عدلیہ میں کرپشن....وکلاءکی تحریک

عدلیہ میں کرپشن....وکلاءکی تحریک

پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین محمد رمضان چودھری نے کہا ہے کہ2014ءکو کرپشن کے خاتمے کے سال کے طور پر منائیں گے۔ لاہور پریس کلب کے پروگرام ”میٹ دی پریس“ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ اور ماتحت عدلیہ میں کرپشن کی شکایات ہیں۔ عدلیہ میں کرپشن کے خاتمے کے لئے بھرپور معاونت کے علاوہ وکلاءمیں سے خود احتسابی کے ذریعے کرپشن ختم کریں گے۔ یہ درست ہے کہ ملک کے دیگر اداروں کی طرح عدلیہ میں بھی کرپشن موجود ہے۔ تاہم دیگر سرکاری اداروں کے افسروں کے برعکس عدلیہ میں جوڈیشل افسروں کو کھل کھیلنے کے زیادہ مواقع میسر نہیں آتے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے احتساب کے لئے سپریم جوڈیشل کونسل کے نام سے آئینی ادارہ موجود ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں ججوں کے خلاف ریفرنسز کی سماعت کے ایک دو واقعات ہی پیش آئے ہیں۔ ماتحت عدالتوں کے ججوں کے خلاف کارروائی کا بھی مو¿ثر میکنزم موجود ہے، کسی جج کے خلاف بے بنیاد درخواست بھی دے دی جائے تو اسے انکوائری کئے بغیر داخل دفتر نہیں کیا جاتا، حتیٰ کہ اپیل کی سماعت کے دوران ماتحت عدالتوں کے کسی جج کے فیصلے سے بھی کرپشن کی بُو آ جائے تو اعلیٰ عدالتوں کے جج اس کے خلاف آبزرویشن دے کر معاملہ انضباطی کارروائی کے لئے بھجوا دیتے ہیں۔ ماتحت عدالتوں کے ججوں کی تنخواہیں دیگر سول ملازمین کی نسبت تین گنا زیادہ ہیں۔ اس بنا پر بھی رشوت ستانی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ دوسری طرف عدالتی عملہ اس حد تک بدنام ہے کہ کہا جاتا ہے رشوت دیئے بغیر تاریخ بھی نہیں ملتی۔ ماتحت عدالتوں کے جج بھی اپنے عملے کی ایسی کارستانیوں پر چشم پوشی سے کام لیتے ہیں۔ ماتحت عملے کا طرز عمل عدلیہ میں کرپشن اور بدنامی کا بڑا سبب ہے، ماتحت عملے سے ”تعاون“ کو وکلاءمیں بھی ناپسندیدہ نہیں سمجھا جاتا۔کرپشن کے ایسے واقعات عدلیہ اور اس کے ججوں پر بداعتمادی کا بھی باعث بنتے ہیں۔ انصاف فراہم کرنے والے اداروں پر سے عوام کا اعتماد اُٹھ جائے تو لوگ قانون کو ہاتھ میں لینے سے نہیں ہچکچاتے، جس سے معاشرے میں انتشار پھیلنا اور جرائم میں اضافہ یقینی بن جاتا ہے، وکلاءکی طرف سے کرپشن کے خلاف تحریک خوش آئند ہے۔ جب تک عدالتیں انصاف فراہم کرتی رہتی ہیں معاشرے قائم رہتے ہیں۔ وکلاءنیک نیتی سے عدلیہ میں کرپشن کے خاتمے کے لئے برسر پیکار ہو جائیں ،تو کوئی وجہ نہیں کہ انہیں کامیابی نصیب نہ ہو۔

مزید : اداریہ