آئی جی سندھ کی سچی باتیں

آئی جی سندھ کی سچی باتیں
 آئی جی سندھ کی سچی باتیں

  


سندھ کے آئی جی اے ڈی خواجہ نے ایوان صنعت و تجارت کراچی کے اجلاس میں وہ سب باتیں کہہ دیں جو عرصہ دراز سے عوام کے دلوں میں چھپی ہوئی تھیں۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ ابھی تک ملک میں انگریزوں کا 1861 ء میں پولیس کے لئے بنایا ہوا فرسودہ قانون نافذ ہے، جسے ایک غلام ملک کی رعایا پر حکومت کرنے کے لئے وضع کیا گیا تھا،اسی قانون کے باعث پولیس ابھی تک پبلک سرونٹس کی حیثیت اختیار نہیں کرسکی۔ دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ سیاسی بھرتیوں اور سیاسی تقرروتبادلوں کے ذریعے پولیس کو سیاسی رنگ میں رنگ دیا گیا ہے جس کے باعث پولیس اپنی حقیقی ذمہ داریوں اور فرائض سے دور ہوگئی ہے۔ تیسری اس حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ 1990ء کی دہائی میں کراچی میں دہشت گردی اورقتل و غارت کے خلاف آپریشن کرنے والے پولیس افسران کو ٓآپریشن کے بعد نشانہ بننے والے جرائم پیشہ افراد نے قتل کردیا اور ان کے قاتل اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ گئے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو سب کے علم میں ہیں، لیکن اب صوبے کی پولیس کے سربراہ بھی ان حقائق سے پردہ اٹھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

پولیس کی منہ زوری، سیاسی استعمال اور نااہلی سب سے زیادہ سندھ اور اس کے بعد پنجاب میں نظر آتی ہے۔ پولیس سے متعلق 1862ء کے انگریزی قانون میں تبدیلی نہ کرنے کی وجہ بھی ہمارے سیاست دان ہی رہے ہیں جو انگریزوں کی طرح اپنے عوام کو ایک غلام قوم کا ہی درجہ دیتے ہیں اور پولیس کے ذریعے کمزوروں کو دباکر رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے ارکان اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا بنیادی مقصد بھی عوام کی خدمت کرنے کی بجائے پولیس پر کنٹرول حاصل کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان میں ہر کھاتا پیتا شخص اگر پولیس افسروں کے تقرروتبادلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتا تو اپنے روپے پیسہ کے ذریعے پولیس افسروں سے مراسم استوار کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے، حتیٰ کہ کاروباری اشخاص بھی اپنی مارکیٹوں میں اپنے علاقے کے ایس ایچ او صاحبان کی تعریف میں بینر آویزاں کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ اس کا مقصد بھی علاقے کے غریب اور کمزور لوگوں کو دبانا اور محکوم بنانا ہوتا ہے۔ اس طرح کسی حد تک ہم اپنے ملک کو پولیس سٹیٹ میں تبدیل کر چکے ہیں۔ منہ زور پولیس افسروں کے احتساب کا نظام بھی بہت کمزور ہے اور پولیس ملازمین کے صرف ان جرائم پر چھوٹی موٹی کارروائی کی جاتی ہے، جہاں ملک کا میڈیا ان زیادتیوں کو عوام کے سامنے لاتا ہے، ورنہ پولیس افسران ماتحت عدلیہ کی پروا کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔اعلیٰ پولیس افسران اپنے مطلب کی تقرریاں حاصل کرنے کے لئے حکمرانوں کے کاسہ لیس بن چکے ہیں اور ان کی ہر جائز و ناجائز خواہش کو پورا کرنا اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہیں۔ ملک میں منظم انداز میں جرائم کرنے والے لوگ پولیس افسروں کو اپنی آمدنی میں پارٹنر بنا چکے ہیں، جس کی وجہ سے کوئی شریف آدمی اپنی فریاد لے کر تھانے جانے سے خوف کھاتا ہے۔ اسے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوتی ہے کہ وہ تو اپنی بہت بڑی مجبوری کے تحت ہی تھانے جائے گا، لیکن جن لوگوں کے خلاف وہ فریاد لے کر تھانے جائے گا، ان کا تو دوسرا گھر ہی تھانہ ہے ۔ سندھ کا تو باوا آدم ہی نرالہ ہے لیکن پنجاب میں تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کتنی کوشش کی ہیں جس میں سب سے بڑی کوشش تھانے داروں کی پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے تقرری کا فیصلہ ہے۔ ہمارے لوگ پولیس فورس کو دو مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ایک مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ وہ کمزور اور بے آسرا لوگوں پر حکمرانی کریں اور دوسرا مقصد نا جائز طریقوں سے دھن دولت اکٹھا کرنا ہوتا ہے۔ یہ دونوں مقاصد تو پولیس فورس کے نچلے درجے کے افسروں اور ملازمین کے اس فورس میں شمولیت کے بنیادی مقاصد ہیں، لیکن مقابلے کے امتحان کے ذریعے پولیس فورس میں شامل ہونے والے اعلیٰ افسران کے پیش نظر زیادہ ترایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ وہ ڈنڈے اور قانون کی طاقت سے حکمرانی کے نشے سے سرشار ہو سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر بننے والے لوگ مقابلے کا امتحان دے کر پولیس افسر بن رہے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم نے پولیس کے ان اعلیٰ افسران کو مہذب پولیس کے کردار سے تو متعارف کروایا ہے، لیکن یہ افسران اپنے ملک میں پولیس کی مہذب دنیا جیسی کردار سازی میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں پولیس فورس کو سدھارنے کا مطلب ہوگا کہ ہم نے 50فیصد سے زائد حالات کو سدھار لیا ہے۔ ایسا کرنے کا مطلب ہوگا کہ ہم ملک میں قانون کی حکمرانی اور جرائم کے خاتمے کی جانب گامزن ہو چکے ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف مبارک باد کے مستحق ہیں جن کی ہدایت پر قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی نے فرسودہ قوانین میں وسیع ترامیم تیار کرلی ہیں جنہیں جلد ہی قومی اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ اس طرح قیام پاکستان کے 68سال بعد دورِ غلامی کے اس اہم قانون سے نجات مل جائے گی۔ یہ وہ قانون ہے جس کے ذریعے انگریزوں نے پولیس کو اپنی نو آباد یوں میں ایک مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور قوموں کو غلام بناکر رکھا۔ پولیس کے ذریعے حاصل کئے جانے والے پروٹوکول کو بھی کم کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ غریب ملکوں میں پروٹوکول ایک نہ ختم ہونے والی بیماری کی طرح موجود ہے جبکہ وہ ممالک جو ہم جیسے ملکوں کو قرضہ دیتے ہیں، وہاں لوگ پروٹوکول کے لفظ سے بھی آشنا نہیں۔ برطانیہ جس نے آدھی سے زائد دنیا پر حکومت کی، اس کاوزیر اعظم ٹرین میں کھڑا ہو کر سفر کرنے کو بھی اپنی توہین نہیں سمجھتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کوئی مسافر اٹھ کر اسے اپنی نشست پیش نہیں کرے گا۔مجھے نہیں معلوم کہ ایک لمبے چوڑے پروٹوکول کے ذریعے حکمران اپنے دل و دماغ کو تسکین پہنچاتے ہیں یا پروٹوکول کے درمیان سفر کرتے ہوئے وہ اپنے لوگوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ان کے نزدیک ان کی حیثیت کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں۔ اب تو دہشت گردی کے باعث اعلیٰ سرکاری افسران اور بعض منہ زور ارکان اسمبلی بھی سیکیورٹی کے نام پر پروٹوکول کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ اس بڑھتے ہوئے پروٹوکول کی فراہمی کا ذریعہ پولیس ہے جو حکمرانوں کو پروٹووکول دے کر اور ان کے برتری کے جذبوں کو تسکین پہنچا کر یہ سمجھتی ہے کہ اس نے یہ خدمت سرانجام دے کر نہ صرف حکمرانوں کے دل میں اپنے لئے نرم گوشہ پیدا کرلیا ہے، بلکہ اپنے تمام فرائض منصبی بھی ادا کرلئے ہیں، اس لئے اب اس فورس کو اپنے دیگر فرائض ادا کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔اس لئے پولیس اصلاحات میں اس پہلو پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مزید : کالم