دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی۔۔۔نئے پہلو

دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی۔۔۔نئے پہلو

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رہیں گی اور دہشت گردوں کے ساتھ اُن کے سہولت کاروں اور نظریئے کو بھی ختم کرنا ضروری ہے اُن کے خلاف بے رحم آپریشن کیا جائے،شہریوں کے تحفظ میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، دہشت گردوں کو شکست دینے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ حق و باطل کے درمیان معرکہ ہے، قومی عزم کے ذریعے دشمن کو شکست دیں گے۔انہوں نے اِن خیالات کا اظہار منگل کو اعلیٰ سطح کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات ہمارے قومی عزم کو کمزور کر سکتے ہیں نہ ہی دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں، دہشت گردوں اور اُن کے ملکی و غیر ملکی سہولت کاروں کے خلاف آپریشن تیز ہو گا، چند افغانوں سمیت دھماکوں کے کچھ ملزم گرفتار کر لئے، ہر رنگ و نسل کے دہشت گردوں، مالی مدد گاروں، منصوبہ سازوں اور بیرونی مدد گاروں کو مُلک بھر میں تلاش کر کے نشانہ بنایا جائے گا، ہم اپنی کئی سال کی کامیابیوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گے، پی ایس ایل فائنل کے لاہور میں انعقاد کے لئے پاک فوج متعلقہ اداروں کی مدد کرے گی۔انہوں نے اِن خیالات کا اظہار اپنے لاہور کے دورہ کے دوران سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مرض کی تشخیص پر توکلّی اتفاق ہے،جو اقدامات دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اُٹھائے گئے ہیں یا اُٹھائے جا رہے ہیں وہ بھی اپنی جگہ درست، بروقت اور ضروری ہیں یہ بھی امر واقعہ ہے کہ مختلف نوعیت کے آپریشنوں اور کوششوں کے نتیجے میں دہشت گردی کی وارداتیں کم ہو گئی ہیں،لیکن لاہور کے سانحہ اور اس سے پہلے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والے سانحات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ دہشت گرد ابھی تک سرگرم عمل ہیں، عین ممکن ہے کہ اُن کی معلوم پناہ گاہیں ختم یا کم ہو گئی ہوں،لیکن لگتا یہی ہے کہ ابھی تک وہ محفوظ مقامات پر بیٹھ کر منصوبہ بندی بھی کرتے ہیں، خود کش بمبار بھی اُن کو میسر ہیں، جن کی وہ برین واشنگ اور تربیت کرتے ہیں اور اُنہیں تیار کر کے تباہی کے مشن پر بھیجتے ہیں جو خود کش بمبار ایسی وارداتوں میں استعمال ہوتے ہیں اُن کا تعلق اِسی معاشرے سے ہے، اُن کے والدین ہیں، بھائی بہنیں ہیں، دوسرے عزیز و اقارب ہیں اِن میں سے کوئی نہ کوئی تو ان کے خطرناک منصوبوں سے آگاہ اور باخبر ہوتا ہو گا۔ یہ لوگ کہیں نہ کہیں بیٹھ کر خود کش جیکٹیں بناتے ہیں، اِن جیکٹوں کی تیاری کرنے والے لوگ بھی اکثر اِس معاشرے میں رہتے ہیں پھر وہ کہیں نہ کہیں سے اسلحہ خریدتے اور اسے سٹور بھی کرتے ہیں، یہ سارا نیٹ ورک اگرہزاروں نہیں تو سینکڑوں افراد پر تو مشتمل ہوتا ہو گا، کیا وجہ ہے کہ اِن کے ٹھکانوں کا پوری طرح علم متعلقہ حکام کو نہیں ہوتا؟ کیا انہیں اس طرح کا تعاون نہیں ملتا جو ملنا چاہیے؟

یہ درست ہے کہ حالیہ برسوں میں انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کے باہمی ربط ضبط کے نتیجے میں بہت سے نیٹ ورکس کا سراغ ملا ہے، دہشت گرد پکڑے بھی گئے ہیں، کئی وارداتوں کا سراغ بھی مل گیا ہے۔ اِس حقیقت کا اعتراف نہ کرنا ظلم ہو گا،لیکن ہم جس بات پر زور دینا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو پناہ دینے یا نرم سے نرم الفاظ میں اُنہیں نظر انداز کرنے میں معاشرے کے بعض افراد (یا کسی حد تک بعض طبقات) ضرور شریک ہیں، جن ماؤں کے بچے اِس ظلمِ عظیم میں استعمال ہوتے ہیں کیا اُنہیں خبر نہیں ہوتی کہ اُن کا بچہ کس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہے؟ اور اگر خبر ہوتی ہے تو ایسے بچوں کے والدین بھی تو سہولت کار کی تعریف میں آتے ہیں، اِس لئے ہمارے خیال میں سیکیورٹی کے تمام اداروں کو اپنی اینٹی ٹیررازم حکمت عملی کے تمام پہلوؤں کا ازسر نو جائزہ لینا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا اِس سٹرٹیجی میں کہیں کوئی ایسا رخنہ تو نہیں ہے جس پر اب تک اُن کی نظر نہ گئی ہو،لیکن وہ دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کی نگاہ میں ہو اور وہ اس سے استفادہ کر کے تمام تر سیکیورٹی انتظامات کو ناکارہ بنا کر واردات کر گزرتے ہوں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ایسی واردات کے بعد کچی پکی اطلاعات کے سیلاب کا ایک گیٹ کھل جاتا ہے۔ ان میں سیکیورٹی اداروں کو گمراہ اور تفتیش کو غلط راستے پر ڈالنے کا بھی خاصا سامان ہوتا ہے، ایسی اطلاعات منظر عام پر لانے والے دانستہ یا نادانستہ دہشت گردوں کے لئے سہولت کاروں ہی کا کردار ادا کرتے ہیں، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے سیکیورٹی اداروں سے تعلق رکھنے والے بعض اعلیٰ افسر اپنی بہادری،پیشہ ورانہ اہلیت اور ضرورت سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی کی وجہ سے بعض اوقات ایسے ’’خطرناک زون‘‘ میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں دہشت گردوں کے لئے انہیں نشانہ بنانا آسان ہو جاتا ہے۔یہ بہت ضروری ہے کہ ہمارے اداروں کے اعلیٰ افسر بے شک خود اعتمادی کے ساتھ عوام کے درمیان گھلیں ملیں، لیکن اُنہیں خود اپنی ذات، اپنے اداروں کی ساکھ اور بطور مجموعی حکومت کی اہلیت و کارکردگی سب کو پیش نظر رکھ کر اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں، بھیڑ بھاڑ اور پُرہجوم مقامات پر ان اعلیٰ افسروں کا ایکسپوژر انہیں دہشت گردوں کا آسان ٹارگٹ بنا دیتا ہے۔

جنگوں کی تاریخ کے حادثات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ نتیجہ سامنے آئے گا کہ بے خوفی و بہادری کی غیر معمولی اساطیری شہرت رکھنے والے بعض افسر اپنے حد سے بڑھے ہوئے اعتمادکے سحر میں گرفتار ہو کر دشمن کا نشانہ بن گئے، یہ حکمت عملی کا ایک پہلو ہے ہمارا خیال ہے کہ ان اداروں کو اپنی حکمت عملی کے ایک ایک پہلوکو دوبارہ نقد و نظر کی چھلنی سے گزار لینا چاہئے اور اس کے بعد ایسے تمام رخنے اورروزن بند کر دینے چاہئیں جہاں سے دشمن فائدہ اُٹھا سکتا ہو، یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب متعلقہ ادارہ کسی صوبائی حکومت یا ادارے کو یہ اطلاع دیتا ہے کہ فلاں شہر میں دہشت گردی کا خطرہ ہے یا دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں تو اسے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا غالباً یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا یہ رویہ اگرچہ اعتماد اور خود اعتمادی کا مظہر ضرور ہے، بلاوجہ افرا تفری کا شکارنہ ہونا اچھی صفت ہے لیکن اس کی وجہ سے دہشت گردوں کو ایسے سافٹ مقامات مل جاتے ہیں جہاں وہ کارروائی کر گزرتے ہیں۔ یہ بات کسی وقت نظر انداز نہیں کی جانی چاہئے کہ دہشت گرد سفاکی کی آخری حدود سے بھی گزر چکے ہوتے ہیں اُن سے کسی بھی بات کی توقع کی جا سکتی ہے اِس لئے ایسی سفاکی کا مقابلہ معمول کی تدبیروں اور حکمت عملی سے نہیں ہو سکتا اس کے لئے پوری تزویراتی سکیم کی اوور ہالنگ ضروری ہے۔

مزید : اداریہ