گرینڈ آپریشن ضروری ہے ،مگر۔۔۔

گرینڈ آپریشن ضروری ہے ،مگر۔۔۔
 گرینڈ آپریشن ضروری ہے ،مگر۔۔۔

  

لاہور میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ لاہور کے قریبی تین اضلاع اور جنوبی پنجاب میں گرینڈ آپریشن کیا جائے گا دہشت گردی اور تخریب کاری کو ہرحال میں ختم کرنے کی خاطر جو بھی مناسب اقدام ہو ، ضروری ہے۔ پوری قوم کی خواہش اور آواز ہے کہ خون بہانے والوں سے کوئی نرمی نہ برتی جائے اور تخریب وغارت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے جو ہو سکتا ہے کرگزرنا چاہئے۔ قوم کی یہ خواہش لاہور کے حالیہ دھماکے سے پیدا نہیں ہوئی، شروع دن ہی سے ہے اور ہر حکومت کے سامنے یہ تمنا، مختلف انداز میں پیش بھی کی جاتی رہی ہے، حکومتی زعما بھی ہر بڑے واقعہ کے بعد بلند بانگ اعلان کرتے ہیں کہ ’’تخریب کاروں اور دہشت گردوں کی کمر توڑدی جائے گی‘‘ چند لوگوں کو مارنے کے بعد علانیہ کہا جاتا ہے کہ ’’کمر توڑدی گئی ہے‘‘۔

پھر تھوڑے دنوں بعد ہی کوئی بڑا حادثہ وسانحہ ہو جاتا ہے تو حکومتی زعما پھریہی الفاظ دھراتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔

ہم حکومتی اداروں پر کوئی الزام عائد نہیں کررہے کہ ’’وہ کام نہیں کرتے‘‘یا ’’ ان کے بیانات ، قوم سے دھوکا ہیں‘‘۔ ہم صرف یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ کام جس انداز اور جس آہنی ہاتھ سے ہونا چاہئے۔ وہ دکھائی نہیں دیتا یعنی جس قومی یکجہتی اور تمام اداروں کے باہمی اشتراک و تعاون سے ایک مشنری جذبے کے ساتھ ہونا چاہئے تھا، وہ نظر نہیں آتا، محض ایک دو اداروں کی تن دہی نہیں سب کی شمولیت و ہمت ضروری ہے۔ حکومت وقت اور ذمہ دار اداروں کو گرینڈ آپریشن کے ساتھ ساتھ یہ بھی طے کرلینا چاہئے کہ وہ تنظیمیں یا جماعتیں جو عسکریت کی تعلیم و تبلیغ میں لگی ہیں اور اپنے کارکنوں کو اسلحہ چلانے اور بم بنانے کی باقاعدہ تربیت دیتی ہیں یا جن کے پاس ایسے تربیت یافتہ افراد کی ایک بڑی تعداد ہے، ان کو کسی ’’مصلحت‘‘ کے نام پر سہولت فراہم کرنا یا چھوٹ دینا، بھی بند ہونا چاہئے۔

یہ مان لینا چاہئے کہ خواہ حالات کے کسی جبر یا کسی قومی ضرورت کے تحت عسکری پابندی کا ایک ماحول پیدا ہو گیا تھا اور پھر اس کو جس طرح رواج ملا اور تحسین سے نوازا گیا ہرگھر میں نوجوانوں بلکہ نو خیزوں کو اس میں کشش محسوس ہوئی اور وہ دیوانہ وار، اسی طرف لپکتے گئے۔۔۔۔اسی طرح جب معاشرے میں ’’عسکریت پسندوں‘‘ کی ’’پھوں پھاں‘‘ کو دیکھا جاتا اور حکومتی و انتظامی اداروں میں ان کی ’’آؤ بھگت‘‘ اور ’’رعب داب‘‘ کے نظارے نظر آتے تو کون بھلا تھا جو ان کی واہ واہ نہ کرتا۔۔۔ عام لوگ ان سے مرعوب بھی ہیں اور خوف زدہ بھی، کوئی ان کے سامنے کھل کر بات نہیں کرتا اگر کوئی کرگزرے تو اپنی ’’خاطر مدارت‘‘ کے بعد ہمیشہ کے لئے چپ سادھ لیتا ہے۔

