’ڈائنوسار بچے دینے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے‘نئی تحقیق میں انکشاف

’ڈائنوسار بچے دینے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے‘نئی تحقیق میں انکشاف
 ’ڈائنوسار بچے دینے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے‘نئی تحقیق میں انکشاف

  

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈائنوسیفالوسارس اپنی ساخت کے لحاظ سے بحری زندگی میں پوری طرح رچا بسا تھا۔سائنسدانوں کو پہلی مرتبہ اس چیز کا ثبوت ملا ہے کہ جانوروں کا گروہ جس میں ڈائنوسارز اور مگرمچھ بھی شامل ہیں ماضی میں بچے بھی دیتے تھے۔جانوروں کے یہ گروپ 'آرکوسارومورفا' کہے جاتے ہیں اور آج کے دور میں اس میں شامل تمام جانور انڈے دیتے ہیں۔اس پر سائنسدانوں کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کیا ان کی حیاتیاتی بناوٹ میں ہی یہ بات شامل ہے کہ یہ بچے نہیں دے سکتے۔لیکن لمبی گردن والے ساڑھے 24 کروڑ سال پرانے چین کے بحری ریپٹائل کے محجر باقیات کے معائنے پر پتہ چلا کہ اس جانور کے پیٹ میں ایک بچہ پل رہا تھا۔یہ تحقیق سائنسی جریدے 'نیچر کمیونیکیشن' میں شائع ہوئی ہے اور اس کے پہلے مصنف جون لیو نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ جاندار تین سے چار میٹر لمبا ہو سکتا ہے اور اس کی گردن تقریبا پونے دو میٹر لمبی تھی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -