال میں اپنی ساکھ بچانے پر زیادہ توجہ دیتا ہے، مگر لگتا ہے کہ انہوں نے اپنی مخصوص چڑیا کو بھول کر پی سی بی کی سونے کی چڑیا پرزیادہ توجہ مرکوز کی اور اندر ہی اندر ایسی کوششوں میں لگے رہے کہ جن کا مقصد ہر قیمت پر پی سی بی کی کھوئی ہوئی چیئرمین شپ حاصل کرنا تھا۔ اپنی ان کوششوں میں وہ کامیاب تو ہو گئے، لیکن وہ جو سیانوں نے کہا ہے کہ کامیابی اگر عزت اور ساکھ کو بہا لے جائے، تو سمجھو کہ ناکامی کا مُنہ دیکھ رہے ہو، یہی نہیں کہ نجم سیٹھی نے ناکامی کا مُنہ دیکھا ہے، مگر آج جب مَیں اُن کی زبان سے ایسے بیانات سنتا ہوں، جو ایک ہارے ہوئے شخص کی زبان ہی سے اچھے لگتے ہیں، تو مجھے اُن کے کامیاب ہونے کا یقین نہیں آتا۔

سچی بات ہے مجھے عمران خان سے ایسے بیانات کی توقع ہر گز نہیں تھی کہ جو منٹو کے کاٹ ڈار جملوں کی طرح اپنا گہرا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے ”شرمناک کردار“ والا جملہ استعمال کیا تھا، تو عدلیہ کے پَر جلنے لگے تھے اور انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنا پڑا تھا،اب حال ہی میں انہوں نے طالبان کے خلاف آپریشن میں40فیصد کامیابی کے امکانات کا ذکر کر کے ہلچل مچا دی ہے، جس پر اسمبلی اور سینٹ میں خاصی لے دے ہورہی ہے۔ اِسی دوران نجم سیٹھی کو ایمر جنسی نافذ کر کے پی سی بی کا چیئرمین بنایا گیا، تو عمران خان نے اپنے تبصرے میں صرف اتنا کہہ دیا کہ نجم سیٹھی کو انتخابات میں 35حلقوں کے اندر پنکچر لگانے کا انعام دیا گیا ہے۔ کہنے کو تحریک انصاف پنجاب میں دھاندلی کا رونا شروع دن سے رو رہی ہے، خاص طور پر لاہور کے دو حلقوں کا بطور ٹیسٹ کیس ذکر کرتی ہے کہ اُن کی دوبارہ گنتی کرائی اور انگوٹھے چیک کئے جائیں، لیکن اُس کی یہ سنی نہیں جا رہی ، یہ ایشو رفتہ رفتہ دب رہا تھا کہ نجم سیٹھی کی تعیناتی نے اسے پھر زندہ کردیا۔ اب یہ تو نجم سیٹھی صاحب ہی بتا سکتے ہیں کہ آخر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے پنج پیاروں میں وہ کیسے شامل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ایسا کون ساکارنامہ سر انجام دیا ہے کہ جس کی بناءپر انہیں تمام قانون قاعدے روند کر میاں صاحب نے پی سی بی کا چیئرمین بنا دیا ہے۔ انتخابات سے پہلے تک نجم سیٹھی صاحب پیپلزپارٹی کے پنج پیاروں میں سمجھے جاتے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ نگران وزیراعلیٰ کے طور پر اُن کا نام بھی پیپلزپارٹی نے تجویز کیا تھا، ویسے بھی نجم سیٹھی کی ساری زندگی لیفٹ کی قوتوں کا ساتھ دیتے گزری ہے، لیکن آج کل وہ لیفٹ سے رائٹ پر آ گئے ہیں۔ یہ اچانک کایا کلپ کیسے ہوئی ہے؟ یہ انقلاب اُن کے نگران وزیراعلیٰ بننے کے بعد ہی آیا ہے۔ یہ سوال تو سبھی کے ذہن میں اُبھرتا ہے کہ ایک شخص کو غیر معمولی انداز سے کس صلہ میں نوازا جا رہا ہے۔ اب صلہ کی گرہ اگر عمران خان نے یہ کہہ کر کھول دی ہے کہ نجم سیٹھی کو انتخابات میں دھاندلی کا صلہ دیا جا رہا ہے، تو نجم سیٹھی صاحب کو خودکشی کرنے یا عمران خان کو خود کشی کا چیلنج دینے کی بجائے اپنے کسی کالم یا ٹی وی پروگرام میں اس راز کو فاش کرنا چاہئے کہ بیٹھے بٹھائے اُن پر یا وزیراعظم پر یہ انکشاف کیسے ہوا کہ پی سی بی کے لئے پورے ملک میں نجم سیٹھی سے بڑھ کر اور کوئی شخص نہیں، ساری زندگی سیاست پر لکھتے گزارنے والا شخص اور جس کی چڑیا نے کبھی کرکٹ کی طرف دیکھنا بھی گوارانہ کیا ہو، اگر یکدم پی سی بی کی چیئرمین شپ کے لئے ناگزیر ہو جاتا ہے، تو اس کے پیچھے کوئی معجزہ، کوئی کہانی اور کوئی راز تو ہے، جسے سامنے آنا چاہئے۔

مَیں آج تک اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کیا کسی صحافی یا کالم نگار کو زندگی بھر اپنے شعبے میں صرف اس لئے جان مارنی چاہئے کہ جب اُس کی محنت، ریاضت اور خداداد ذہانت سے اُس کا نام چہار دانگ عالم گونجنے لگے، تو وہ کوئی سرکاری عہدہ قبول کر لے، میری ذاتی سوچ تو یہی کہتی ہے کہ آج تک جن لوگوں نے ایسا فیصلہ کیا اُن کی عزت و توقیر میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، بلکہ کمی ہی آئی، اُن کی آواز جو کبھی لرزتی نہیں تھی، معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئی اور پھر سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اُن کی آزادی و غیر جانبداری ختم ہو گئی، مگر اس کا کیا کیا جائے کہ وطنِ عزیز میں اب معیارات بدل رہے ہیں، سوچ کا زاویہ تبدیل ہو رہاہے، سرکار سے ہمیشہ سچائی وعوامی مفاد کے لئے لڑنے والی سوچ بھی اب کارِ سرکار سے حاصل ہونے والی خوشحالی و مراعات کی رسیا ہو گئی ہے، مِیں اسے ایک دوسرے زاویے سے بھی دیکھتا ہوں، جس طرح سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو معاشرہ اچھی نظر سے نہیں دیکھتا، اسی طرح ایک خاص شعبے سے زندگی بھر عوام کی ذہن سازی کرنے والے جب وفاداری تبدیل کر کے دوسرے شعبے سے پینگیں بڑھاتے ہیں، تو عوام کے ذہنوں میں لا محالہ سوالات جنم لیتے ہیں اور اگر صورت ِ حال کچھ ایسی ہو کہ جیسی نجم سیٹھی صاحب کی تقرری کے لئے پیدا کی گئی ، تو معاملہ کچھ زیادہ ہی قابل اعتراض اور مشکوک ہو جاتا ہے۔ ایک شخص جب ساری زندگی قانون، آئین اور میرٹ کی بات کرتے کرتے دوسری طرف کی صفوں میں شامل ہو جائے تو اسے اپنے فیصلے کی قیمت تو چکانی پڑتی ہے۔

ہمارا مشورہ یہ ہے کہ نجم سیٹھی اگر اہل ِ اقتدار میں شامل ہو گئے ہیں، تو اب اپنا دل بھی اُن جیسا بنا لیں۔ اہل ِ اقتدار کو ساکھ نہیں اقتدار بچانے کی فکر زیادہ ہوتی ہے۔ اگر نجم سیٹھی چھوٹی چھوٹی باتیں دل کو لگاتے رہے، تو اقتدار کے مزے نہیں لوٹ سکیں گے، بلکہ اُلٹا جلنا اور کڑھنا ان کا مقدر بن جائے گا۔ عمران خان نے اگر کچھ کہہ ہی دیا ہے تو نجم سیٹھی صاحب اسے دوسرے کان سے باہر نکال دیں، کیونکہ وہ اس پوسٹ کے لئے اپنا استحقاق کسی صورت ثابت نہیں کر پائیں گے۔ عمران خان تو ایک سیاسی رہنما ہیں، انہیں یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ35حلقوں میں پنکچرز لگائے گئے ہیں یا نہیں البتہ نجم سیٹھی صاحب کو یہ ضرور ثابت کرنا پڑے گا کہ انہیں کس صلے میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے وزیراعظم نے پی سی بی کا چیئرمین بنایا ہے۔ نجم سیٹھی صاحب کو جماعت اسلامی کے امیر منور حسن کا یہ بیان بھی یاد رکھنا چاہئے کہ پہلے حکمران سیاست کو کھیل سمجھتے تھے، اب انہوں نے کھیل کو بھی سیاسی بنا دیا ہے۔ گویا یہ بات اب سب کی نظر میں ہے کہ پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ میں سیاسی مداخلت ہوئی ہے، خود پیپلزپارٹی بھی جو اُن کی خیر خواہ تھی، اس تقرری کو خلاف ضابطہ قرار دے رہی ہے۔ ایسے میں نجم سیٹھی صاحب کو چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھنے کی بجائے پوری توجہ پی سی بی کے معاملات پر دے کر انہیں بہتر بنانا چاہئے۔ اگر وہ اپنی محنت اور کوشش سے پاکستان کرکٹ ٹیم کو سیاست اور گروپ بندی سے پاک کر کے بڑی ٹیم بنانے میں کامیاب رہتے ہیں تو یہ کامیابی ان کے تمام داغ دھو ڈالے گی۔

مزید : کالم