شریف برادران کی مقبولیت کا سٹنٹ

شریف برادران کی مقبولیت کا سٹنٹ
 شریف برادران کی مقبولیت کا سٹنٹ

  

کتنی خوش بخت ہے یہ قوم،جس کے دو رہنما میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہاز شریف نہ صرف ملک، بلکہ بیرون ملک بھی اتنے مقبول ہیں کہ ’’مقابل نہیں کوئی دور تک‘‘۔۔۔ ہر عدالت میں، ہر اخبار اور چینل پر، ہر چوک اور چوپال میں، ہر گھر، دفتر، کنٹینر اور ہر ٹرک پر، جس کا جتنا دل چاہا، جن الفاظ میں چاہا ’’نواز شریف چور ہے، نواز شریف کے بچے دو نمبر طریقے سے پیسہ لوٹ کر بیرون ملک جائیداد اور کاروبار بڑھا رہے ہیں، شہباز شریف کو سڑکوں، پلوں اور شادیوں کے سوا کوئی کام نہیں۔ ان کے بچے اور وزیر ٹھیکوں میں کمیشن کے سہارے زندہ ہیں‘‘۔۔۔ گویا جتنے منہ اتنی باتیں، لیکن انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹیٹیوٹ (IRI) اور انسٹیٹیوٹ فارپبلک اوپینیئن ریسرچ (IPOR) نے حالیہ سروے رپورٹ میں دونوں بھائیوں کو پاکستان بھر میں مقبولیت میں نمبرون ظاہر کر کے ’’دشمنوں‘‘ کے دانت کھٹے کر دیئے ہیں:

یہ رتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا

رپورٹ کے مطابق میاں محمد نواز شریف 63 فیصد عوام کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں۔ 67 فیصد عوام بطور وزیراعظم ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ 64 فیصد عوام نے وفاقی حکومت کے اقدامات اور کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ 79 فیصد عوام نے پنجاب حکومت کی کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے خود کو پنجاب میں محفوظ قرار دیا۔ عمران خان دوسرے نمبر پر ہیں،ان کی مقبولیت کی شرح 39 فیصد، جبکہ بلاول زرداری 32 فیصد کے ساتھ تیسرے درجے پر ہیں۔ غیر مقبولیت کے گراف میں بھی قومی سیاست کے تین بڑے شامل ہیں۔پہلے نمبرپر الطاف حسین 85 فیصد، دوسرے نمبرپرآصف زرداری 80 فیصد، اورتیسرے نمبر پر علامہ طاہر القادری 79 فیصد ووٹنگ پر ہیں۔ اسی طرح پسندیدہ صوبائی حکومتوں میں پنجاب 79 فیصد، خیبرپختونخوا 72، سندھ 54 اور بلوچستان حکومت 48 فیصد ووٹ حاصل کر سکی، جبکہ پاناما کیس کے حوالے سے 64 فیصد عوام نے عدم دلچسپی، 38 فیصد نے ملے جلے خیالات کا اظہار اور 26 فیصد نے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مقبولیت کے ریکارڈ اپنی جگہ، لیکن دل ہے کہ مانتاہی نہیں ۔۔۔ تحقیقاتی ادارے ہوں یا تفتیشی ادارے، قانون بنانے والے ادارے ہوں یا اسے نافذ کرنے والے، سب پر اعتماد سا اٹھ گیا ہے۔ ادھر یہ سیاستدان آسمانی مخلوق ہیں ،نہسروے کرنے والے فرشتے، پھر بھروسہ کس پر ہو؟ کوئی ایک بھی تو ایسا نہیں، جس کے نہ بکنے کی قسم کھائی جا سکے۔ پوری قوم بازار مصر کی تاجر بنتی جا رہی ہے۔ اگر کھلی آنکھوں کے خوابوں کی تعبیر مل بھی جائے تو وہ زمینی حقائق سے لگا نہیں کھاتی۔ آئی آر آئی کے گراف کو تسلیم کربھی لیا جائے تو کیا کوئی ادارہ بتائے گا کہ مقبولیت پرکھنے کا پیمانہ یا ’’طریق واردات‘‘ کیا ہوتا ہے؟۔۔۔ اور کاش کوئی حقیقت بتا بھی سکے!

