حقوق اہلسنت محاذ کا اجلاس ،سانحہ مال روڈ کی شدید مذمت

حقوق اہلسنت محاذ کا اجلاس ،سانحہ مال روڈ کی شدید مذمت

  

لاہور( وقائع نگار)حقوق اہلسنت محاذ کا اجلاس 11 ۔ داتا دربار روڈ لاہورمیں ہوا جس میں محاذ کے مرکزی امیر پیر سید شاہد حسین گردیزی، صاحبزادہ سیدمختار اشرف رضوی، علامہ محمد ندیم نقشبندی، مولانا دلدار احمد نوری، پروفیسر دین محمد، مولانا دلنواز، علامہ شفقت علی خان اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ میں چیرنگ کراس لاہور میں ہونے والے خود کش دھماکے کی زبردست مذمت کرتے ہوئے کہاگیا کہ پولیس افسران کا ڈرگ ڈیلر سے مزاکرات کاری نہیں تھا بلکہ ڈرگ ڈیلر سے مزاکرات وزیر صحت، سیکرٹری صحت یا چیف سیکرٹری کا تھا لیکن ان میں سے کسی نے اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کی اور ایک سیاسی کام پولیس افسران کے سپرد کر دیا جو دہشت گردی کا نشانہ بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلاموں کا خون بہانے والے جنتی نہیں اور نہ ہی ان درندوں کا اسلام سے کوئی تعلق ہے۔ اسلام کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے اسلام کی اصل شکل کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ان درندوں کی سرکوبی ضروری ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چیرنگ کراس میں ہونے والے خود کش بم دھماکے کے ذمہ دار احتجاج کرنے والے ڈرگ ڈیلر ہیں جن کے احتجاج کی وجہ سے اتنی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ لہذا حکومت فوراً احتجاج کرنے والے ڈرگ ڈیلروں دو نمبر دوائیاں بنانے والے موت کے سوداگروں کے خلاف جاں بحق ہونے والوں کا مقدمہ درج کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دردِ دل رکھنے والے ایماندار،دیانتدار، ڈرگ ایکٹ میں ہونے والی ترمیم سے نہ گھبرائیں۔ ڈریں وہ جو دو نمبر، جعلساز، فراڈیئے جو پوری انڈسٹری کی بدنامی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو نمبر دوائیاں فروخت کرکے انسانی زندگیوں سے کھیلنے والوں سے حکومت بلیک میل ہونے کی بجائے ان کالی بھیڑوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کرے پوری قوم حکومت کے ساتھ ہے۔ جبکہ مال روڈ لاہور میں ہائی کورٹ کے فیصلے پر قانون نافذ کرنے والے ادارے سختی سے عمل کرواتے ہوئے آئندہ ہر قسم کے احتجاج پر سختی سے پابندی کروائیں۔ انہوں نے احتجاج کرنے والوں سے کہا ہے کہ آئندہ ناصر باغ یا مینار پاکستان احتجاج کیا جائے۔ فوجی عدالتوں کے خاتمے کی وجہ سے دشمن کا حوصلہ بڑھا ہے۔ لہذا ملک وقوم کی سلامتی کیلئے فوجی عدالتوں کو کام کرنے دیا جائے۔ نام بدل کر کام کرنے والی کالعدم تنظیمیں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے کھلا چیلنج ہیں ان کی سرکوبی کی جائے۔ دہشت گردی کے خلاف ہونے والا ضرب عضب آپریشن تحفظ پاکستان کی جنگ ہے ہم اس جہاد میں پاک فوج اور پولیس کے ساتھ ہیں۔ اس آپریشن کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلایا جائے۔ اجلاس میں خود کش دھماکے میں شہداء کے بلندی درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔

Bac

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -