سپین اور مراکش سے دس انسانی اسمگلر گرفتار

سپین اور مراکش سے دس انسانی اسمگلر گرفتار

رباط/میڈرڈ(این این آئی)سپین اور مراکش کی پولیس نے بتایا ہے کہ دس ایسے افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جو مشتبہ طور پر انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ ان میں سے کچھ اسمگلر نائجیریا کی خواتین کو جنسی غلامی کی خاطر یورپ لا چکے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق گرفتار کیے جانے والے انسانوں کے مشتبہ اسمگلر آبنائے جبرالٹر کے ذریعے لوگوں کو یورپ پہنچاتے رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ گرفتار کیا جانے والا ایک مشتبہ شخص 2008سے اب تک مہاجرین کی قریب چالیس کشتیوں کو یورپ لا چکا ہے۔ یوں اسے مغربی بحیرہ روم میں سرگرم انتہائی نمایاں اسمگلر قرار دیا جا رہا ہے۔ہسپانوی وزارت داخلہ کے ایک محتاط اندازے کے مطابق 2015کے دوران اسی سمندری راستے سے سولہ ہزار نو سو چھتیس مہاجرین اسپین پہنچے تھے۔ ہسپانوی پولیس نے اپریل 2016 میں نائجیریا سے تعلق رکھنے والے سات مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔سال بھر تک جاری رہنے والی تحقیقات کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ یہ اسمگلر کم از کم 39خواتین کو صرف جنسی غلامی میں جھونکنے کی خاطر یورپ لائے تھے۔ ہسپانوی پولیس کے مطابق ان خواتین کو جبری طور پر جسم فروشی پر مجبور کیا گیا۔اسی تفتیشی عمل کے دوران پولیس نے مزید مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ اس حوالے سے تازہ ترین گرفتاریاں کب عمل میں آئیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کو اس وقت مہاجرین کے شدید ترین بحران کا سامنا ہے۔ اس بحران کے حل کی خاطر یورپی رہنما ایسے ممالک کی حکومتوں سے تعاون کر رہے ہیں، جہاں سے لوگ مہاجرت کر کے یورپ آنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مزید : عالمی منظر