حقیقت تو یہ ہے کہ کچھ دے دلا کر یا دیئے لئے بغیر بھی مقبولیت حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ مدفون مغلیہ خاندان سے لے کر مقبول شریف خاندان تک، تاریخ ایسی شخصیات سے بھری پڑی ہے،جن کے لئے ملک کے ایک کونے میں زندہ باد کے نعرے لگتے رہے اور باقی کونوں سے ’’مردہ باد‘‘ کے۔ 63 فیصد نامعلوم افراد کہتے ہیں: ’’قدم بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ اور باقی 37 فیصد طاقتور ’’جنات‘‘ اتنے زور سے ٹانگیں کھینچتے ہیں کہ قدموں کے نشان تک مٹ جاتے ہیں۔ ایک دور میں پاکستان کا سب سے کرپٹ شخص اور پارٹی چیئرمین کا شوہر ہونے کے باوجود سب سے غیر اہم کارکن، اگلے پانچ سال بعد خود پارٹی کا چیئرمین بھی بنا اور ملک کا صدر بھی۔ آئی آر آئی کے گراف میں ہے کہ وہ غیر مقبولیت میں دوسرے نمبر پر ہیں، لیکن پیپلز پارٹی کے بزرگ ترین رہنماان کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کرپٹ ترین شخص کو پارٹی چیئرمین اور ملک کا صدر بنانے والے نامعلوم افراد کہاں گئے اور اسے ناپسندیدہ قرار دینے والی مخلوق کہاں سے آگئی؟کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ پرویز مشرف کے آنے پر مٹھائیاں بانٹنے والے کہاں سے آئے اور ان کے جانے پر بھی مٹھائیاں بانٹنے والے کہاں گئے؟

2013ء کے الیکشن میں بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کو مسترد کر کے عمران خان کے نام پر تحریک انصاف کو ملک کی دوسری بڑی جماعت بنانے والوں نے اب عمران خان کو صرف 39 فیصد ووٹ کیسے دئیے؟نواز شریف کی دوسری وزارت عظمیٰ کے دور میں ان کی گرفتاری پر خوش ہونے والے اور پھر تیسری باروزیر اعظم اور دوصوبوں میں ان کی حکومت بنانے والے کون تھے؟ ہر روز ان کی لوٹ مار کی کہانیوں پر گالیاں دینے والے ماتم کناں کون ہیں اور پھر انہیں سب سے مقبول بنانے والے کہاں سے آگئے؟ تفصیل میں جائیں تو دماغ چکرا کے رہ جائے۔ مقبولیت اور غیر مقبولیت کی ایسی ایسی داستانیں ہیں کہ کئی کتابیں مرتب ہوں۔ تحریک انصاف، اس کے ہم خیال اور بعض حاسدین مقبولیت کے گراف کو شریف برادران کا ’’فلمی سٹنٹ‘‘ قرار دیتے ہیں۔ میڈیا کے بعض شرارتی ذہنوں نے بھی اس ’’مقبولیت‘‘ کے بخیے ادھیڑے۔ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے کہ اداروں پر اعتماد تو ہمارا بھی اٹھ گیا ہے۔ یار لوگ اس مقبولیت کو فلمی سٹنٹ کہیں یا سیاسی، میرے خیال میں یہ صرف آج کل ہسپتالوں میں ملنے والا سٹنٹ ہے۔ غیر معیاری، گھٹیا، ناپائیدار، ناقابل اعتبار اور حد درجہ مہنگا۔ جو جان لیوا آپریشن کے کچھ عرصے بعد دل کے مریض کو دوبارہ سٹنٹ ڈلوانے کے قابل کردیتا ہے۔ انتہائی معیار ی اور قابل بھروسہ سٹنٹ تو بیرونی ممالک سے ملتا ہے، لیکن ہمارے ہسپتال 4,5 ہزار روپے والے غیر معیاری، گھٹیا اور مقامی سٹنٹ پر غیر ملکی مہر لگوا کر 5,4 لاکھ روپے میں بیچ کر عوام کی شریانوں میں پیوست کر دیتے ہیں، بالکل آئی آر آئی کے سروے کی طرح۔ مضبوط ڈنڈے اور زیادہ پیسے کے زور پرحاصل کی گئی مقبولیت بھی ایسا ہی گھٹیا، ناپائیدار اور ناقابل اعتبار سٹنٹ ہے۔ قوم کے دلوں اور دماغوں کے اندر بسنے والی مقبولیت کا گراف ہی قابل اعتبار، معیار اور پائیدار ہوتا ہے۔۔۔اگر سیاستدانوں کی شریانیں اسے قبول بھی کریں تو۔۔۔!

مزید :

کالم -