پانی کے بغیر تمام تر ترقی بے سود ہے، میاں زاہد حسین

پانی کے بغیر تمام تر ترقی بے سود ہے، میاں زاہد حسین

  

کراچی(اکنامک رپورٹر) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ وافر پانی کے بغیر ملکی ترقی کیلئے اٹھائے گئے تمام اقدامات بے سود ثابت ہونگے۔ بڑھتی آبادی، شہروں کی جانب نقل مکانی کا رجحان، موسمیاتی تغیراورمناسب واٹر مینیجمنٹ میں ناکامی نے پانی کی دستیابی کی مجموعی صورتحال کو مخدوش کر دیا ہے اور2025 تک ملک قحط جیسی صورتحال میں مبتلاء ہو سکتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ایک زمانہ میں پاکستان پانی کی دولت سے مالا مال تھا مگر 1990 تک ملک میں پانی کی دستیابی کم ہو گئی جو 2005سے شدت اختیار کر گئی ہے مگر پالیسی ساز اس معاملہ پر سنجیدہ نہیں۔متعلقہ ماہرین نے ملک میں پانی کی کمی سے مضمرات کے بارے میں بارہ ہا متنبہ کیا مگر کسی کے کان پر جون تک نہیں رینگی جس سے ملک میں فی کس پانی کی دستیابی کم ہوتی چلی گئی اور وہ وقت دور نہیں جب پانی کا حصول مشکل ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعد عالمی بینک نے کہا تھا کہ پاکستان میں ہر دہائی میں تربیلا ڈیم جیسا ایک ڈیم بننا ضروری ہے مگر اس مشورے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا جس کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ اب پاکستان پانی کی کمی کے شکار ممالک میں تیسرے نمبر پر آ گیا ہے جہاں فی کس پانی کی دستیابی 1017 مکعب میٹر تک گر گئی ہے۔

یہ مقدار 2009 میں 1500 مکعب میٹر تھی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر اب بھی صورتحال کی سنگینی کو محسوس نہ کیا گیا تو ہماری عوام، زراعت اور صنعت پر منفی اثرات مرتب ہونگے اور پانی کے معاملہ میں ملک میں سنگین سیاسی بحران جنم لے گا ۔

مزید :

کامرس -