سی ایس ایس کا امتحان اب اردو میں ہوگا (1)

سی ایس ایس کا امتحان اب اردو میں ہوگا (1)
 سی ایس ایس کا امتحان اب اردو میں ہوگا (1)

  

نصف صدی پہلے مجھے جب پاک آرمی میں کمیشن ملا تو پہلی پوسٹنگ پنجاب رجمنٹ سنٹر (PRC) مردان میں ہوئی۔ برسبیل تذکرہ کل ہی مردان سے میرے ایک قاری کا فون آیا۔ جنت گل ان کا نام تھا۔ پنجاب میں تو یہ نسوانی نام سمجھا جاتا ہے لیکن صوبہ سرحد میں نجانے مذکر کو مونث اور مونث کو مذکر کر دینے کا رواج کیوں ہے۔ یعنی اگر میرا باپ حقہ پیتی ہے تو ماں برتن صاف کررہا ہے جیسے جملے 1968ء میں بھی عام تھے اور آج جنت گل خان بھی وہی کچھ کہہ رہا تھا جو مومن خان کی زبان تھی۔ مومن خان میرا پہلا بیٹ مین تھا۔ بڑا سیدھا سادااور سچ بولنے والا ’’پٹھان‘‘ ۔۔۔ایک بار سروس کے ابتدائی ایام میں، میں نے ایک ایکسر سائز میں جاتے ہوئے مومن خان کو کہاکہ میرابستر اور سرہانہ دھو دینا۔۔۔۔ تاکیداً کہا کہ سرف سے صاف کرنا۔۔۔میں جب اگلے روز واپس آیا تو وہ باہر لان میں بیٹھا تھا اور سامنے میرے بستر کی چادر اور سرہانہ گھاس پر لٹایا ہوا تھا تاکہ سوکھ جائے۔ سردیوں کا موسم تھا اور دھوپ چمک رہی تھی۔ مجھے اندر آکر کہنے لگا: ’’سر، چادر تو کچھ کچھ سوکھ گیا ہے لیکن سرہانہ نہیں سوکھتی‘‘۔ ۔۔۔میں نے باہر نکل کر دیکھا تو سرہانے کا غلاف نہیں بلکہ پورا تکیہ بمعہ روئی دھوکر سکھایا جارہا تھا!

جنت گل کا لب و لہجہ خالص ’’مردانہ‘‘ تھا (یہ مردانہ، زنانہ کا متضاد نہیں، بلکہ اس کا مطلب ہے ’’مردان کا رہائشی‘‘) لیکن میرے کالم کی تعریف میں کہہ رہا تھا:’’ آپ کاکالم بہت اچھی ہوتی ہے۔ آپ سیاسی باتیں کم لکھتا ہے اور ایسی باتیں لکھتا ہے جو دوسرے نہیں لکھتے۔ آپ اپنے راولپنڈی کے دوستوں کو مشورہ دیں کہ وہ بھی سیاسی باتیں نہ لکھا کرے‘‘۔۔۔۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں راولپنڈی نہیں، لاہور میں رہتا ہوں اور راولپنڈی سے جو اخبار پاکستان شائع ہوتا ہے وہ آپ نہیں پڑھتے۔ معلوم ہوتا ہے آپ پشاور کا پاکستان پڑھتے ہیں جس میں میرا کالم ’’شمشیروسناں اول‘‘ شائع ہوتا ہے۔ جنت گل یہ سن کر کچھ دیر چپ رہے۔ شائد حساب لگا رہے تھے کہ روزنامہ پاکستان راولپنڈی اور پشاور ایک ہی اخبار ہے یا نہیں۔۔۔۔ میں نے ان کو بتایا کہ یہ موضوع نازک بھی ہے اورگھمبیر بھی۔ کبھی بالمشافہ بات ہوئی تو تفصیل بتاؤں گا۔ پوچھنے لگے لاہور میں کس جگہ مقیم ہو؟ میں نے لاہور چھاؤنی کا نام لیا تو کہنے لگے کہ آرا بازار کے ساتھ ہے؟۔۔۔ (یہ ’’آرا‘‘ بازار دراصل R.Aبازار تھا جو ’’رائل آرٹلری‘‘ کا مخفف تھا اور مرورِ ایام سے ’’آرا‘‘ بن گیا۔۔۔۔) پھر اِدھر اُدھر کی باتیں ہوئیں اور کہنے لگے کہ پاکستان کا حکمران ’’اچھی‘‘ نہیں ہے۔ ان کا یہ ’’تجزیہ‘‘ سن کر میں نے سلام دعا کے بعد موبائل بند کردیا اور سوچنے لگا کہ 50 برس پہلے اسی مردان شہر میں پنجاب رجمنٹ سنٹر آفیسرز میس میں ایک لیکچر ’’لیڈر شپ‘‘ کے موضوع پر میں نے دیا تھا۔ آفیسرز کلاس کی زبان تب بھی انگریزی تھی اور آج بھی انگریزی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے اگرچہ اگلے برس سنٹرل سپیئریر سروسز (CSS) کا امتحان اردو میں منعقد کرنے کے لئے احکام جاری کر دیئے ہیں لیکن قطرے پہ گہر ہونے تک جو گزرتی ہے اس میں بڑے بڑے دریائی اور سمندری مگرمچھوں کے علاقوں سے گزرنا پڑتا ہے اور یہ علاقے ایسے خطرناک ہوتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے 2015ء میں جب اس قسم کا فرمان صادر فرمایا تھا تو پبلک نے تو خوشی کے شادیانے بجائے تھے لیکن ہوا کیا تھا؟ ۔۔۔ قطرہ گہر نہیں بن سکا تھا۔۔۔ اب دیکھتے ہیں عدالت عالیہ کا فیصلہ، عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے حشر سے دو چار ہوتا ہے یا فیڈرل پبلک سروس کمیشن واقعی اس قطرے کو گہر بنانے کی ’’بسم اللہ‘‘ کر تا ہے۔

پاکستان روز اول سے قیادت کے بحران کا شکار رہا ہے۔ اس پر کئی کتابیں اور کئی آرٹیکل لکھے گئے۔ 1968ء یا 1969ء میں بھی لاگ ایریا پشاور کے تحت ایک سیمینار اسی موضوع پر منعقد ہوا تھا جس کا ذکر میں نے اوپر کیا۔ فوج کی لیڈر شپ اور سویلین لیڈر شپ گویا دو جڑواں بہنیں ہیں۔۔۔ سویلین لیڈر شپ بڑی بہن ہے اور فوجی لیڈر شپ اس سے چند لمحے بعد شکم مادر سے باہر آئی۔ لیکن دونوں کا خمیر چونکہ ایک ہے اس لئے دونوں کی صفاتِ حسنہ اور دونوں کے تقاضے بھی ایک ہیں۔

میری فوجی سروس کا آغاز تھا لیکن کمانڈانٹ (بریگیڈیئر قیوم) نے بالخصوص مجھے سیمینار میں پیپر(Paper) پڑھنے کو کہا اور میں نے بھی اسے ایک چیلنج سمجھ کر تیاری شروع کر دی۔ فوج میں ایک بات بڑی اچھی ہے کہ اس میں جب کوئی پیپر وغیرہ لکھا جاتا ہے یا لیکچر دیا جاتا ہے تو یہ ایامِ گزشتہ کے صدائے بازگشت ہی ہوتی ہے۔ چنانچہ میں نے بھی اپنے سینئرز کی زیر نگرانی گزشتہ ریکارڈ چھاننا شروع کر دیا۔ تاہم جو مواد میسر آیا اس سے میری سیری نہ ہوئی۔ میں چاہتا تھا کہ سامعین کو اس گھسے پٹے موضوع پر کوئی گھسی پٹی تقریر نہ سناؤں اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو گفتۂ ماضی کو گفتۂ حال بنا کر ایک الگ شکل دے دوں۔ جو لکھا ہوا مواد مجھے اس موضوع پر ملا وہ کافی ثقیل قسم کی انگریزی عبارات کا مجموعہ تھا۔ میرے لئے اب چیلنج یہ تھا کہ اسے آسان اسلوبِ نگارش میں سامعین کو سناؤں۔ اس زمانے میں کمپیوٹر کی سہولت کہاں تھی؟ ٹائپسٹ کلرک میٹرک پاس ہوتے تھے جن کو صرف دفتری انگریزی سے دن رات واسطہ رہتا تھا۔ ان کا ذخیرہ الفاظ محدود ہوتا تھا۔ جب دفتری انگریزی سے باہر کوئی اجنبی لفظ ان کے سامنے آتا تو وہ اس کا ستیاناس مار دیتے ۔

اس کا حل میں نے یہ نکالا کہ کمانڈانٹ کے پی اے (PA) سے بات کی اور ساتھ ہی ان کے پاس جا بیٹھا۔ پی اے حضرات کی ایک تو انگریزی ٹائپسٹوں کے مقابلے میں کہیں بہتر ہوتی ہے اور دوسرے جب صاحبِ تحریر ان کے پاس فروکش ہو تو ان کے لئے مزید آسانی ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ایک دو بار کے پرنٹ دیکھنے کے بعد میں نے وہ تقریر فائنل کر دی اور سیمینار میں جا کر پڑھ دی۔ سب نے پسند کی اور خاص طور پر ’’اسلوبِ نگارش‘‘ کی جی بھر کر داد دی۔

پھر یہ ہوا کہ میں ملٹری ہسٹری کا مطالعہ کرتے کرتے پروفیشنل ادیبانہ طرزِ تحریر کا رسیا ہو گیا۔ پہلی بار احساس ہوا کہ انگریزی فکشن کا ایک روپ یہ بھی ہے کہ وہ افسانوی لباس پہن کر بھی اصل حقائق کے بیان کرنے میں کمال کر دیتی ہے۔ کئی برس تک میں ملٹری ہسٹری کی کلاسیکل زلفِ گرہ گیر کا اسیر رہا۔۔۔ اس کے بعد ایک دور وہ بھی آیا کہ مجھے اپنی قومی زبان اردو کی کم مائیگی کا احساس ستانے لگا۔ میں نے محسوس کیا کہ اگر اسی انگریزی زبان کی تحریر کو اردو میں ترجمہ کردیا جائے تو اردو اور فارسی کا خمیرتو پہلے ہی فکشن کے لئے انگریزی کے مقابلے کہیں زیادہ بہتر اور موزوں ہے۔پھر یہ جراثیم رفتہ رفتہ میرے دل ودماغ میں پرورش پاتے رہے۔ میں کسی جگہ انگریزی کلاسیکل عسکری تحریر دیکھتا تو دل ہی دل میں اس کا ترجمہ کرکے محسوس کیا کرتا کہ اگر یہ ترجمہ کسی جگہ شائع کردیا جائے تو اس میں ایک نئی تازگی، زبانِ اردو کو میسر آئے گی۔ ۔۔۔ یہ پراسس کا فی طویل اور کافی صبر آزما تھا۔

فاضل عدالتِ عظمیٰ کے فاضل چیف جسٹس نے جب اردو کے حق میں 2015ء کا تاریخی فیصلہ صادر فرمایا تو میری خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا تھا۔ مجھے خواب آنے لگے کہ اب ہمارے وزیر اعظم یا صدر جہاں کہیں بھی کسی بین الاقوامی فورم میں جا کر اردو میں تقریر کیا کریں گے اور اس کا انگریزی ترجمہ کرنے کے لئے کسی مترجم کی تلاش ہوگی تو یہ ایک بڑا فخریہ اقدام ہوگا۔ لیکن جلد ہی یہ مسرت تاسف میں تبدیل ہونے لگی۔ اربابِ اختیار بین الاقوامی بلکہ قومی خطابات کے لئے بھی انگریزی کا سہارا لینے کی پرانی روش پر قائم رہے۔

اب 14فروری کو لاہور ہائی کورٹ نے ایک حکم کے ذریعے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو پابند کر دیا ہے کہ وہ 2018ء کے تحریری امتحانات اردو میں لے۔ یہ حکم جسٹس عاطر محمود نے ایک ایڈووکیٹ کی درخواست پر دیا جو CSSکا امتحان اردو میں دینا چاہتے تھے۔ پبلک سروس کمیشن نے CSS کے امتحانات کا جو اشتہار دیا تھا اس میں زبان کا خانہ خالی چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ امتحان اسی ماہ کے آخر میں ہو رہا ہے اور چونکہ اب وقت نہیں رہا تھا کہ اردو میں بھی اس کی اجازت دے دی جاتی اس لئے درخواست مسترد کردی گئی۔ لیکن ساتھ ہی یہ حکم بھی صادر کیا گیا کہ اگلا امتحان جو 2018ء میں ہوگا وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اردو زبان میں لیا جائے گا:

تری آواز مکے اور مدینے

مجھے معلوم نہیں افواجِ پاکستان کے ہیڈ کوارٹرز اس سلسلے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ لیکن اگر آج نہیں تو کل تینوں سروسوں( آرمی، ائرفورس، نیوی) کوبھی کم از کم اور کچھ نہیں تو اردو کو ساتھ لے کر چلنا پڑے گا۔ افسروں کی کلاس میں ابھی تک اردو کو بار نہیں مل سکا (میری مراد کمیشنڈ افسروں سے ہے) لیکن اگر آرمی چیف نے یہ حکم دے دیا کہ فاضل عدالت عظمیٰ کے حکم کی تعمیل کی جائے اور اردو زبان کو کم از کم انگریزی زبان کے برابر تصور کیا جائے اور آرمی کے درجنوں امتحانات جو آج صرف انگریزی میں کنڈکٹ کئے جاتے ہیں ان کو قومی زبان میں کنڈکٹ کیا جائے تو آفیسرز کلاس میں یہ تبدیلی ایک بہت بڑے انقلاب کا باعث ہو گی۔ ستر (70) برس پہلے اگر قائد اعظم یہ فرمان جاری کردیتے تو قوم کے تمام مقتدر اداروں کو ذولسانی (Bi-Lingual) ہونا پڑتا اور آج ہم پروفیشنل لیول پر کہیں سے کہیں آگے نکل چکے ہوتے!

میں لیڈر شپ پر اپنے لیکچر کی بات کررہا تھا۔۔۔۔ جب میں نے اردو کو پروفیشنل ملٹری زبان کے قالب میں ڈھالنے کا خواب دیکھا تو مجھے اپنے اس اولین لیکچر کی یاد آئی۔ خوش قسمتی سے وہ لیکچر میری پرسنل فائل میں موجود تھا اور 16,15برس بعد بھی جوں کا توں موجود تھا۔ لہٰذا میں نے سب سے پہلے اس کا ترجمہ اردو میں کیا۔ ۔۔۔ یہ ترجمہ اگلے کالم میں ملاحظہ کیجئے: (جاری ہے)

مزید :

کالم -