حافظ سعید محب وطن ہیں رہا کیا جائے، جماعۃ الدعوۃ بہترین فلاحی تنظیم ہے: پرویز مشرف

حافظ سعید محب وطن ہیں رہا کیا جائے، جماعۃ الدعوۃ بہترین فلاحی تنظیم ہے: پرویز ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ جماعت الدعوۃ بہترین فلاحی تنظیم ،مسعود اظہر دہشت گرد اور حافظ سعید محب وطن ہیں،انہیں فوری رہا کیا جانا چاہئے، وہ پاکستان اور دنیا میں کہیں بھی کسی دہشت گردی میں ملوث نہیں، ان پر بھارتی دباؤ پر پابندی عائدکی گئی،پنجاب فرقہ واریت اور دہشت گردی کا گڑھ ہے ،یہاں بھی کراچی طرز کا آپریشن ہونا چاہئے،حکومتی وزراء اور ن لیگی رہنماؤں کے دہشت گردوں سے رابطے ہیں،شاہ عبد اللہ مجھے چھوٹا بھائی سمجھتے ہیں ،انہیں کے پیسے سے میں نے دبئی اور لندن میں فلیٹس خریدے۔نجی ٹی وی چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف نے کہا کہ پنجاب فرقہ واریت کا گڑھ ہے ،یہاں بھی کراچی طرز کا آپریشن ہونا چاہئے ، پنجاب میں حکومتی وزراء دہشتگردوں کے ساتھ اور ن لیگ کے رہنماؤں کے دہشتگردوں سے رابطے ہیں، حکومت اس میں پوری طرح سنجیدہ نہیں کہ دہشت گردی جہاں بھی ہے اسے ختم کرنا ہے اور کرپشن سے نمٹنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت الدعوہ اور حافظ سعید کے بارے میں ہم کنفیوڑ رہتے ہیں، بھارت ان کے بہت خلاف ہے کیونکہ کشمیر میں بھارتی فوج سے لڑنے کے لیے ان کے لوگ رضاکارانہ طور پر جاتے ہیں، میرے خیال میں جماعت الدعوہ اور حافظ سعید طالبان اور القاعدہ کے خلاف ہیں، انہوں نے پاکستان اور دنیا میں کوئی دہشتگردی نہیں کی، ان کو الگ رکھنا چاہیے اور ان کے بارے میں ہمیں الگ سوچنا چاہیے ،اگرچہ اقوام متحدہ کی جانب سے ان پر پابندی لگی ہوئی ہے، ان پر پابندی کیوں لگی ہے؟ ان پر پابندی بھارت نے لگوائی ہے ،ہم بھی اسی لائن پر چلے جا رہے ہیں، ان کے بارے میں سوچنا چاہئے کہ اِنہوں نے پاکستان میں کونسی دہشتگردی کی ہے؟ کیا کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دہشتگردی ہے؟ کیا ہم اسکو دہشت گردی کہہ رہے ہیں ؟میں تو نہیں کہہ رہا، میں تو کہہ رہا ہوں وہ مجاہدین کی سرگرمیاں ہیں، دہشت گردی تو بھارتی فوج کر رہی ہے، جو نہتے سویلین کو شہید کر رہی ہے ،جس نے برہان وانی اور 80مزید لوگوں کو شہید کر دیا ہے، ہزار زخمی کر دیئے ہیں جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنا حق مانگ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حافظ سعید کو رہا کیا جانا چاہیے، وہ دہشت گرد نہیں ہیں، ان پرمحض الزام ہے، وہ سب سے اچھی این جی اوز چلا رہے ہیں، مجھے پتہ ہے زلزلے اور سندھ میں آنے والے سیلابوں میں انہوں نے کتنا کام کیا ہے؟ یہ بڑی اچھی فلاحی تنظیم چلا رہے ہیں، ان کے مذہبی نوجوان ہیں جو یہ فلاحی کام کرتے ہیں ،اگر ہم انہیں دہشت گرد کہیں گے اور دیوار کے کونے میں دھکیلیں گے تو پھر وہ بندوق اٹھا کر طالبان کی طرف چلے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر نے پاکستان میں دہشت گردی کروائی ہے، مجھ پر بھی حملہ انہوں نے ہی کروایا،وہ بالکل دہشت گرد ہیں، جماعت الدعوہ جو فلاحی کاموں کی طرف جا رہی ہے ،انہیں دہشتگرد بنا دیا گیا، مجھے بتایا جائے انہوں نے کہاں دہشتگردی کی ہے؟ بھارت کا دباؤ کہ اگر آپ لشکر طیبہ کے خلاف کاروائی نہیں کرتے تو آپ دنیا میں تنہا ہو جائیں گے ،ہمیں کچھ نہیں ہو گا ،ہم ان کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے، ہم اتنے تنہا بھی نہیں ہیں، ہمارے دنیا میں حمایتی بھی طاقتور ہیں۔سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ جہاں تک ڈان کی خبر کا تعلق ہے کہ اس کے متعلق میں صرف اتنا کہوں گا کہ اس کی ذمہ داری پرویز رشید اور مریم نواز پر ڈالی جا رہی ہے جو وہاں موجود ہی نہیں تھے ،ہم اس کے کور ایشو پر نہیں جا رہے، وہ تو باہر تھے ،وہ تو اس کمرے میں تھے ہی نہیں ،اس کمرے میں اسحاق ڈار ، نواز شریف، شہباز شریف تھے ،اس کے علاوہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی تھے ،سوال یہ ہے کہ یہ بات اندر سے کس نے آگے بھیجی ؟وہ اہم ہے ،اس کو ہم نظر انداز کر رہے ہیں، اندر بیٹھے کسی نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرویز رشید یا مریم نواز کو معلومات دے دی لیکن اگر مشترکہ طریقے سے معلومات دی گئی ہیں کہ میڈیا تک پہنچا دی جائے تو وہ اہم ہے کہ تین لوگوں نے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق اس خبر کو ریلیز کروایا تا کہ فوجیوں پر دباؤ ڈالا جا سکے ،دراصل یہ اہم بات ہے مگر اس پر کوئی بات ہی نہیں ہو رہی، پرویز رشید اور مریم نواز کو چھوڑیے، اندر سے جس نے خبر لیک کی ہے اس پر تحقیق ہونی چاہئے ، مجھے اس میں دلچسپی ہے، انسانی غلطی ہے یا سازش ؟اسی بات کی تحقیق کرنی ہے۔پرویز مشرف نے کہا کہ میرے آرمی سے بہت اچھے تعلقات ہیں، اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے ،میں نے وہاں 45سال گزارے ہیں اور 10سال کمان کی ہے، میں سرگرم کمانڈر تھا ،میری فوج سے دوستی ہمیشہ رہے گی وہ کبھی ختم نہیں ہو گی چاہے کوئی بھی کمانڈر ہو، وہ میرے جونیئر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا کیس ختم نہیں ہوا، مجھے یقین ہے کہ فوج میری طرف ہمدردی سے دیکھے گی ،پی پی اور ن لیگ باریاں لگا کر آتے ہیں، جب بھی آتے ہیں سارا ریکارڈ جلا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل امجد کوئی ریکارڈ نہیں لیکر گئے ،سارا ریکارڈ نیب میں ہونا چاہئے ،میرے پاس کچھ نہیں، میں اپنے دور میں کبھی بھی نجی دورے پر باہر نہیں گیا، ہمیشہ ملک کی ترقی سے متعلق کام کیے، ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، کبھی کسی کیس میں دخل اندازی نہیں کی، شاہ عبداللہ مجھے چھوٹا بھائی سمجھتے ہیں، انہی کے پیسے سے میں نے دبئی اور لندن کے فلیٹس لیے ہیں۔سابق صدر نے کہا کہ ہم پاکستان میں سیاسی طور بڑی بری حالت میں ہیں ،جس کی وجہ سے ہمارا حکومتی نظام بالکل خراب ہے، ملک نیچے جا رہا ہے، عالمی طور پر تنہا ہیں عوام بدحال ہیں، اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم نے سیاسی تبدیلی نہ لائی تو ملک تبدیل نہیں ہو گا، یہی پی پی اور ن لیگ والے ہوں گے ،یہی پاکستان میں لوٹ کھسوٹ ہو گی اور عوام کے ساتھ ساتھ ملک کا بھی بیڑہ غرق ہوتا رہے گا، کسی محب وطن پاکستانی کو یہ بات برداشت نہیں کرنی چاہئے، اس کا سیاسی حل ڈھونڈنا پڑے گا،میری نظر میں یہی ہے کہ تیسری سیاسی قوت بنائی جائے ،تیسری سیاسی قوت مسلم لیگ کے د ھڑے اکٹھے ہونے کے لیے بنے گی، اگر آج میرے کیس ختم ہو جائیں اورمیں آگے آجاؤں اور مجھے عوامی انتخابات کی اجازت ہو تو میں دکھا دوں گا کہ سیاسی تبدیلی کیسے آتی ہے؟ حکومت میرے خلاف عدلیہ پر اثر انداز ہو رہی ہے، امید رکھتے ہیں کہ پاناما لیکس پر عدلیہ کوئی فیصلہ دے تا کہ پاکستان کا مستقبل بنے

مزید : صفحہ آخر