ایوانِ قائداعظمؒ میں نظریاتی تعلیمی سرگرمیوں کا شاندارآغاز

ایوانِ قائداعظمؒ میں نظریاتی تعلیمی سرگرمیوں کا شاندارآغاز

نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے پاکستان آگہی پروگرام کے تحت

پاکستان آگہی پروگرام کا بنیادی مقصد طلبا وطالبات کو پاکستان کی مجموعی شخصیت اور اس کی عظمت واہمیت سے روشناس کروانا ہے

رپورٹ: محمد سیف اللہ چوہدری

نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے زیراہتمام تعمیر ہونیوالا عظیم الشان ایوان قائداعظمؒ کارکنان تحریک پاکستان کے خوابوں کی تعبیر اور ایک ایسی عظیم نظریاتی درس گاہ ثابت ہو گی جہاں سے افکار قائداعظمؒ کی روشنی چہار سُو پھیلے گی۔ ایوانِ قائداعظمؒ نہ صرف نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ بلکہ پوری پاکستانی قوم کی جانب سے اپنے عظیم قائد کو خراج عقیدت ہے اوریہاں سے ہمہ وقت بابائے قوم کے افکارونظریات کا ابلاغ ہوگا۔ اس ایوان کیلئے تحریک پاکستان کے ایک بے لوث کارکن اور پنجاب کے درویش صفت سابق وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں نے جگہ کا انتظام کیا اور یہاں بابائے قوم کے نام نامی سے منسوب وطن عزیز کی اوّلین عمارت بنانے کا شرف مجید نظامی نے حاصل کیا۔ ایوان قائداعظمؒ کی موجودہ عمارت میں چار منزلہ لائبریری، تین منزلہ تصویری گیلری ، ایک آڈیٹوریم ،ایڈمنسٹریشن بلاک، پرنٹنگ پریس ، مسجد، ریسرچ سکالرز کے دفاتر سمیت تمام متعلقہ شعبہ جات قائم کیے گئے ہیں۔ تین منزلہ تصویری گیلری کا ایک فلور شہدائے پاکستان کے نام منسوب کیا گیا ہے اور اس فلور کی تیاری میں آئی ایس پی آر (ISPR) کی معاونت حاصل ہو گی۔ایوان قائداعظمؒ پاےۂ تکمیل کے قریب پہنچ چکا ہے اور اب یہاں پاکستان آگہی پروگرام کے تحت نظریاتی تعلیمی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز بھی ہوگیا ہے۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کا پاکستان آگہی پروگرام نئی نسلوں کی نظریاتی تعلیم وتربیت میں بے حد ممدومعاون ثابت ہو رہا ہے اور اس کے طفیل نسل نو کے اذہان و قلوب میں نظرےۂ پاکستان راسخ کرنے کے ضمن میں ایک خاموش انقلاب برپا ہورہا ہے۔ دراصل قوم سازی کے لئے تعلیم سے بہتر کوئی شعبہ نہیں ہوتا تاہم ارباب اختیار نے اس شعبے کو نت نئے تجربات کے لئے تختۂ مشق بنائے رکھا ہے۔ماضی میں روشن خیالی کے پردے میں پاکستان کی نظریاتی اساس پر ایسے ایسے وار کئے گئے کہ تحریک پاکستان کے کارکنان شدید ذہنی اذیت محسوس کرنے لگے۔ ان حالات میں تحریک پاکستان کے ممتاز کارکن اور اس مملکت خداداد کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ مجید نظامی نے نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام صورتحال کے تدارک کے لئے ایک موثر پروگرام وضع کیا جس کا مقصد پاکستان کی نوجوان نسل میں اپنے وطن عزیز کی شاندار تاریخ‘ روشن مستقبل اور خود اُن کی اپنی صلاحیتوں کے بارے میں خود اعتمادی پیدا کرنا ہے۔ ٹرسٹ کے وائس چےئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد جو تحریک پاکستان کے ایک فعال کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ وطن عزیز کے ایک معروف ماہر تعلیم اور پنجاب یونیورسٹی اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جیسی عظیم درسگاہوں کے وائس چانسلر کے عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں‘ اُنہوں نے اپنے رفقائے کار سے مشاورت کے ساتھ انتہائی عرق ریزی سے اس پروگرام کی جزئیات طے کیں اور ایک ایسا جامع اور متحرک پروگرام ترتیب دیا جس کے تحت مختلف تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات کو ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان میں مدعو کرکے اور موبائل نظریاتی تعلیمی یونٹس سکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جا کر طلبا وطالبات کو قیامِ پاکستان کیلئے اسلامیان برصغیر کی زبردست جدوجہد‘ تحریک پاکستان کے حقیقی اسباب و مقاصد‘ قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے سیاسی‘ معاشی اور اسلامی دنیا سے متعلق وژن‘ پاکستان کے انمول قدرتی و انسانی وسائل اور آزادی کی بدولت حاصل ہونے والی ان گنت نعمتوں اور ترقی کے مواقع سے روشناس کروا دیا جاتا ہے۔اب پاکستان آگہی پروگرام صوبہ پنجاب کے دیگر شہروں سے نکل کر دوسرے صوبوں تک بھی جا پہنچا ہے اور وہاں کے طلباوطالبات بھی اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں۔اس پروگرام کے ذریعے طلبا وطالبات کو 1947ء کی بے سروسامانی اور آج کل کے تکلیف دہ مسائل کے باوجود پاکستان نے مختلف شعبوں میں جو قابلِ رشک ترقی کی ہے‘ اس کے بارے میں بھی بالتفصیل آگاہ کیا جاتا ہے۔ پروگرام کو مزید موثر بنانے کیلئے ملٹی میڈیا کی مدد سے تاریخی اور جدید موضوعات پر مشتمل دستاویزی فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔ طلبہ کو برابری کی سطح پر شریک محفل کرنے کے لئے سوالات اور خیال افروز تبصروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور نظریاتی آبیاری کے لئے ان میں نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ کی شائع کردہ مطبوعات بھی مفت تقسیم کی جاتی ہیں۔ ان نظریاتی معلومات سے نوجوانوں میں خود اعتمادی اور احساسِ تفاخر پیدا ہوتا ہے‘ ان کی آرزوئیں اور امنگیں جاگ اٹھتی ہیں‘ وہ اُمید وعزم اور لگن کے ساتھ علوم و فنون کی اعلیٰ منزلیں طے کرنے کیلئے سخت محنت کرتے ہیں اور اپنے کردار اور کیرےئر کی بلندیوں پر پہنچنے کیلئے عقابی روح سے سرشار ہوجاتے ہیں۔25دسمبر 2008ء کو اس پروگرام کے آغاز سے اب تک 30لاکھ سے زائد طلبا و طالبات اِس سے استفادہ کرچکے ہیں۔ اب یہی پروگرام پورے جوش و جذبے سے ایوانِ قائداعظمؒ میں شروع کیا گیا ہے۔ 11فروری 2017ء بروز ہفتہ کو ایوان قائداعظمؒ میں پاکستان آگہی پروگرام کی نظریاتی تعلیمی سرگرمیوں کا شاندار آغاز ہو گیا ۔ اس سلسلے میں تحریک پاکستان کے مخلص کارکن‘ سابق صدر مملکت اور نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ کے چےئرمین محمد رفیق تارڑ کی زیر صدارت ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ذیل میں اس تقریب کی روداد پیش کی جارہی ہے۔

’’ ایوانِ قائداعظمؒ افکار قائداعظمؒ کے فروغ کا عالمی مرکز ثابت ہوگا۔ یہ امر انتہائی مسرت کا باعث ہے کہ آج سے اس ایوان میں ’’پاکستان آگہی پروگرام‘‘ کا آغاز ہورہا ہے‘ اس ایوان کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد جلد ہی اس کا باضابطہ افتتاح کیا جائے گا۔ پاکستان آگہی پروگرام کا بنیادی مقصد طلبا و طالبات کو پاکستان کی مجموعی شخصیت اور اس کی عظمت و اہمیت سے روشناس کرانا‘ انہیں وطن عزیز کے بارے میں امتیازی معلومات فراہم کرنا اور اُنہیں پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کیلئے تیار کرنا ہے۔نظرےۂ پاکستان کی اساس کلمۂ طیبہ یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریمؐ کی رسالت پر ہے‘ یہ نظریہ اور اس کی بنیاد پر قائم ہونے والی یہ ریاست تا قیامت قائم و دائم رہے گی‘‘۔ ان خیالات کا اظہار تحریک پاکستان کے مخلص کارکن ، سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے ایوان قائداعظمؒ لاہور میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے زیراہتمام جاری پاکستان آگہی پروگرام کی تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز پر منعقدہ تقریب کے دوران اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ اس موقع پر وائس چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد، چیف کوآرڈی نیٹر میاں فاروق الطاف، جسٹس(ر) خلیل الرحمن، بیگم مہناز رفیع، کالم نگارو ادیبہ بیگم بشریٰ رحمن، پروفیسر ڈاکٹرایم اے صوفی،معروف کالم نگار اثر چوہان ،چوہدری ظفر اللہ خان، ممتازدانشور محمد آصف بھلی، بیگم صفیہ اسحاق، گوہر علی خان، نظریۂ پاکستان فورم سیالکوٹ کے صدر اسد اعجاز،سعیدہ قاضی، بیگم فوزیہ چیمہ، مولانا محمد شفیع جوش، میجر(ر) صدیق ریحان،عزیز ظفر آزاد،پیر اکمل اویسی،پروفیسر شفیق کھوکھر، سید اسداللہ ، انعام الحق گیلانی، پروفیسر رضوان الحق، منظور حسین خان، نواب برکات محمود، انورکمال ،اساتذۂ کرام اور طلبا وطالبات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین وحضرات کی کثیر تعداد موجود تھی۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک ، نعت رسول مقبولؐ اور قومی ترانہ سے ہوا۔ قاری خالد محمود نے تلاوت جبکہ معروف نعت خواں الحاج حافظ مرغوب احمد ہمدانی نے نعت رسول مقبولؐ سنانے کی سعادت حاصل کی ۔ الحاج اختر حسین قریشی نے ’’ملت کا پاسبان ہے محمد علی جناحؒ ‘‘ نظم سنائی۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض سیکرٹری نظریۂ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید نے انجام دیے۔

پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ قائداعظمؒ نے نوجوانوں کو جہد مسلسل کا پیغام دیا۔نئی نسل اس عزم کا اظہارکرے کہ پاکستان ہی اس کا اوڑھنا بچھونا ہو گا۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ ملک کا واحد ادارہ ہے جس نے اپنے آپ کو تحریک پاکستان کی الف سے ے تک مخصوص کیا ہوا ہے۔ایوان قائداعظمؒ ایک ہمہ جہت ادارہ ثابت ہوگا جہاں مختلف تقاریب کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔اس ایوان سے قائداعظمؒ کا پیغام پورے ملک میں پہنچے گااور یہاں سے علم وآگہی کی روشنی چار سُو پھیلے گی۔معاشرہ کے تمام طبقات کو تحریک پاکستان ،دوقومی نظریہ، قیام پاکستان کے حقیقی اسباب ومقاصد اور مشاہیر تحریک آزادی کے افکاروخیالات سے آگاہ کیا جائے گا۔ایوان قائداعظمؒ سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے نہایت زوردار آواز بلند ہو گی۔انہوں نے ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید اور ان کے رفقاء کو شاندار کارکردگی پر سراہتے ہوئے کہا کہ وہ نہایت لگن ،ایمانداری اور جذبے سے ٹرسٹ کے مقاصد کے حصول کیلئے کام کر رہے ہیں۔

میاں فاروق الطاف نے کہا کہ قائداعظمؒ کو خراج عقیدت وتحسین پیش کرنے کیلئے یہ ایوان تعمیر کیا گیا ہے۔ قائداعظمؒ سرتاپا خوبیوں کے مالک تھے اور ان کی سب سے بڑی خوبی ان کا ہمیشہ سچ بولنا تھا۔ قائداعظمؒ نے نوجوانوں کو وقت کی قدر ، علم حاصل کرنے اور منزل کا تعین کرکے اس کے حصول کی طرف گامزن ہونے کی تلقین کی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جو قومیں ان باتوں پر عمل نہیں کرتیں وہ کامیابی کے راستے پر گامزن نہیں ہو سکتی ہیں۔ہماری منزل مسئلہ کشمیر کا حل ،کالاباغ ڈیم کی تعمیر اور پاکستان کو ترقی یافتہ خوشحال ملک بنانا ہے۔

جسٹس(ر) خلیل الرحمن نے کہا کہ مسلمانان برصغیر نے قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں تحریک آزادی کے دوران جان و مال کی لازوال قربانیاں دیں۔قائداعظمؒ نے ہمیں ’’ایمان ،اتحاد، تنظیم ‘‘ کا درس دیا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اہمیت اور ضرورت واضح ہوتی جا رہی ہے۔ہمیں ہمیشہ ملکی مفاد کو پیش نظر رکھنا اور ملکی تعمیروترقی میں اپنا کردار اداچاہئے۔

شاہد رشید نے کہا کہ آج سے ایوان قائداعظمؒ سے بھی ان تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہو رہا ہے جو سالہا سال سے ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں جاری ہیں۔ایوان قائداعظمؒ سے بابائے قوم کے افکار ونظریات کی بھرپور ترویج واشاعت کی جائے گی۔یہاں سے پاکستان اور افکار قائداعظمؒ کا پرچم بلند ہو گا۔آج ہم اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستان کو قائداعظمؒ کے خوابوں کی تعبیر کے مطابق بنانے کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

پروگرام کے آخر میں مولانا محمد شفیع جوش نے قائداعظمؒ کے ایصال ثواب وبلندئ درجات اور ملکی تعمیر واستحکام کیلئے خصوصی دعا کروائی۔ قبل ازیں محمد رفیق تارڑ نے کارکنان تحریک پاکستان اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے عہدیداران کے ہمراہ ایوان قائداعظمؒ میں تحریک پاکستان کی تصویری گیلری کا افتتاح بھی کیا۔

مزید : ایڈیشن 2