سانحہ لاہور ،نیشنل ایکشن پلان اور قومی ذمہ داری

سانحہ لاہور ،نیشنل ایکشن پلان اور قومی ذمہ داری
 سانحہ لاہور ،نیشنل ایکشن پلان اور قومی ذمہ داری

  

لاہور کے بھیانک واقعے کے نتیجے میں پولیس افسران اور جوانوں کی شہادتیں کئی سوال چھوڑ گئی ہیں ۔ کوئی سانحے کو حکومت کی نااہلی قرار دے رہا ہے تو کوئی اس کو لاہور میں متوقع کرکٹ میچ فائنل سے منسوب کر رہا ہے ۔ اس تکلیف دہ حادثے میں نقصان پاکستان کا ہوا ہے ۔ پاکستان کے انٹیلجینس اداروں نے اس قسم کے واقعے کی پیشگی اطلاعات دی تھیں۔ مظاہرین سے مذاکرات کے دوران اُن کو اِن خطرات سے آگاہ بھی کیا گیا تھا مگر اُن کی ہٹ دھرمی نے حکومت کو بے بس کر دیا ۔ مظاہرین حکومت کی تمام تر کاوشوں کے باوجود اپنے مطالبات کے حصول کے لئے لگ بھگ سات گھنٹے تک دھرنا دے کر بیٹھے رہے ۔ اسی کشمکش میں دہشت گردوں کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی حاصل ہوئی اور لاہور کی سڑکیں خون میں نہا گئیں ۔ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ کیا وہ وقت آ نہیں گیا کہ ہم اپنی انفرادی سوچ کو قومی سوچ میں تبدیل کریں اور قومی مفاد کو اپنے ذاتی مفاد پر ترجیح دیں ۔یہ امر قابلِ اطمینان ہے کہ حکومت پاکستان نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے سانحہ لاہور کے بعد اپنے حالیہ خطاب میں اس اہم پہلو پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور قوم کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس بات کا عندیہ دیا کہ نیشنل ایکشن پلان کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ نیشنل ایکشن پلان کی مانیٹرنگ کے لئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو پروگرام پر عملدرآمد پر نظر رکھے گی۔ ان احسن اور غیرمعمولی اقدامات سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ فوج اور حکومت ایک صفحہ پر ہیں ۔

پاکستان آج کل جن کٹھن مراحل سے گزر رہا ہے اور فوج نے آپریشن ضربِ عضب کے ذریعے ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کا جو قدم اٹھایا ہے، اس سے واضح کامیابیاں ملی ہیں، لیکن اس ضمن میں مزید اقدامات کی گنجائش بہر حال موجود ہے اور قومی سطح پر اس آپریشن کو تقویت دینے کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ آپریشن ضربِ عضب کے ساتھ ہی نیشنل ایکشن پروگرام جو کہ تمام قومی، سیاسی و مذہبی جماعتوں و مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندوں کی تائید و حمایت کے ساتھ ترتیب دیا گیا تھا۔ یہ ایک قومی سطح کا ایسا جامع منصوبہ ہے، جس کے ہر نقطہ پر قومی و سیاسی قیادت متفق تھی، جس کے باعث یہ ایک قومی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔ ان حالات میں نیشنل ایکشن پروگرام قومی دستاویز سے کم حیثیت کا حامل نہیں۔ اس کی اہمیت و افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے آج بھی اس پر عملدرآمد کے ذریعے دہشت گردی، فرقہ واریت، ٹارگٹ کلنگ و کرپشن سے نجات حاصل کر سکتے ہیں اس لئے پوری قوم کو ایک نئے جذبے اور ولولے کے ساتھ اس پر عملدرآمد کے لئے فوج و حکومت کا ساتھ دینا چاہیئے۔ پاکستان کا المیہ یہ رہا ہے کہ بہت سے کارآمد منصوبے سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھ گئے، لیکن امید ہے کہ اب ایسا نہیں ہو گا، کیونکہ اس جامع منصوبے میں دہشت گردی کے خاتمے ، قیام امن، فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے فرقہ وارانہ لٹریچر، کتب، تقاریر اور لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال کی تجاویز شامل ہیں۔ خاص طور پر یہ نقطہ بہت اہم ہے کہ دینی مدارس کے نصاب کو بھی قومی دھارے میں لایا جا رہا ہے اور اس سے اس بات کی امید پیدا ہو رہی ہے کہ مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ نہ صرف معاشرے کے مفید شہری بن کر ابھریں گے، بلکہ شدت پسندی اور دہشت گردی سے محفوظ بھی رہیں گے۔

پاکستان کا ایک اہم ابھرتا ہوا مسئلہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال ہے، جس کے ذریعے لوگوں میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے اور غلط خبروں کے ذریعے ایک ہیجان بپا کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں سائبر کرائم کا بل منظور ہوا ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ اس کے ذریعے موثر پیشرفت ہو سکے گی۔ اس کی مثال ایف آئی اے کی حالیہ کامیاب کارروائیاں ہیں۔ پاکستان کی اقوام عالم میں حیثیت یکسر تبدیل ہو چکی ہے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور ملک کو اس ناسور سے نجات دلانے کی کوششوں نے پاکستان کو ایک محفوظ ملک کا سٹیٹس دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک سے سرمایہ کاری میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان یہ رسک نہیں لے سکتا کہ قومی سلامتی کے حوالے سے کوششوں میں کسی قسم کی سست روی برتی جائے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت اب تک ستر ہزار سے زائد دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے دو ہزار کے قریب اسلحہ بردار جنگجو گرفتار کیے گئے ہیں، جبکہ گرفتاریوں کے دوران بہت سے جنگجو مارے بھی گئے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت معلومات کے لئے جو ہیلپ لائن بنائی گئی ہے اس کی مددسے چودہ ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سو سے زیادہ ایسے اکاؤنٹ تھے جن سے دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کی جا رہی تھی ان کو سیل کر دیا گیا ہے۔ کراچی میں نیشنل ایکشن پلان کے اقدامات کے ذریعے ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت اب تک سیکڑوں مجرموں کو پھانسی دی گئی ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں موبائل سمیں بلاک کر دی گئی ہیں اور مذہبی منافرت پھیلانے کے جرم میں دو ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت اب تک کی کامیابیاں یقیناًقابل تحسین ہیں اور اس کے مثبت نتائج بھی قوم کے سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقوں کی طرف سے نیشنل ایکشن پلان پر تنقید کی جا رہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ یہ پلان ناکام ہو چکا، لیکن یہ غلط تاثر ہے۔ ہمیں ملک سے اس انتہا پسندانہ اور پاکستان مخالف سوچ کا بھی خاتمہ کرنا ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور پاکستان مخالف سوچ کا قلع قمع کرنے کے لئے موجودہ پالیسیوں کو جاری رکھیں، تاکہ پاکستان کو امن کا گوارہ بنایا جا سکے۔

مزید :

کالم -