پاناما کیس نے واضح کردیا، حکمرانوں کی سرکاری حیثیت کاروبار پراثرانداز ہوئی: سراج الحق

پاناما کیس نے واضح کردیا، حکمرانوں کی سرکاری حیثیت کاروبار پراثرانداز ہوئی: ...

لاہور( وقائع نگار)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ قطری خط کاغذ کی کشتی ہیں جو کسی ڈوبتے کو بچانہیں سکتے۔پانامہ کیس نے ایک بات واضح کردی ہے کہ حکمرانوں نے اپنی سرکاری حیثیت کو ذاتی کاروبار بڑھانے کیلئے استعمال کیا ہے اور اب بھی سرکاری وزراء حکمران خاندان کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔پانامہ کیس صرف حکمران خاندان کے نہیں ان تمام لوگوں کے خلاف ہے جنہوں نے قومی دولت کو لوٹ کر بیرون ملک منتقل کیا ہے اور سرکاری حیثیت کو ذاتی کاروبار کیلئے استعمال کیاہے۔ہم کرپشن کے خلاف ایسا میکنزم اور روڈ میپ چاہتے ہیں جس میں سب سے پہلے احتساب سراج الحق کا ہواور پھر کسی دوسرے کا ،لیکن کوئی بھی احتساب سے بالاتر نہ ہوخاص طور پر قوم سے ووٹ لینے والوں کو احتساب کے کٹہرے میں ضرور کھڑاکیا جائے۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی اسد اللہ بھٹو ایڈووکیٹ اور سپریم کورٹ میں جماعت اسلامی کے وکیل آصف توفیق بٹ بھی موجود تھے۔سینیٹر سراج الحق نے اس یقین کا اظہار کیا کہ قطری خطوط لکڑی کی ناؤ نہیں جوحکمرانوں کو بچالے گی بلکہ یہ کاغذ کی کشتی ہیں جن پر بھروسا کرنے والوں کو آخر ڈوبنا ہوتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر