الشیخ راید صلاح پر بیت المقدس و بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد

الشیخ راید صلاح پر بیت المقدس و بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد

مقبوضہ بیت المقدس(اے این این)مسلسل نو ماہ تک اسرائیلی جیل میں قید تنہائی کی سزا کاٹنے کے بعد حال ہی میں رہا ہونے والے بزرگ فلسطینی رہ نما الشیخ راید صلاح پر اسرائیل نے نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ فلسطینی رہنما کو صہیونی حکام نے بیت المقدس اور مسجد اقصی میں داخل ہونے اور بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کردی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق الشیخ راید صلاح پر بیت المقدس میں داخلے پر پہلے بھی پابندی عاید کی گئی تھی۔ اب اس میں مزید پانچ ماہ کی توسیع کردی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز اسرائیلی پولیس کی ایک پارٹی ام الفحم شہر میں الشیخ راید صلاح کے گھر پہنچی اور انہن وزیر داخلہ اریے درعی کے دستخطوں پر مشتمل ایک ملٹری نوٹس تھمایا۔ اس نئے نوٹس میں الشیخ راید صلاح کو ان پر عاید نئی پابندیوں کے بارے میں مطلع کیا گیا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس میں داخلے پر پہلے سے عاید پابندی میں پانچ ماہ کی توسیع کرتے ہوئے یہ پابندی 11 جولائی 2017 تک بڑھا دی گئی ہے۔اسی طرح وزارت داخلہ کی منظوری کے تحت بیرون ملک سفر پرعائد پابندی میں بھی پانچ ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔ نئے نوٹس کے تحت الشیخ راید صلاح 15 جولائی 2017 تک بیرون ملک سفر کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ ان کا نام اسرائیلی انتظامیہ کی ایگزیٹ کنٹرول لسٹ ای سی ایل میں شامل ہے۔خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر داخلہ نے الشیخ راید صلاح کی حال ہی میں جیل سے رہائی سے پہلے ہی ان پر ایک ماہ تک بیرون ملک سفر پر پابندی کا حکم دے دیا تھا۔الشیخ راید صلاح وادی الجوز میں جمعہ کے ایک پرانے خطبہ میں اسرائیلی ریاست کے خلاف اشتعال پھیلانے کے الزام میں نو ماہ تک پابند سلاسل رہے ہیں۔ انہیں حال ہی میں اسرائیلی جیل سے رہا کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ اسیر سعید بلال اسرائیلی جیلوں میں قید رہنے کے ساتھ ساتھ متعدد بار فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں بھی ایک سیاسی کارکن کے طور پر قید کاٹ چکے ہیں۔ بلال کے والد بکر بلال اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ایک سرکردہ رہ نما تھے جو دو سال قبل انتقال کرگئے تھے۔ بلال کے چارانکل میں سے دو اسرائیلی جیلوں میں قید اور دو جلا وطن ہیں۔

مزید : عالمی منظر