نیو رو انسٹی ٹیوٹ ، خود مختاری کے بجائے ٹکرے ٹکرے کر دیا گیا

نیو رو انسٹی ٹیوٹ ، خود مختاری کے بجائے ٹکرے ٹکرے کر دیا گیا

  

لاہور(جاوید اقبال)ملک کے واحداور پہلے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز کو خود مختاری دینے کی بجائے مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے جس سے اس اہم ترین ادارے کی شکل و صورت اور نقشہ ہی تبدیل ہو گیا ہے اس ادارے کو وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت اور ویژن کے مطابق 500 بیڈز پر مشتمل بنایا گیا اور اس میں لاہور جنرل ہسپتال کے اندر نیورو سرجری سمیت اس سے متعلقہ تمام شعبہ جات کوضم کر دیا گیا جس کے لئے 3000سے زائد ڈاکٹروں سپیشلسٹ ،نرسوں ،پیرا میڈیکس ،فارما سسٹس سمیت دیگر ٹیکنیکل عملہ کی سیٹیں بھی منظور کی گئیں اس سلسلہ میں سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے بھی اس ادارے کے لئے بنائی گئی اربوں روپے کی عمارت میں پی سی ون کے مطابق مذکورہ ادارہ قائم کرنے کا حکم دیا جس کے تحت ایک سال قبل یہ ادارہ قائم کر دیا گیا مگر اس کو تاحال بورڈ آف مینجمنٹ لاہور جنرل ہسپتال اور محکمہ صحت خود مختاری دینے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کر سکا ۔لاہور جنرل ہسپتال اور پی جی ایم آئی کی انتظامیہ نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ایک طرف جہاں اپنے اپنے مختلف شعبہ جات قائم کرنا شروع کر دیئے ہیں وہاں مخصوص سٹاف کو بھی ادھر ادھر کرنا شروع کر دیا ہے اور اس ادارے کے لئے جن سیٹوں پر مختلف ڈاکٹرز اور دیگر ٹیکنیکل سٹاف رکھا گیا تھا اس کو بھی لاہور جنرل ہسپتال اور پی جی ایم آئی میں تبدیل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے جس سے اس ادارے کا حلیہ بگڑنا شروع ہو گیا ہے ۔ابتدائی طور پر اس ادارے کی منظور شدہ سیٹ پر بھرتی کی گئی چیف فارما سسٹ کو لاہور جنرل ہسپتال میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ادارے کے لئے منظور شدہ نرسوں کی سینکڑوں سیٹوں کو بھی یہاں سے نکال لیا گیا ہے ۔ڈاکٹروں کی سیٹیں بھی لاہور جنرل ہسپتال اور پی جی ایم آئی میں منتقل کی جا رہی ہیں یہ انکشافات وزیر صحت سپیشلائزڈ ہیلتھ خواجہ سلیمان رفیق اور سیکریٹری ہیلتھ نجم احمد شاہ کو نیو رو سائنسز کے مختلف ڈاکٹرز اور عملہ کی طرف سے بھجوائے گئے مراسلوں میں کیا گیا ۔جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کے اندر پی آئی سی لاہور 250بیڈز پر مشتمل خود مختار ادارہ ہے اسی طرح برن یونٹ جناح ہسپتال 78بیڈز پر مشتمل ہے اسی طرح ملتان اور فیصل آباد میں کارڈیک ہسپتال بھی 200 ،200بیڈز پر مشتمل ہیں ان اداروں کو خود مختاری دے دی گئی ہے مگر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز لاہور جو لاہور جنرل ہسپتال میں واقع ہے یہ ادارہ 500بیڈز پر مشتمل ہے مگر اس کو تاحال خود مختاری نہیں دی گئی اگر اس ادارے کو خود مختاری نہ دی گئی تو پاکستان میں آنے والے سالوں میں نیورو سائنسز کا شعبہ تباہ و برباد ہو جائے گا اور اچھے نیورو سرجن پیدا نہیں ہو سکیں گے اس حوالے سے وزیر صحت خواجہ سلیمان رفیق سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ مراسلہ موصول ہو گیا ہے جس کا جائزہ لے رہے ہیں ۔لاہور جنرل ہسپتال میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز کے لئے بنائی گئی عمارت میں نیورو سائنسز کے شعبہ جات ہی قائم ہونے چاہیں اس ادارے کو خود مختاری دینے کے حوالے سے کمیٹی قائم کی جا رہی ہے جو اس کا بغور جائزہ بھی لے گی اور سفارشات مرتب کرے گی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -