ایوانِ قائد اعظمؒ اور پاکستان آگہی

ایوانِ قائد اعظمؒ اور پاکستان آگہی
ایوانِ قائد اعظمؒ اور پاکستان آگہی

  

نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین اور سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد رفیق تارڑ نے جب فون پر یہ خوشخبری دی کہ لاہور میں ایوان قائد اعظمؒ تقریباً مکمل ہو گیا ہے تو میری روح تک خوشی سے سرشار ہو گئی۔ ایوان قائد اعظمؒ میں پہلے پروگرام کا عنوان ’’پاکستان آگہی‘‘ تجویز کیا گیا۔ تحریک پاکستان کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو اس پوری سرگزشت کا عنوان قائد اعظمؒ ہی قرار پائے گا۔ قائد اعظمؒ تحریک پاکستان کو تشکیل اور ترتیب دینے والوں میں سب سے ممتاز تھے۔ آج ہم قیام پاکستان کی جس تاریخ کو پڑھتے ہیں، اس تاریخ کو تخلیق کرنے والا ہاتھ قائد اعظمؒ کا تھا، اس لئے ’’پاکستان آگہی‘‘ دراصل قائد اعظمؒ ہی کے سرانجام دیئے ہوئے اس عظیم کارنامے کا نام ہے جس نے 14 اگست 1947ء کو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کی شکل میں جنم لیا تھا۔ قائد اعظمؒ کی شخصیت ہمارے لئے روشنی کا وہ سرچشمہ ہے جس سے ہم آج بھی بصیرت حاصل کر کے اپنے ملک اور قوم کے لئے کارہائے نمایاں سر انجام دے سکتے ہیں۔قائد اعظمؒ کی زندگی کے غیر معمولی کارناموں سے آگہی ہماری نوجوان نسل کی شخصیت سازی اور کردار سازی کے لئے سب سے مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ جب ہم اس عظیم انسان کی داستانِ حیات کا مطالعہ کریں گے، جس نے صرف اپنی سیاسی قابلیت اور کردار کی طاقت سے انگریزوں اور ہندوؤں دونوں کی سازشوں کو شکست دے کر تاریخ کو ایک نیا موڑ دے دیا اور نا ممکن کو ممکن بنا ڈالا تو ہم میں بھی نامساعد حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوگا۔

قائد اعظمؒ کو اپنی زندگی میں زیادہ مشکل حالات کا سامنا تھا، وہ ایک ایسے ملک کے حصول کے لئے جدوجہد کر رہے تھے جس کا پہلے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ قوم منتشر تھی اور اسے اپنی منزل ملنے کی کوئی اُمید بھی نہیں تھی۔ لیکن قائد اعظمؒ نے اپنی منتشر قوم کو اتحاد اور نظم و ضبط کی رسی میں پرو کر ایک ناقابل تسخیر طاقت میں تبدیل کر دیا۔ جب ایک مایوس قوم قائد اعظمؒ کے عزم و یقین سے روشنی لے کر آگے بڑھی تو ہندوستان کی تاریخ میں ایک ایسا انقلاب برپا ہو گیا جس کے نتیجے میں اس سلطنت نے جنم لیا ،جسے ساری دنیا صرف خواب سمجھتی تھی۔ ایک خواب کو حقیقت میں کیسے بدلا گیا، وہ نظریہ کیا تھا جس کی اساس پر پاکستان کا مطالبہ کیا گیا۔ قیام پاکستان کا مقدمہ جیتنے کے لئے قائد اعظمؒ کے ایک ماہر ترین وکیل کے طور پر دلائل کیا تھے۔ قائد اعظمؒ کے بیانات، خطبات اور تقریروں میں آخر وہ کون سی ایسی مقناطیسی کشش تھی کہ متحدہ ہندوستان کے سارے مسلمان ایک پلیٹ فارم پر اور ایک جھنڈے تلے جمع ہو گئے؟۔۔۔ قائد اعظمؒ کی دل آویز قیادت اور ان کے سراپا عمل ہونے کے جوہر ہی کا یہ اعجاز تھا کہ بنگالی، پنجابی، سندھی، بلوچ اور پٹھان اپنے تمام تعصبات کو بھول کر ایک ملت کی حیثیت اختیار کر گئے۔ جب قائد اعظمؒ نے ’’مسلمان ایک قوم ہیں‘‘ کے نظریئے اور اصول کو تسلیم کروا لیا تو وہ مسئلہ جو انگریزوں اور ہندوؤں کے نزدیک ناقابل فہم اور پیچیدہ ترین تھا، اس کا حل سامنے آ گیا۔ ’’مسلمان اپنے دین کے اعتبار سے ایک مستقل الگ قوم ہیں‘‘۔۔۔ اس نظریئے کی حقیقت ہی نے پاکستان بنایا، لیکن اس نظریئے کو ایک ایسی طاقت بنا دینا کہ سات کروڑ مسلمانوں کے مقابلے میں تیس کروڑ پر مشتمل ہندو قوم اور ان کی عیار ترین پوری سیاسی قیادت ناکام ہو کر بیٹھ جائے، یہ قائد اعظمؒ کا ہی کارنامہ تھا۔ اگر قائد اعظمؒ ایک سراپا اصول، مجسم نظریہ اور سر سے لے کر پاؤں تک ایک با عمل انسان نہ ہوتے تو پاکستان کبھی معرضِ وجود میں آ ہی نہیں سکتا تھا۔ کوئی شاندار اور تاریخی کارنامہ سر انجام دینے کے لئے بے پناہ خدمت، تکالیف کا سامنا اور قربانی بنیادی تقاضے ہیں اور جب پوری مسلمان قوم کے لئے برصغیر میں اپنا صحیح مقام، یعنی حصولِ آزادی کا مرحلہ در پیش تھا تو اس کی خاطر دی جانے والی قربانیوں اور اٹھائی گئی تکالیف کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔

تحریک پاکستان میں آل انڈیا مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت تھی ا ور قائد اعظمؒ کا یہ امتیاز ہے کہ وہ مسلمانوں کے واحد نمائندہ قائد تھے۔ اگر ہم قیام پاکستان کی غرض و غایت کو سمجھنا اور جاننا چاہتے ہیں تو ہمیں قائد اعظمؒ کے اقوال و افکار اور زندگی کا تفصیل سے مطالعہ کرنا چاہئے۔ لاہور میں ایوان قائد اعظمؒ کے قیام کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم پاکستان کے مستقبل کی وارث نوجوان نسل کے دلوں کو قائد اعظمؒ کے حیات و کردار اور تعلیمات کی روشنی سے منور کریں۔ قائد اعظمؒ نوجوانوں کو اپنی امیدوں کا سہارا کہا کرتے تھے اور یہ نوجوان ہی تھے جنہوں نے قائد اعظمؒ کے پیغام کو مسلمانوں کے گھر گھر پہنچا دیا تھا۔ قائد اعظمؒ نوجوانوں کی سیاسی تربیت اور انہیں منظم کرنے میں بھی حد درجہ دلچسپی لیتے تھے، لیکن قائد اعظمؒ اس بات کا بھی بہت خیال رکھتے تھے کہ ہمارے نوجوان مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد میں اپنا کردار تو ضرور ادا کریں،لیکن اپنی تعلیم کا نقصان بالکل نہ کریں۔ایوانِ قائد اعظمؒ کے ذمہ داران نے محمد رفیق تارڑ چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کی قیادت میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ قائد اعظمؒ کے اقوال و افکار کے ذریعے پاکستان کی نوجوان نسل کی تربیت کی جائے تاکہ وہ مستقبل میں پاکستان کی ترقی و استحکام اور وقار کی خاطر اپنا فعال کردار ادا کرسکیں۔ تحریک پاکستان کے کارکنان بتاتے ہیں کہ قائد اعظمؒ 70 سال کے بوڑھے ہونے کی باوجود جب نوجوانوں سے ملتے تو ان کی خوشی اور اطمینان کا یہ عالم ہوتا تھا جیسے وہ خود بھی ایک نوجوان ہیں اور نوجوانوں ہی کی طرح مستعد اور توانا ہیں۔ نوجوانوں کو بھی اپنے بوڑھے کاروان سالار سے مل کر عجیب طرح کی روحانی خوشی محسوس ہوتی تھی۔ جب نوجوان طلبہ قائد اعظمؒ سے ملاقات کے بعد اپنے شہروں اور علاقوں میں لوٹتے تو وہ پہلے سے کہیں زیادہ حوصلے، جرأت اور توانائی کے ساتھ تحریک پاکستان میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتے۔ سچی بات یہ ہے کہ مسلمان نوجوانوں کے جذبوں کی صداقت اور عزم صمیم نے حصول پاکستان کی جدوجہد میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ ایوانِ قائد اعظمؒ لاہور اگر تحریک پاکستان کے دور کی طرح قائد اعظمؒ کے نقوش قدم پر چلتے ہوئے ہماری موجودہ نوجوان نسل کی صحیح خطوط پر تربیت کرنے میں کامیاب ہوگیا تو میرا یقین ہے کہ تعمیر پاکستان کے لئے ہمارے یہ نوجوان لازوال کردار ادا کریں گے۔

سب سے اہم چیز نوجوانوں کے کردار کی تعمیر ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے قائد اعظمؒ سے بہتر رول ماڈل اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ قائد اعظمؒ کسی قیمت پر خریدے نہیں جاسکتے تھے، یعنی دنیا کا بڑے سے بڑا مفاد بھی قائد اعظمؒ کو اصولوں اور قومی مفاد پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا تھا۔ قائد اعظمؒ کی ذات میں دوسری بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں ایک بار بھی جھوٹ اور منافقت کا سہار نہیں لیا۔ قائد اعظمؒ کو سیاست میں چالبازی سے سخت نفرت تھی اور قائد اعظمؒ کو بڑے سے بڑا چالاک سیاست دان بھی فریب نہیں دے سکتا تھا،کیونکہ ان کی بصیرت اور فراست ایک مردمومن کی بصیرت اور فراست تھی۔ قائد اعظمؒ کی ساری خوبیاں تو ہم میں پیدا نہیں ہو سکتیں، لیکن اگر ان کے چند اوصاف ہی اپنی زندگیوں کے لئے راہنما اصول بنا لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک مختصر عرصے میں ہم اپنے وطنِ عزیز کی تقدیر بدل کر نہ رکھ دیں۔ملت کے پاسبان محمد علی جناحؒ کی زندگی کے ایک ایک لمحے میں ہمارے سیکھنے کے لئے بہت کچھ موجود ہے۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے عروج میں اپنی ایک ایک سانس مسلمان قوم کے مستقبل پر قربان کردی تھی۔ قائد اعظمؒ کی زندگی کی کوئی گھڑی، کوئی پل مقصدیت کے بغیر نہیں گزرا۔یہی وجہ ہے کہ قدرت نے قائد اعظم ؒ کو ایسی کامیابیوں اور کا مرانیوں سے نوازا کہ جس صدی میں قائد اعظمؒ پیدا ہوئے اس صدی میں شاید ہی پوری دنیا میں کسی بھی قوم کے لیڈر کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہو کہ وہ تاریخ کا دھارا بھی بدل دے اور ایک بالکل نئی سلطنت تخلیق کر کے دنیا کا جغرافیہ بھی بدل ڈالے۔۔۔آخر میں مجھے نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے عہدیداران کی خدمت میں یہ گزارش کرنی ہے کہ ’’پاکستان آگہی‘‘کے عنوان سے پاکستان کے چاروں صوبوں کے تمام بڑے شہروں میں تقاریب کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔ ہم جتنا زیادہ پاکستان کے بارے میں جانیں گے، اتنا ہی زیادہ شعور ہمیں قائد اعظمؒ کی عظمت کا ہوگا۔ ایوانِ قائد اعظمؒ لاہور کی فکر انگیز تقاریب اور عملی کاوشوں کے نتیجے میں جتنا زیادہ ہم قائد اعظمؒ کے بارے میں آگاہ اور باخبر ہوتے جائیں گے، اسی تناسب سے ہم میں قوتِ ارادی، احساس عمل ، عظمتِ کردار اور مجاہدانہ جذبہ پیدا ہوتا چلا جائے گا، جس سے ہم تعمیر پاکستان کی راہ میں حائل ہررکاوٹ، مشکل اور مصیبت کو عبور کرکے پاکستان کو ایک عظیم ترین ملک بناسکتے ہیں۔

مزید :

کالم -