مستقل حل کی ضرورت

مستقل حل کی ضرورت
مستقل حل کی ضرورت

  


سکیورٹی تھریٹ والے لیٹر میں الفاظ بھی پہلے والے ہی تھے، انداز بھی ویسا ہی تھا۔ اس کے باوجود نجانے کیوں وسوسے پیدا ہونے لگے۔ اس حوالے سے خبر پچھلے 20,15 روز سے گردش کررہی تھی۔ کئی دن گزرنے کے باوجود خدشات کم نہ ہوئے۔ پھر لاہور میں خوفناک واقعہ رونما ہو گیا۔ خودکش حملے میں 2 اعلیٰ پولیس افسران سمیت 13 قیمتی جانیں چھین لی گئیں۔ 80سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ اس واردات کے فوری بعد زیادہ تر لوگوں کا دھیان ایک ہی طرف گیا کہ اصل ہدف انٹرنیشنل کرکٹ کا پاکستان میں انعقاد روکنا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پی ایس ایل ہی اصل نشانہ ہو لیکن یہ بات نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اس کے علاوہ بعض دیگر مقاصد بھی ہو سکتے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری، ملک میں مستحکم ہوتے ہوئے سیاسی حالات، امن و امان کی بہتر ہوتی ہوئی صورت حال، خصوصاً آپریشن ضرب عضب سے حاصل ہونے والے نتائج پر سوالیہ نشان لگانا۔ مال روڈ پر ہونے والے اس دہشت گردانہ حملے سے قبل جماعت الاحرار نامی گروہ نے جو ویڈیو جاری کی اس میں کئی ایک پر حملے کرنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ ادویہ ساز کمپنیوں کے احتجاج کے دوران اعلیٰ پولیس حکام کو نشانہ بنا کر انہی مذموم عزائم کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس سارے معاملے کاایک دلخراش پہلو یہ بھی ہے کہ ڈی آئی جی کیپٹن(ر) احمد مبین جائے واردات پر جمع ہونے والے مجمع کو یہ کہہ کر ہی سڑک سے ہٹ جانے کا کہہ رہے تھے کہ دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ کسی نے دھیان دیا اور کسی نے ان سنی کر دی۔ سفاک دہشتگردوں کو کام دکھانے کا موقع مل گیا۔ واردات کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ خودکش بمبار کو استعمال کرنے والے سہولت کار آخری وقت تک موقع پر موجود تھے اور پھر وہاں سے نکل بھی گئے۔ خطرے کا ٹائم بم اب بھی ٹک ٹک کررہا ہے۔ وجوہ تو کئی ایک ہیں مگر اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ اس تمام خرابی کے تانے بانے سرحد پار بیٹھے پاکستان دشمن عناصر سے ملتے ہیں۔ افغانستان انہی عناصر کیلئے ’’محفوظ جنت‘‘ بنا ہوا ہے۔ افغانستان کے بہت بڑے حصے پر کوئی حکومتی کنٹرول نہیں۔ حکومت ہی کیا نیٹو اور امریکہ بھی بے بس ہیں۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے واضح کر دیا تھا کہ طالبان کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کیلئے مزید ہزاروں فوجیوں کی ضرورت ہے۔ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے روبرو انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ افغان فورسز کا دو تہائی سے کم سرزمین پر کنٹرول ہے۔

امریکی جنرل نے پرانا راگ الاپتے ہوئے پاکستان پر بھی الزام تراشی کی۔ ان حالات میں سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ افغان سرحد کو محفوظ کیسے بنایا جائے۔ خصوصاً ایسے حالات میں کہ جب مشرقی سرحدوں پر بھارت ہمارے درپے ہے لیکن ہمیں خطرہ صرف را سے ہی نہیں ’’دشمن کا دشمن ‘‘دوست کی پالیسی کے تحت تمام مخالف عناصر ایک دوسرے سے ہاتھ ملائے ہوئے ہیں۔ اندھا دھند چھاپے، گرفتاریاں اور پولیس مقابلے ایک بڑی مہم کا حصہ تو ضرور ہو سکتے ہیں مگر مسئلے کا اصل اور بھرپور حل نہیں۔ اس حوالے سے جامع اور ٹھوس منصوبہ بندی کیلئے ملک کا اندرونی استحکام بنیادی ضرورت ہے۔ یہ شامت اعمال نہیں تو اور کیا ہے کہ ملکی تاریخ کے اس نازک موڑ پر جانے انجانے میں کئی عناصر غیر یقینی پھیلانے پر کمربستہ ہیں۔ دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کیلئے حقیقی معنوں میں تمام اداروں کا ایک صفحے پر ہونا ضروری ہی نہیں لازمی بھی ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب آئین و قانون کی بالادستی ہو ،قانون ساز اپنا کام کریں، سکیورٹی ادارے صرف اپنے فرائض سرانجام دیں، عدالتیں فوری انصاف فراہم کریں۔ المیہ یہی ہے کہ قانون کا یکساں اطلاق یقینی نہیں بنایا جارہا۔ یہ عمل جاری رہا تو احساس محرومی بڑھتا جائے گا۔یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ کوئی بھی ادارہ اپنے پیٹی بھائیوں کا مؤثر احتساب نہیں کر سکا۔ جنرل راحیل شریف کے بارے میں جنرل مشرف نے خود ہی بتادیا کہ انہیں قانون کے شکنجے سے نکالنے میں ان کا کیا کردار رہا۔ معاملہ صرف جرنیلوں تک محدود نہیں۔جج، ججوں کا احتساب نہیں کر سکے۔ اسلام آباد میں کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ پر بدترین تشدد کا کیس اس حوالے سے کلاسیکل مثال ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے براہ راست نوٹس لیے جانے کے باوجود قصور وار بچ نکلے۔ میڈیا ہاؤسز کی باہمی لڑائیاں اپنی جگہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جرنلٹس، جرنلسٹوں کا احتساب نہیں کر سکے۔ میڈیا میں آنے والے گھس بیٹھیوں کے علاوہ اور بھی کئی ایسے ہیں جن کے بارے میں باقاعدہ مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔ دیانت دار اور حقیقی پیشہ ور صحافی اس صورت حال پر کڑھتے رہتے ہیں مگر ان کالی بھیڑوں کو اپنی برادری سے نکال باہر کرنے کیلئے کچھ کرنہیں سکتے۔

ایسے میں احتساب کے لئے سیاستدان ہی باقی رہ گئے ہیں ،ان میں سے بھی اکثر سرمایہ اورتعلقات کی بنیاد پر عدالتوں سے بچ نکلتے ہیں ۔ اس صورتحال میں قانون ایک عام شہری کے لئے ہی رہ گیا ہے ،اداروں کی ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت انتہائی خطرناک رجحان ہے ۔ٹانگیں کھینچنے کا عمل شروع ہو جائے تو پھر جوابی کارروائی کا امکان کیسے رد کیا جا سکتا ہے۔ پریشر گروپ قانون کو روند رہے ہیں ،وکیل قابو آتے ہیں نہ ڈاکٹر ۔پیر کو پیش آنے والے ہولناک سانحے کا سبب بھی ادویہ ساز اداروں کا وہ احتجاج بنا جو جعلی دواؤں سے متعلق نئے قانون کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ مجبور ملازمین کے ذریعے سڑکیں بند کرانا اور ایک اچھے قانون کے خلاف ہڑتال کرنا کہاں کی انسانیت ہے؟۔ ایسے افراد کے ساتھ حکومت کو آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہو گا۔ حکومت کی مگر اپنی مجبوریاں اور اللے تللے ختم ہونے پر نہیں آ رہے۔ ہر کوئی صرف دوسرے پر ہی قانون کا اطلاق چاہتا ہے۔ بجائے اس حوالے سے سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔ ملک کے اندر حکومت کی رٹ تمام طبقات پر یکساں طور پر لاگو نہ کی گئی تو مسائل کے کوہ گراں پر قابو پانا ممکن نہ رہے گا۔ کرپشن کے الزامات میں پھنسی حکومت پر پانامہ کیس ثابت کرنا تو شاید آسان نہ ہو مگر اورکئی پہلو ہیں جن پر بات ہو سکتی ہے۔ میڈیا میں اپنے مخالفوں کا سامنا کرنے اور امیج بلڈنگ کیلئے جو سمجھوتے کیے جارہے ہیں آخر ان کا کیا جواز ہے۔ ٹی وی اینکروں کے بارے میں سب کو علم ہے کہ ان کی اکثریت اوقات سے کہیں زیادہ باہر نکل چکی ہے۔ اکثر کو تو تنخواہ ہی گالیاں دینے کی ’’صلاحیت‘‘ کے باعث دی جارہی ہے۔ایسے میں ایک اینکر کو کانوائے کی صورت میں نقل و حرکت کے لیے پولیس گارڈ اور گاڑی فراہم کرنا ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے۔ چھوٹی عمر کے ’’بڑے‘‘ صحافی کو پولیس کی ایک دو نہیں تین تین گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں۔ پولیس کی بھاری نفری کو ایسے فضول اور لایعنی کاموں پر لگا دیا جائے گا تو پھر اصل ڈیوٹی پر توجہ کیونکر دی جا سکے گی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ حکمران خود بھی اوقات میں رہیں اور باقی تمام کو بھی ان کی اوقات میں رکھیں۔

نیکٹا کا اونٹ ابھی کسی کروٹ نہیں بیٹھا تھا کہ فوجی عدالتوں کی میعادبھی ختم ہو گئی۔ عدالتوں کے ذریعے سزائیں دلوا کر مجرموں کو انجام تک پہنچایا جائے تو شاید اعتراض کی گنجائش نہ رہے اور ہر طرح کے قانون شکن عناصر کیلئے سبق بھی بنے۔ تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ قانون سے بالا اقدامات کا تسلسل کبھی خیر کی خبر نہیں لاتا۔

مزید : کالم