کیا ہم سب ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہیں گے؟

کیا ہم سب ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہیں گے؟

حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس میں دونوں جانب سے امن کے منافی سرگرمیوں پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات سے مذاکرات جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں جانب سے امن کے منافی کارروائیوں کو بند کرنے کا اعلان کیا جائے تاکہ اشتعال نہ پھیلے۔ کہا گیا ہے کہ کراچی دھماکے جیسے واقعات جاری رہے تو مذاکرات جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ طالبان کمیٹی نے کہا ہے کہ پائیدار امن کے لئے حکومت کی طرف سے بھی طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔ اُدھر کراچی میں رینجرز کے ونگ کمانڈر کی گاڑی پر خود کش حملے میں چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ بلوچستان میں یرغمالیوں کو چھڑانے کے لئے جانے والی ٹیم کے اے ، سی ، دو تحصیل داروں، رسالدار اور چھ اہلکاروں کو بھی اغوا کر لیا گیا ہے۔پاکستان کو سیکیورٹی کے درپیش مسائل کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت ملک میں دشمن قوتوں کا زور بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر کسی جگہ مختلف گروہ سیاسی اختلافات اور حکومت کی طرف سے طاقت کے استعمال کی وجہ سے بگڑ کر قانون کو اپنے ہاتھ میںلئے بیٹھے ہیں، تو دوسری جگہ افغانستان میں ہونے والے اتحادی افواج کے خلاف جنگ کے اثرات نے طالبان پاکستان کو دہشت گردی پر آمادہ کر رکھا ہے۔ کہیں بھتہ خور، اغوا برائے تاوان والے، ٹارگٹ کلرز کے مفادات پر زد پڑنے اور خود کو حکومتی مشینری کا تحفظ حاصل نہ رہنے کی وجہ سے کلبلا رہے ہیں تو کہیں ہمارے دشمن کے تیار کئے ہوئے اور دشمن کے اسلحہ سے لیس غیر ملکی گماشتے دہشت گردی میں مصروف ہیں۔ دشمن کی طرف سے اربوں روپے کے مصارف سے ملک کے مختلف خطوں کے عوام میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا کی جا رہی ہے اور فرقہ وارانہ عصبیت پھیلانے کے لئے بھی ملک میں کروڑوں ڈالر آ رہے ہیں۔ اس سب کچھ کے متعلق انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی مسلسل حکام بالا کو آگاہ کر رہی ہیں، ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے حکمرانوں کے نزدیک قوم و ملک کو بربادی کی طرف دھکیلنے والی ان کارروائیوں کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔ انہیں ان کے تدارک کی اس حد تک فکر ہی نہیں جس حد تک یہ سب کچھ بڑھ چکا ہے۔

اس وقت ہم حالت جنگ میں ہیں،تحفظ پاکستان ایکٹ کے تحت ہر طرح کے ملک دشمن کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے کی ضرورت اب تک بہت واضح ہو کر سامنے آ چکی ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ جہاں حکومت کو سنجیدگی سے مذاکرات اور معاملات کے سیاسی حل ڈھونڈنے کی ضرورت ہے، وہاں سیاسی حل تلاش کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں ہو رہی، جہاں سیکیورٹی ایجنسیوں کی کارروائی ضروری ہے، وہاں ان ایجنسیوں کو بھرپور سیاسی تائید و حمایت نہیں مل رہی۔ عشروں تک اس انتہائی اہم پہلو کو نظر انداز کئے رکھنے کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اب ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کر کے فتنہ پرور قوتوں پر بھرپور وار کرنے کا وقت آن پہنچا ہے، لیکن اس سے بھی پہلے حکومت کو سیاسی حل کے لئے بھرپور اور جامع کوششیں بھی تیزی سے آگے بڑھانا ہوں گی۔ افواج پاکستان کو سیاسی قیادت کا بھرپور ساتھ دینا ہو گا اگر ایسا نہ ہو سکا تو نہ وہ لوگ واپس مین سٹریم میں آ سکیں گے، جن کے کچھ گلے شکوے دور کرنے سے انہیں پاکستان کی طاقت بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی جرائم پیشہ افراد کے مختلف گروہوں پر قابو پایا جا سکے گا۔ اس وقت بگڑے ہوئے بہت سے لوگوں کے ایسے بہت سے گلے شکوے حکومت کے پاس موجود ہیں، جن کا تدارک معمولی توجہ سے کیا جا سکتا ہے ۔ مثلاً طالبان کی طرف سے اپنے بوڑھوں اور بچوں کی رہائی کا مطالبہ اور اس طرح کی اور بہت سی باتیں ایسی ہیں،جن پر توجہ دینے سے بگاڑ اور بڑھانے اور پھیلانے سے اجتناب کیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان اور سندھ کی حکومتوں سے عسکری قیادت کے علاوہ وفاقی حکومت کا مسلسل رابطہ رہنا چاہئے، ان حکومتوں کو دہشت گردوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت دینے کے بعد ان پر درست سمت میں کام کرنے کا دباﺅ رہنا ضروری ہے۔ اس موقع پر یہ امر بھی بہت افسوسناک ہے کہ سیاسی جماعتوں کی قیادت اور ان کے کارکنوں کی طرف سے بیانات سے آگے قومی مصالحت اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے کوئی ٹھوس عملی اقدامات سامنے نہیں آرہے۔ نہ ہی سیاسی جماعتوں اور حکومتی جماعتوں کی طرف سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے رضا کار تنظیمیں بنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے اور نہ قومی سیاسی جماعتوں کے کارکن اور جیالے کسی طرح فساد زدہ علاقوں میں جانے اور پاکستانی قیادت کا متفقہ پیغام عام لوگوں تک پہنچانے اور انہیں افواہوں اور غلط فہمیوں کے جال سے نکالنے کا کوئی کام کر رہے ہیں۔

تیزی سے معاملات آگے نہ بڑھائے گئے تو پھر حالات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے ان کے ایک ایسی نہج پر پہنچ جانے کا امکان موجود رہے گا، جہاں ہمارے دشمن کے علاوہ کوئی بھی خوش نہیں ہو گا۔ طالبان اور حکومت کی طرف سے منفی اور مذاکرات کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کارروائی سے اجتناب کا فوری اعلان ہونا چاہئے کہ یہ مذاکرات امن کے لئے ہیں ایک دوسرے پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے اور دشمنان پاکستان کی خوشی کا سامان کرنے کے لئے نہیں۔

موجودہ ہنگامی حالات میں سول سوسائٹی کو بھی میدان میںآنا چاہے۔ عوام کو دہشت گردی سے محفوظ رہنے کے لئے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا شعور دینے کے علاوہ رضاکاروں کی تربیت اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے درکار ڈسپلن اور کام کا شعور عام کرنے کی ضرورت ہے۔ مختلف علاقوں کے لوگوں کے اپنے ارد گرد پر نظر رکھنے اورکسی شک و شبہ کی صورت میں سول ڈیفنس کے اداروں سے رابطے اور سیکیورٹی ایجنسیوں سے تعاون کے متعلق آگہی کے پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ بیروزگاروں کے لئے روزگار اور حاجت مندوں کی حاجت روائی بھی ضروری ہے۔

معاشرے میں ناانصافی کا خاتمہ اور رزق حلال کی رغبت پیدا کرنا، لوگوں میں قناعت اور کفایت شعاری کا مزاج پیدا کرنا اور ایک دوسرے سے تعاون اور ہمدردی کو فروع دینا بھی ان مسائل کے حل کے لئے اولین ضرورتیں ہیں۔ ان باتوں پر توجہ نہ دینے اور دوسروں پر ہونے والی ناانصافیوں سے مُنہ موڑنے ہی کی وجہ سے ہم ان حالات تک پہنچے ہیں۔ اس نہج کو نہ بدلنے اور اسی ڈگر پر چلنے کے نتائج بے حد سنگین ہو سکتے ہیں۔ تبدیلی بہت بڑے پیمانے پر ہر کہیں درکار ہے اور اس بڑے پیمانے کے کام کے لئے پوری قوم میں بیداری کی لہر پیدا کرنے کے لئے قوم کی رہنمائی اور ہمدردی کے تمام دعوے داروں کو فوری طور پر آگے آ کر اپنا اپنا مورچہ سنبھالنا ہو گا۔ اس وقت صورت یہ ہے کہ اپنے مورچے چھوڑ کر ہم سب اِدھر اُدھر گھومنے میں وقت گنوا رہے ہیں، جس سے دشمن کو ہماری صفوں میں گھس کر اپنی مرضی سے جس وقت اور جہاں چاہے کی بنیاد پر کارروائیاں کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ کیا ہم میں سے ہر کوئی اسے اپنی کے بجائے دوسروں کی جنگ سمجھتا رہے گا اور لاتعلقی کا مظاہرہ کرتا رہے گا؟

مزید : اداریہ