مغلپورہ ریلوے ورکشاپس ڈویژن اکاؤنٹس آفس مسائلستان بن گیا

مغلپورہ ریلوے ورکشاپس ڈویژن اکاؤنٹس آفس مسائلستان بن گیا

  

لاہور(بلال چوہدری)خستہ حال عمارت اور گرد و غبار سے اٹا ہوا ریکارڈ ڈویثرنل اکاؤنٹس آفس ریلوے مغلپورہ ورکشاپس کا خاصہ بن گئے ،جبکہ ریٹائرڈ ملازمین پینشن کے حصول کے لئے دفتر کے چکر لگانے پر مجبور ہو گئے ۔کلرک فی فائل 5سے 10ہزار کی ڈیمانڈ کرتے ہیں ریلوے حکام کو متعدد بار درخواستیں دینے کے باوجود کوئی داد رسی نہیں ہو رہی ،ریٹائرڈ ملازمین کی فریاد۔تفصیلات کے مطابق مغلپورہ ریلوے ورکشاپس میں موجود ریلوے ورکشاپس ڈویثرن کا اکاؤنٹس آفس مسائلستان بن گیا۔انگریز دور کی بنائی گئی عمارت خستہ حالی کا شکار ہے عمارت سے پہلے انگریزوں نے تو عمارت کے آس پاس گارڈن بنانے کے لئے جگہ چھوڑی تھی لیکن اب وہاں کوڑ کباڑ ،ٹوٹے ہوئے درخت ،کچڑا اور پارکنگ بنا دی گئی ہے جس کی وجہ سے خستہ حال عمارت بھوت بنگلے کی شکل اختیار کر گئی ہے۔نمائندہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے اکاؤنٹس آفس میں کام کرنے والے افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عمارت میں ریکارڈ زیادہ اور رکھنے کی لئے الماریوں کی کمی ہے جس کی وجہ سے ریکارڈ کا 40 فیصد حصہ کئی کمروں میں زمین پر ہی پھینک دیا گیا ہے جس پر مٹی کی تہیں پڑ گئی ہیں ۔اسی طرح سے الماریاں مکمل طور پر ملازمین ،اکاؤنٹس اور دیگر اشیاء کے ریکارڈ سے بھر چکی ہیں جنہیں رکھنے کی جگہ نہیں ہے ۔پینشن کے حصول کے لئے آنے والے ملازمین کا کہنا تھا کہ عمارت کیسے باہر سے بھوت بنگلہ لگتی ہے ویسے ہی اندر بھی افسران اور کلرک بھوتوں کی طرح منہ کھول کر بیٹھے ہیں جو کہ مبینہ طور پر مٹھی گرم کئے بغیر کوئی کام نہیں کر کے دیتے ۔ایک پینشن کی فائل کو اپ ڈیٹ کرنے اور کلیئر کرنے کی فیس 5سے 10ہزار کے درمیان ہے اسی طرح سے حاضر سروس ملازمین کے فنڈز کے حوالے سے بھی مبینہ طور پر مٹھی گرم کرنا پڑتی ہے ۔سائلین کا کہنا تھا کہ ہم نے متعدد بار ریلوے حکام ڈی ایس آفس اور کئی افسران کو اس حوالے سے شکایات کی ہیں ۔انکوائریاں شروع ہوتی ہیں لیکن داخل دفتر کر دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے اب ہم ان حالات کے عادی ہو چکے ہیں کیونکہ ہماری درخواستوں پر کوئی کام ہوتا ہی نہیں ہے۔اکاؤنٹس آفس میں موجود عملہ نے بتایا کہ یہاں سٹیشنری کی قلت ہے اس کے علاوہ عمارت کی خستہ حالی کی وجہ سے وہ کسی بھی وقت کسی بڑے سانحہ کا سبب بن سکتی ہے لیکن حکام اس پر توجہ دینے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں ۔اسی طرح سے سیکیورٹی نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔صرف ایک اہلکار گیٹ پر تعینات ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریکارڈ رکھنے کی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ریکارڈ آپس میں مل جل گیا ہے جس کی وجہ سے ایک فائل کا ریکارڈ ڈھونڈنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں ۔اسی طرح سے جس کمرے میں پرانے ریکارڈ کو زمین پر رکھا گیا ہے وہاں ایک کھڑکی بھی موجود ہے جہاں سے بارشوں کے دوران پانی آتا ہے اور ریکارڈ کو ضائع کر دیتا ہے۔اس حوالے سے ڈی ایس ریلے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان کا نمبر بند جا رہا تھا البتہ سینئر اکاؤنٹس آفیسر کا کہنا تھا کہ ریکارڈ کو محفوظ رکھا گیا ہے ۔الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔اگر کسی پنشنر کو کسی قسم کی کوئی شکایت ہے تو وہ ہم سے رابطہ کریں ان کا مسئلہ حل کروا دیا جائے گا۔

مزید :

صفحہ آخر -