پاکستانی فلمی صنعت اور نئے پرندے

پاکستانی فلمی صنعت اور نئے پرندے
 پاکستانی فلمی صنعت اور نئے پرندے

  

شاہسوارمیدان شعر و سخن جناب احمد ندیم قاسمی نے ہمیشہ قلم کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھا۔ دھیمے لہجے میں گفتگو کا جو سلیقہ ان کو آتا تھا وہی ان کی ایسی انفرادیت تھی جس پر دوست اور دشمن سبھی وارفتگی کا اظہار و اعتراف کرتے تھے۔ یہ وہی احمد ندیم قاسمی ہیں جنہوں نے شاعری کی تو الفاظ اور معانی کی شان و شوکت کو برقرار رکھا اور افسانہ لکھا تو اس فن کو بام عروج پر پہنچا دیا اور ہر سطر میں منظر نگاری کے ایسے نقش و نگار بنائے کہ پڑھنے والا از خود افسانے کا ایک کردار سمجھ کر اس میں ڈوب جاتا۔ افسانے کے کرداروں کے حوالے سے اپنے ملک کے دیہی ثقافتی پس منظر کو ایسا اجاگر کیا کہ قاری کو یوں محسوس ہوا کہ وہ خود کھیتوں میں کھلیانوں میں قدم قدم بدلتے موسموں کی فصلوں کی مہک سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔

یوں تو احمد ندیم قاسمی کے سارے ہی افسانے موضوع اسلوب تحریر کے حوالے سے منفرد و مقبول تھے لیکن ان کے افسانے ’’گنڈاسہ ‘‘ کو نصف صدی سے ادبی اور فلمی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ ’’گنڈاسہ‘‘ کو فلم کا اسکرپٹ بنایا گیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس افسانے کے سارے مرکزی کردار اور اس کا پس منظر اس بات کا متقاضی تھا کہ اس افسانے کو بڑی سکرین کے لئے سجا بنا کر فلم کے روپ میں پیش کیا جائے۔ چنانچہ ہدایت کار حسن عسکری اور مصنف ناصر ادیب نے اس افسانے کو فلم اسکرپٹ کی صورت دینے کے لئے شب و روز محنت کی اور فلم جب ’’وحشی جٹ‘‘ کے روپ ہی ریلیز ہوئی تو اس فلم کو ناظرین نے بے حد پسند کیا اور احمد ندیم قاسمی کے تخلیق کردہ کرداروں پر مقبولیت کے حوالے سے مہر تصدیق ثبت کر دی۔اس فلم کی ریلیز کے بعد فلمی دنیا کی بھیڑچالی کے مطابق ہدایت کار حسن عسکری اور مصنف ناصر ادیب کی خاطر خواہ پذیرائی ہوئی اور ہر فلمساز نے ان دونوں سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان کو بھی ’’وحشی جٹ‘‘ جیسی ہی فلم بنا کر دی جائے۔ دونوں طرف کے کمرشل تقاضوں پر سرتسلیم خم کرتے ہوئے فلمی صنعت اس ڈگر پر چل نکلی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ’’وحشی جٹ‘‘ میں سے جو ایک تاریخی فلم منظر عام پر آئی اس کو ’’مولا جٹ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اب اگر اس طرح سے کہا جائے کہ ’’گنڈاسہ‘‘ کے بطن سے فلم ’’وحشی جٹ‘‘ پیدا ہوئی اور پھر ’’وحشی جٹ‘‘ کے بطن سے ’’مولا جٹ‘‘ نے جنم لیا اور اس کے بعد جس ناقابل تردید حقیقت نے جنم لیا تو وہ یہ ہے کہ ’’مولا جٹ‘‘ کی تاریخ ساز کامیابی کے بعد 95فیصد پنجابی فلموں نے اس کی تقلید کی اور فلمی صنعت ایک ایسی ڈگر پر چل نکلی کہ جس نے نہ صرف پہلے اردو فلموں کا صفایا کیا اور بعدازاں فلمی صنعت کو سلطان راہی کی زندگی تک ہماری فلمی صنعت ’’مولا جٹ‘‘ کی گرفت سے باہر نہ نکل سکی اور سلطان راہی اور ناصر ادیب ’’گنڈاسہ فیم‘‘ کہلانے کے ساتھ ساتھ پنجابی فلموں میں انہی کرداروں کو لے کر آگے بڑھتے رہے۔ پنجابی فلموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے نہ از خود کچھ سوچا اور نہ مصنف ناصر ادیب کو اس سے ہٹ کر سوچنے کا موقع دیا۔ یہ مصنف ناصر ادیب کی جرات رندانہ تھی کہ اس نے ایک موقع پر جب انہیں ایک ہی رنگ میں فلمی کہانیاں لکھتے ہوئے کئی سال ہو گئے تو انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میں 25سال سے ایک ہی کہانی لکھ رہا ہوں اور اس اعتراف کے بعد بھی پنجابی فلموں پر سرمایہ کاری کی والوں کے درجہ انجماد تک پہنچے ہوئے ذہن کو کوئی جنبش نہ ہوئی اور پھر دیوانہ وار ایک ہی طرز کی پنجابی فلموں کو پرڈیوس کرنے پر بضد رہے اور اس وقت اس فارمولے پر کاربند رہے۔ جب تک سلطان راہی۔ راہی ملک عدم نہ ہوا۔

