خیبر پختونخوا کی اپوزیشن جماعتوں کا بلدیاتی انتخابات جلد کرانے کا مطالبہ

خیبر پختونخوا کی اپوزیشن جماعتوں کا بلدیاتی انتخابات جلد کرانے کا مطالبہ

پشاور(پاکستان نیوز)خیبرپختونخوا کی اپوزیشن جماعتوں کا سہ فریقی اجلاس ۔ پیپلز پارٹی ‘ عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماءاسلام کے مرکزی و صوبائی قائدین کی شرکت ۔ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات جلد کرانے کا مطالبہ ۔ ضلعی تنظیموں کو سہ فریقی تنظیموں کی تشکیل کی ہدایات۔ بائی حکومت قوم کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام اور بے بس ہے اےسے لوگوں کو قوم پر مسلط رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔سہ فریقی اتحاد کے جنرل سیکرٹری نجم الدین خان نے جاری کرتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا کی اپوزیشن جماعتوں کا سہ فریقی اجلاس گزشتہ روز میاں افتخار حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ اجلاس میں پاکستان پےپلز پارٹی کی طرف سے رحیم داد خان ‘ نجم الدین خان ‘ فیصل کریم خان کنڈی ‘ انجینئر ہمایوں خان جبکہ جمعیت علماءاسلام (ف) کی نمائندگی مولانا عطاءالرحمن ‘ مولانا امانت شاہ ‘ سینیٹر حاجی غلام علی اور عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے خوشدل خان ‘ ملک غلام مصطفی ‘ سید عاقل شاہ اور صدر الدین نے نمائندگی کی۔اجلاس میںخیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تفصیلی غورو خوض کے بعد مطالبہ کیا گیا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں جلد از جلد بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کےلئے شیڈول کا اعلان کیا جائے ۔ سہ فریقی اتحاد بلدیاتی انتخابی میدان میں اترنے کےلئے مکمل تیار ہے اور اس حوالے سے تمام ضلعی تنظیموں کو ہدایات کی گئی کہ وہ مل بیٹھ کر ضلعی سطح پر اپنے اپنے اضلاع کی سہ فریقی تنظیم تشکیل دیکر رپورٹ مارچ کے پہلے ہفتے تک صوبائی تنظیم کو ارسال کریںاور ہر ضلع میں متفقہ امیدواروں کےلئے مشاورت کا عمل شروع کیا جائے ۔ اجلاس میں سہ فریقی اتحاد ضمنی انتخابات میں حکومتی امیدواروں کےخلاف یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا اوراس حوالے سے لائحہ عمل تیار کر نے کےلئے آئندہ اجلاس 17فروری کو طلب کرلیا گیا ۔ اجلاس میں حالیہ واقعات کی پر زور مذمت کرتے ہوئے شہید ہونے والے افراد کےلئے اجتماعی دعا کی گئی اور اجلاس میں سہ فریقی اتحاد کے صدر میاں افتخار حسین کے گھر پر فائرنگ کی پرزور الفاظ میں مذمت کی گئی ۔اجلاس میں مسجد اور مدرسوں میں ہونےوالی دہشتگردی کے شہداءکےساتھ امتیازی سلوک کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ تمام شہداءو زخمیوں کو یکساں معاوضہ دیا جائے ۔ سہ فریقی اتحاد یہ سمجھتا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے کے عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ۔ اس وقت صوبے کے عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔ عوام اغواءبرائے تاوان ‘ بھتہ خوری اور کمر توڑ مہنگائی ‘ بےروزگاری اور بدامنی سے عاجز آچکے ہیں اور حکومت اخلاقی جواز کھوچکی ہے ۔ صوبائی حکومت قوم کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام اور بے بس ہے اےسے لوگوں کو قوم پر مسلط رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ۔ اجلاس میں سہ فریقی اتحاد نے ملک میں جاری امن مذاکرات کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے خواہش کا اظہار کیا کہ مذاکرات میں مزید سنجیدگی لانے کےساتھ ساتھ اس کی کامیابی کےلئے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائی جائےں ۔ آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے جو مینڈیٹ دیا تھا سہ فریقی اتحاد آج بھی اس مینڈیٹ کی حمایت کرتا ہے ۔

اپوزیشن جماعتیں

مزید : صفحہ آخر