مال روڈ خودکش دھماکہ میں شہید محنت کش یاسین کے گھر میں صف ماتم بچھ گئی

مال روڈ خودکش دھماکہ میں شہید محنت کش یاسین کے گھر میں صف ماتم بچھ گئی

لاہور( لیاقت کھرل) سانحہ چیئرنگ کراس میں شہید ہونے والا 56 سالہ سید محمد یاسین داتا دربار کا خادم اور شازو لیبارٹری میں پیکنگ کا کام کرتا تھا اور اس نے اپنی بیٹی کی شادی کے دن مقرر کر رکھے تھے کہ چار دن بعد آنے والی خوشی والے گھر میں صف ماتم بچھ گئی۔ ’’ روزنامہ پاکستان‘‘ کی ٹیم گزشتہ روز سانحہ چیئرنگ کراس میں شہید ہونے والے سید محمد یاسین کے گھر واقعہ شیلر چوک شالیمار پہنچی تو وہاں پر پورے علاقہ میں سوگ کا سماں تھا اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ شہید محمد یاسین کے بارے اس کے رشتہ داروں سید فرمان علی، سید زاہد حسین اور عبدالسلیم سمیت سید شمشاد علی نے بتایا کہ محمد یاسین داتادربار میں کئی سالوں خادم اور داتا دربار میں چند سال قبل ہونے والے بم دھماکے میں بال بال بچ گیا تھا۔ رشتہ دار سید زاہد حسین جیلانی نے بتایا کہ محمد یاسین پچھلے 28 سال سے شازو لیبارٹری میں پیکنگ کا کام کرتا تھا۔ چند ہزار تنخواہ کے باعث مشکل سے گھر کا چولہا چل رہا تھا۔ محمد یاسین تین بچوں کا واحد سہارا تھا۔ بڑا بیٹا محمد مبین یاسین جو کہ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد کئی سالوں سے بے روزگار ہے۔ دوسرے نمبر 20 سالہ بیٹی جبکہ تیسرے نمبر پر 18 بیٹا محمد معین یاسین جو کہ محلے میں ایک پرائیویٹ کارخانہ میں دو سو روپے روزانہ کی اجرت پر مزدوری کرتا ہے۔ رشتہ دار سید فرمان علی اور سید شمشاد علی کے مطابق محمد یاسین نے ایک سال قبل قرضہ اٹھا کر دو مرلے کاگھر بنایا۔ ابھی مکان کی قرض کی رقم دینا باقی تھی کہ وقوعہ سے چند دن قبل 20 سالہ بیٹی کی منگنی کر دی جس کی چار روز کے بعد اس اتوار کو نکاح کی رسم تھی اور ساتھ ہی رخصتی ہوناتھیلیکن موت نے اسے اس کا موقع ہی نہ دیا۔ گزشتہ روز محمد یاسین کی روح کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کی گئی جس میں عزیز و اقارب سمیت معززین علاقہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ شہید محمد یاسین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ انتہائی شریف النفس انسان تھا۔ شہید محمد یاسین کی جواں سالہ بیٹی اور چھوٹے بیٹے محمد معین یاسین نے ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا والد رات کو آتے ہوئے انکے لئے برگر اور شوارما لاتے تھے۔ جواں سالہ بیٹی نے زاروقطار روتے ہوئے کہا کہ اب اس کے ہاتھ کون پیلے کرے گا، رخصتی کے وقت کون اس کے سر پر ہاتھ رکھے گا۔ اب حکومت انہیں بتائے کہ ان کے گھر کا کون سہارا بنے گا، وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب ان کے گھر کا دورہ کر کے انہیں قرض خواہوں سے انکی جان چھڑوائیں اور حکومت بڑے بھائی محمد مبین اور چھوٹے بھائی محمد معین کی نوکریوں کے لئے کوئی بندوبست کریں ۔

مزید : صفحہ آخر