میں سوچنے لگا ہوں مجھے مار دیجئے ؟

میں سوچنے لگا ہوں مجھے مار دیجئے ؟
 میں سوچنے لگا ہوں مجھے مار دیجئے ؟

  

دہشتگردوں نے ایک بار پھر پنجاب کے دل لاہور اور لاہور کے مرکز مال روڈ چیئرنگ کراس پر پولیس ، عوام اور میڈیا کو ٹارگٹ کیا۔ کیپٹن (ر) احمد مبین سمیت 13 افراد شہید اور 70 سے زائد زخمی ہو گئے۔ میڈیا پر ایک قیامت صغریٰ کا منظر تھا ، سیاستدانوں کے مذمتی بیان تھے ہسپتالوں میں ایمرجنسی کا نفاذ لاہور سمیت پنجاب اور اسلام آباد میں دفعہ 144 لگا دی گئی۔ دوسرے روز شہداء کے جنازے ہو گئے ، وی وی آئی پی حضرات نے شرکت کی، وزیر اعظم ، وزیر داخلہ ، چیف آف آرمی سٹاف ، چیئر مین سینٹ لاہور پہنچے۔ باری باری تمام حضرات کیپٹن (ر) احمد مبین کے اہل خانہ اور ہسپتالوں میں زخمیوں کو ملنے گئے۔ خاص طور پر وزیر اعظم اور سپہ سالار قمر جاوید باجوہ نے احمد مبین شہید کی والدہ سے بھی ملاقات کی اور پھر رات بھر بیانات جاری ہوتے رہے کہ ہم دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ کومبنگ آپریشن ہو گا جس کا آغاز پنجاب سے ہو گا۔

دہشتگردوں کو وسائل کی کمی نہیں مگر ہمارے سینکڑوں ہزاروں ایسے پولیس اہلکار ہیں جنہوں نے صرف دوران ٹریننگ فائرنگ کی ہو گی بعد میں روزانہ ان کو چند گولیاں گن کر دی جاتی ہیں اور رات کو واپس گن کر جمع کر لی جاتی ہیں۔ ایلیٹ فورس واحد ایسی فورس ہے جس کی ٹریننگ پر توجہ دی گئی جو ریگولر فائرنگ کرتی تھی مگر وہ وی وی آئی پی کی سکیورٹی پر لگا دی گئی ہے۔ ملک میں آرمی کورٹس ہونی چاہئیں یا نہیں اس پر نہ صرف سیاسی قیادت تقسیم ہے بلکہ میڈیا میں بھی آرمی کورٹس پر تنقید کی جاتی ہے ۔ سول عدالتیں سزائیں نہیں دے پا رہیں اس کی درجنوں وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں۔ آرمی نے ہزاروں شہادتیں دے کر جن علاقوں کو دہشتگردوں سے آزاد کروایا ہے وہاں پر سول ایڈمنسٹریشن کی رٹ کا مسئلہ ہے۔ آئی ڈی پیز کا مسئلہ ابھی تک اپنی جگہ موجود ہے۔ فاٹا ریفارمز پر سیاست عروج پر ہے۔ سیاستدان اور اہل سیاست بری طرح تقسیم ہیں سیاست سے لیکر اداروں تک اپنے اپنے شہید اور اپنے اپنے غازی پورے پروٹوکول کے ساتھ موجود ہیں۔ تحفظ پاکستان آرڈیننس کا کیا بنا ، نیشنل ایکشن پلان کے تحت فارن فنڈڈ این جی اوز کو بند کیا جانا تھا بلکہ این جی اوز کے حوالے سے ایک مرکزی پالیسی بنائی جاتی تھی جو نہیں بن سکی۔ کالعدم تنظیموں کیخلاف کریک ڈاؤن کیا جانا تھا مگر ابھی تک سیاست، مصلحت اور مفاہمت رکاوٹ ہے۔ افغان مہاجرین کے مسئلہ پر بھی سیاست جاری ہے حالانکہ اب افغانستان بھی بھارت اور امریکہ سے زیادہ پاکستان کیساتھ دشمنی کر رہا ہے۔

مدارس کی مانیٹرنگ اور فنڈنگ کی مانیٹرنگ اور سلیبس کا معاملہ طے کیا جانا ابھی باقی ہے۔ اداروں کی آپس میں کوآرڈینیشن کا فقدان ہے ، نیکٹا جس کو متحرک کیا جانا تھا اس کو بالکل لاوارث رکھا گیا ہے ، پھر کہتے ہیں کہ کئی ہفتے قبل تھریٹ کے بارے سرکلر جاری ہونے کے باوجود خود کش حملہ آور کو کیوں نہیں روکا جا سکا۔ سوال تو یہ ہے کہ ملک حالت جنگ میں ہے ہم اس جنگ میں 60 ہزار افراد شہید کروا کر اربوں روپے کی معیشت ، اپنا کلچر ، ثقافت، سیاحت تباہ کر چکے ہیں اور ہم یہ بات سمجھنے کو تیار ہی نہیں کہ آخر کون ہمارا دشمن ہے جو پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا جو پاکستان کے امن سی پیک اور پاکستان کی کرکٹ کا دشمن ہے عام بچہ بھی ان سوالوں کے جواب میں بتائے گا کہ بھارت ہے ہمارا دشمن مگر ہم بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کیلئے تیار نہیں ، سانحہ لاہور یا 16 دسمبر کے دن اے پی ایس کا واقع ہو ہر واقعہ کے پیچھے بھارت ، امریکہ اور افغانستان کا گٹھ جوڑ نظر آتا ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نہ تو اندرونی دشمن کو پہنچاتے ہیں اور نہ ہی بیرونی دشمن کو پہنچان رہے ہیں جب تک ہم بحیثیت قوم ملکر اپنے دشمن کو نہیں پہنچانیں گے ہم کو اسی طرح احمد مبین شہید جیسے پیاروں کی لاشیں اٹھانی پڑیں گی۔آخر میں احمد مبین شہید کی نظم کے چند اشعار جو انہوں نے 2017 ء جنوری کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھی۔

کافر ہوں، سر پھرا ہوں، مجھے مار دیجیے

میں سوچنے لگا ہوں ، مجھے مار دیجیے

ہے احترامِ حضرتِ انسان میرا دین

بے دین ہو گیا ہوں، مجھے مار دیجیے

میں پوچھنے لگا ہوں سبب اپنے قتل کا

میں حد سے بڑھ گیا ہوں، مجھے مار دیجیے

مزید :

کالم -