سابق اے جی پنجاب کی معطلی کے بجائے تبادلہ ،تحریک التواء اسمبلی میں جمع

سابق اے جی پنجاب کی معطلی کے بجائے تبادلہ ،تحریک التواء اسمبلی میں جمع

لاہور( لیڈی رپورٹر) تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی نبیلہ حاکم علی نے کرپٹ اور مقدمے میں نامزد سابق اے جی پنجاب کو معطل کرنے کی بجائے اسلام آباد تبادلہ کرنے کے خلاف اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک التواء کار جمع کرادی۔بیوروکریسی ظفر حسن رضا کو بچانے کیلئے متحرک ہو گی ہے۔

اعلیٰ احکام نے 20محکمانہ انکوائریوں اور مقدمات سے جان چھڑانے کیلئے سابق اے جی پنجاب کو بچانے کیلئے اسلام آباد ٹرانسفر کردیا ہے۔انہوں نت تحریک التواء میں مزید موقف اختیار کیاذرائع کے مطابق سابق اے جی پنجاب ظفر حسن رضا کے خلاف ملازمین پر تشدد کرانے کے جرم میں مقدمہ درج ہے جبکہ موصوف نے اے جی آفس کی کینٹین اور ڈسپنسری پر سترہ لاکھ روپے سرکاری خزانے سے کرچ کرکے اسے ذاتی رہائشگاہ میں تبدیل کیا تھا ۔اس کے علاوہ سابق اے جی کی بیس محکمانہ انکوائریاں چل رہی ہیں۔جبکہ ان کی گریڈبائیس میں ترقی بھی قریب آگئی تھی جس کے باعث بیوروکریسی نے ان کی انکوائری اور مقدمات میں گھسیٹنے کی بجائے انہیں اسلام آباد ٹرنسفر کردیا ہے اور پروموشن بورڈ نے ان کی ترقی کیلئے ان کا نام وزیر اعظم کو بھجوا دیا ہے۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کرپٹ افسر کے خلاف محکمانہ کاروائی مکمل کی جائے اور پھر ان اپ گریڈیشن کی جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1