اس صورت حال اور طویل عرصے پر محیط انداز فلمسازی کا جائزہ لیں تو صرف ایک نام ایسا نظر آتا ہے جس کے ذہن رسا نے اس ڈگر سے ہٹ کر اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ایکشن اور مار دھاڑ کی فلموں سے مختلف جذبہ عشق و محبت اور سماجی مسائل کو موضوع بنا کر فلمی صنعت کو ایسی فلمیں فراہم کیں جنہوں نے نہ صرف کامیابی حاصل کی بلکہ فلم بینوں کو مدھر موسیقی اور لطیف جذبات کی خوبصورت آمیزش سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیا۔ ان کا نام سید نور ہے اور اس وقت وہ نہ صرف فلمی صنعت کو لیڈ کررہے ہیں بلکہ اپنے طور پر اپنی سوچ اور وسائل کے مطابق فلمسازی کے عمل میں مصروف ہیں۔ اگرچہ فلمسازی کے بڑھتے ہوئے اخراجات ان کے راستے کی ایک بڑی دیوار بن چکے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنے زور بازو سے اس دیوار کو ڈھانے کی سعی میں مصروف ہیں۔

ناصر ادیب ان دنوں فلموں سے تقریباً کنارہ کش ہو چکے ہیں لیکن ان لوگوں کو ان کے اس احسان عظیم سے روگردانی نہیں کرنی چاہیے کہ جنہوں نے ان کی لکھی ہوئی فلموں سے کروڑوں روپے کمائے اور خود کو مالی طور پر مستحکم کیا اور ناموری بھی حاصل کی۔اب کچھ عرصے سے یہ بات کہی اور سنی جا رہی ہے کہ ہماری فلمی صنعت اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑی ہو رہی ہے۔ خدا کرے یہ ایک ایسا سچ ثابت ہو جسے ہم آنے والی کل میں ایک واضح شکل و صورت میں دیکھ سکیں۔ وہ واضح شکل و صورت یہی ہے کہ لاہور کے نگار خانوں میں ایک بار پھر وہی چہل پہل نظر آئے جو اس کے عروج کے زمانے میں ہوا کرتی تھی لیکن اس کے لئے زبانی نہیں شعوری کوششوں کی ضرورت ہے۔بات گنڈاسہ، وحشی جٹ اور مولا جٹ سے شروع ہوئی تھی اب سنا ہے کہ کوئی نئے لوگ ’’مولاجٹ‘‘ کے نام سے فلم بنا رہے ہیں تو سوچتا ہوں کہ سلطان راہی کا فن اور ناصر ادیب کے زور بیان سے ہمہ گیر زندگی پانے والے مکالموں کا انداز اور اپروچ اور مصطفےٰ قریشی کی عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کرنے والی اداکاری اب کہاں سے میسر آئے گی۔ اس قد کاٹھ کے فن کاروں کی جوڑی جن کے کندھوں پر فلمی صنعت کا سارا بوجھ ایک طویل عرصہ تک رہا اور انہوں نے خوش اسلوبی اور بغیر کسی تھکن اور ملال کے اٹھائے رکھا کہاں ملے گی؟ اس لئے ’’مولاجٹ‘‘ بنانے کا خیال آج کے دور میں خام خیالی کے سوا کچھ نہیں اگر ان لوگوں کے پاس معقول سرمایہ ہے تو وہ ہدایت کار سید نور جیسے ہدایت کار کو لے کر فلم بنانے کا شوق پورا کریں اس طرح توقع کی جا سکتی ہے کہ ان کا سرمایہ بھی محفوظ رہے گا اور ملکی فلمی صنعت کو ایک قد آور فلم بھی میسر آئے گی۔ باقی جہاں تک نئے لوگوں کے ٹیلنٹ اور جدوجہد کا تذکرہ ہے تو اس سے انکار نہیں ہے لیکن ایک ایسے مقام پر آنے میں وقت لگے گا کہ جہاں پر ان کے کندھوں پر اعتماد کا بوجھ ڈالا جا سکے۔بقول شاعر:

پیار کا پہلا خط لکھنے میں کچھ وقت تو لگتا ہے

نئے پرندوں کے اڑنے میں کچھ وقت تو لگتا ہے

مزید :

کالم -