فواجداری جرائم میں عمر کی حد بندی، ہائیکورٹ نے تعزیرات پاکستان میں نابالغ کی عمر میں اضافہ کی مخالفت کردی

فواجداری جرائم میں عمر کی حد بندی، ہائیکورٹ نے تعزیرات پاکستان میں نابالغ کی ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے فوجداری جرائم سے مستثنیٰ قرار دیئے گئے بچوں کی عمرمیں اضافہ کے لئے تعزیرات پاکستان میں ترمیم کی مخالفت کردی ۔اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ نے محکمہ داخلہ کو رپورٹ ارسال کردی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نابالغ کی عمر زیادہ مقرر کرنے سے جرائم کی شرح میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔تعزیرات پاکستان کی دفعہ82کے تحت اگر کوئی 7سال سے کم عمر بچہ کسی فوجداری جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے کوئی سزا نہیں ملے گی جبکہ دفعہ 83میں کہا گیا ہے کہ 7سال سے زیادہ اور12سال سے کم عمر کا بچہ اگر اتنی سوجھ بوجھ نہیں رکھتا کہ وہ کسی جرم کا ارتکاب کررہا ہے تو اس کا اقدام بھی جرم کے زمرہ میں نہیں آئے گا۔حکومت نے تعزیرات پاکستان میں نابالغ کی عمر میں اضافے کے لئے عدلیہ سے رائے مانگی تھی کہ حکومت تعزایرت پاکستان کی دفعہ 82 اور ،83 میں ترمیم کرنا چاہتی ہے، ہائیکورٹ نے نابالغ کی عمر میں اضافہ کی مخالفت کی اور واضح کیا کہ نابالغ کی عمر 7سا ل سے بڑھانے سے جرائم بڑھ سکتے ہیں، ہائیکورٹ کی رپورٹ کے ساتھ ماضی میں نابالغوں کے ذریعے جرائم کرانے کے واقعات کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے، ہائیکورٹ نے رائے دی کہ مناسب ہوگا قانون میں نابالغ کی عمر نہ بڑھائی جائے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرائم پیشہ لوگ مختلف جرائم کے لئے بچوں کو استعمال کرسکتے ہیں ،اس لئے مستثنیٰ بچوں کی بلوغت کی عمر میں ردوبدل مناسب نہیں ہوگا۔

مزید : صفحہ آخر