مر کے بھی چین نہ پایا تو۔۔۔۔۔۔

مر کے بھی چین نہ پایا تو۔۔۔۔۔۔
 مر کے بھی چین نہ پایا تو۔۔۔۔۔۔

  

سانحہ لاہور کے اثرات تادیر محسوس ہوتے رہیں گے۔ میڈیا میں ابھی تک خبریں نشر اور شائع ہو رہی ہیں، کچھ دیر چلیں گی، پھر بتدریج کم ہوتی چلی جائیں گی اور بات بریکنگ نیوز تک آ جائے گی، شہدا کی تدفین ہو گئی، قریباً ایک درجن زخمی ہسپتالوں سے فارغ ہو کر گھروں کو چلے گئے اس کے باوجود ستر سے زیادہ لوگ زیر علاج ہیں ان میں سے آٹھ سے دس زیادہ زخمی ہیں، ان سب کی صحت یابی کے لئے ہر شعبہ زندگی کے لوگ دُعا گو ہیں، اللہ ان کو صحت دے۔

خیال تھا کہ گزشتہ دِنوں موت ہی کے حوالے سے پیش آنے والے ایک حادثے پر بات ہو گی، لیکن اس دوران یہ حادثہ جانکاہ پیش آ گیا تو سارا رُخ ہی اس

طرف پھر گیا۔ بات معمولی نہیں زندگی کا بہت بڑا حادثہ اور سانحہ ہے، ہماری رہائش مصطفےٰ ٹاؤن وحدت روڈ پر ہے جو ایل ڈی اے کی منظور شدہ رہائشی سکیم ہے اور اس کا کنٹرول بھی ایل ڈی اے ہی کے پاس ہے۔ یہ2009ء اپریل کا واقع ہے کہ ہماری اہلیہ کا انتقال ہو گیا، جلد ہی محلہ داروں اور عزیز و اقارب کو اطلاع مل گئی تھی۔ انوارالحق چودھری آئے تو تھوڑی ہی دیر بعد ہمارے ساتھی اور برادر میاں اشفاق انجم بھی آ گئے ان حضرات نے مل کر کفن دفن کا انتظام کیا اور کریم بلاک قبرستان میں مرحومہ کو آسودہ خاک کر دیا گیا۔ فاتحہ خوانی کے لئے وہیں جانا ہوتا ہے۔ تدفین اور تعزیت کے حوالے سے فرصت ملی تو یہ انکشاف ہوا کہ کریم بلاک کے قبرستان میں تدفین کی وجہ یہ تھی کہ مصطفےٰ ٹاؤن اور نواحی آبادیوں کا اپنا کوئی قبرستان ہی نہیں، جن حضرات نے یہ رہائشی سکیم بنا کر منظور کرائی اور پلاٹ فروخت کئے انہوں نے قبرستان کے لئے کوئی پلاٹ یا جگہ مختص ہی نہیں کی۔ایک بڑا پلاٹ ماڈل سکول کے لئے رکھا گیا۔ وہ جوں کا توں ہے اور وہاں لوگ شادی، بیاہ کی تقریبات منعقد کر لیتے ہیں، وفات کی صورت میں تدفین کا مسئلہ پیش آ جاتا ہے۔ بعض حضرات تو میت اپنے آبائی قبرستان لے جاتے ہیں اور ہم جیسوں کو جگہ ڈھونڈنا پڑتی ہے اور پھر غلط بیانی کر کے قبرستان میں تدفین ممکن ہوتی ہے۔ اللہ ہمیں اور ہمارے دوستوں کو معاف کرے جنہوں نے قبر کے لئے جگہ حاصل کرنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لیا اور مرنے والی کو دفن کرنے کے لئے علامہ اقبال ٹاؤن کامران بلاک/کریم بلاک کا پتہ لکھوانا پڑا، ایسی صورتِ حال گزشتہ دِنوں ایک اور محلہ دار کو پیش آئی، جب ان کے والد کا انتقال ہوا تو مسئلہ بن گیا کہ جائیں تو جائیں کہاں؟ پھر وہی کرنا پڑا اور تدفین کے لئے قبر فیس کے طور پر 30ہزار روپے ادا کئے گئے۔ یوں یہ مسئلہ حل ہوا، لیکن یہ امر اور بھی تکلیف دہ ہے کہ علامہ اقبال ٹاؤن اور وحدت روڈ کی نواحی آبادیوں کے لئے مختص قبرستانوں میں بھی جگہ ختم ہو چکی ہے اور اب قبروں کے اندر سے ہی تلاش کے بعد جگہ حاصل کر کے قبر بنانا پڑتی ہے۔مصطفےٰ ٹاؤن والے دہری پریشانی سے دوچار ہیں، تدفین کے لئے قبرستان تلاش کرنا اور پھر قبر کے لئے ادائیگی کا اہتمام کرنا لازم ہو چکا ہے اور مرتے ہی یہ پریشانی شروع ہو جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ مرنے والا مر گیا، پسماندگان کو مصیبت میں ڈال گیا،لیکن علمائے کرام کے مطابق تو جانے والے کی روح یہ سب دیکھ رہی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں تو پھر تڑپ تڑپ جاتی ہو گی اور بات وہی ہو گی ’’مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے‘‘ کہ قبر کے حساب کتاب سے پہلے لواحقین کا حال جو ہوتا ہے روح دیکھ کر کتنا دُکھی ہو گی، ہم تو نہیں بتا سکتے یہ مسئلہ بھی پوچھنا ہی پڑے گا۔

معذرت کہ بات حادثہ جانکاہ سے چلی اور دوسری طرف نکل گئی کہ یہ بھی بہت بڑی حقیقت اور زندگی و موت کا مسئلہ ہے، کچھ عرصہ ہوا جب صوبائی حکومت کی طرف سے اعلان ہوا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت کے مطابق تدفین کا مسئلہ حل کرنے کے لئے شہر سے باہر چاروں طرف زمین حاصل کر کے ماڈل قبرستان بنائے جائیں گے، جہاں غسل، کفن، نماز اور تدفین کا بھی اہتمام ہو گا اور میت کو لے جانا پڑے گا باقی سب وہیں ہو گا اور مقررہ فیس ادا کر دی جائے گی اس کے علاوہ نماز میں شرکت کے لئے بھی لوگ براہ راست وہاں آ جائیں گے، پھر معلوم نہیں کیا ہوا کہ ابھی تک ایک بھی قبرستان کے لئے کام شروع نہیں ہوا، کچھ لوگ توکہتے ہیں کہ اس مقصد کے لئے مختص رقم شہر کے دوسرے ترقیاتی کاموں کے لئے استعمال ہو گئی اور اب نئے سال کے بجٹ میں رقم مختص کی جائے گی۔ یہ مستحسن اقدام ہے اور ہو گا تاہم مصطفےٰ ٹاؤن والے تو اپنے منتخب نمائندوں سے یہ پوچھتے ہیں کہ ووٹ حاصل کرتے وقت قبرستان کے لئے جگہ کے جو وعدے کئے گئے تھے وہ کیا ہوئے؟

ویسے ہمیں شہر سے باہر ایسے قبرستان کی تعمیر پر اعتراض نہیں،بلکہ خوشی ہے کہ ہم نے تہران (ایران) میں بہشت زہرہ کے نام سے میلوں پر پھیلا ہوا قبرستان دیکھا اور دُعائے مغفرت کی تھی جو شہر کے باہر اور امام خمینی کے مزار کے قریب ہے یہ قبرستان اپنی مثال ہے اور سب اہتمام وہیں ہوتا ہے۔ تہران میں تدفین نہیں اور نہ ہی کوئی قبرستان ہے۔ اگر یہاں بھی ایسا انتظام ہو جائے تو غنیمت ہو گا۔ہم تو ایسے بے درد ہیں کہ میانی صاحب کے قبرستان سے شہر کے دوسرے قبرستانوں تک کی زمین پر قبضہ کر لیتے ہیں اور ذمہ دار ادارے صرف قبضہ مافیا سے زمین واپس لینے کا ہی اعلان کرتے رہتے ہیں، عمل نہیں ہوتا۔ معذرت کہ بات ادھر چل نکلی، انشاء اللہ آئندہ اس موضوع پر بات ہو گی۔

مزید : کالم