ہمارے ذمہ داران اور موثر اداروں کو اس ماحول اور صورت حال کو پیش نظر رکھ کر پالیسی بنانی اور اقدامات اٹھانے ہوں گے، انہیں اس بات کو مد نظر رکھنا ہوگا کہ آج کی تمام وہ تنظیمیں جو بمبار بھیجتی اور بمبار تیار کرتی ہیں، وہ کسی نہ کسی شکل میں ہمارے اسی ماحول سے نکلی ہیں یا کسی نہ کسی انداز میں متعلق رہی ہیں۔ اس کلچر کوبدلنے یا (کم از کم الفاظ کی حدتک) نکھارنے کی خاطر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو آپریشن بھلے ہوتے رہیں، صورت حال بہتر ہونے کے امکانات کم ہی رہیں گے۔ اس معاملے میں حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ مذہبی جماعتوں اور موثر مذہبی رہنماؤں سے بھی (ہر حال میں) کام لینا چاہئے۔ وہی ہیں جو مسلمانوں کی حرمت اور بے گناہوں کے خون و احترام پر واضح احکامات اجاگر کرکے نئی ذہن سازی کرسکتے ہیں ورنہ یہ جان لینا چاہئے کہ ’’اپنے ہاتھوں دی ہوئی یہ گانٹھیں، دانتوں سے بھی کھولنا مشکل ثابت ہوگا‘‘۔

لاہور میں ہونے والے حالیہ بم دھماکے سے پہلے سیکیورٹی اداروں کی طرف سے آگاہ کردیا گیا تھا کہ ’’تین بمبار لاہور میں داخل ہو چکے ہیں‘‘۔ فراہم کردہ اطلاع اور دھماکے کے درمیان کئی دن کا وقفہ تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ بمبار لاہور ہی میں کہیں اتنے دن آرام سے رہتے رہے ۔ پھر بمبار کے جوکلپس دکھائے گئے ہیں وہ بھی بتاتے ہیں کہ وہ ان راستوں پر اعتماد سے چلتا رہا ہے یعنی بخوبی آگاہ تھا تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ لاہور میں کہاں رہائش پذیر رہے یا لاہور میں کس راستے سے اور کب داخل ہوئے؟اگر ذمہ دار ادارے انہی سوالات پر غور کریں(اور لازماانہی پر ان کا فوکس ہوگا) تو سارے معاملات واضح ہو جائیں گے۔۔۔حکومتی اداروں کو سوچنا چاہئے کہ عوام ان کے ساتھ صحیح طرح تعاون کیوں نہیں کرتے،وہ کیوں نہیں بتاتے کہ ان کے محلے، گلی یا پڑوس میں کوئی اجنبی آیا ہے؟حکومتی ادارے عوام میں شعور پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا عوام سے ان کا رویہ ایسا ہے کہ وہ ان کے سائے سے بھیبدکتے اور پاس آنے سے بچتے ہیں؟سب سے زیادہ قربت پولیس کی ہے مگر پولیس ملازمین کی چھوٹی سطح پر جو حرکات اور رویہ ہے وہ عوام میں بیزاری کا باعث گردانا جاتا ہے جب تک دوستانہ ماحول پیدانہ ہو، دوریاں ختم نہیں ہوں گی۔

ویسے تو 80ء کی دہائی سے افغان باشندے ہمارے شہروں میں آبسے ہیں مگر پچھلے چند سال سے بہتات نظر آرہی ہے لاہور کے تمام کاروباری مراکز میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے بالخصوص اندرون لاہور کی مال منڈیاں یعنی شاہ عالمی مارکیٹ ، اعظم مارکیٹ، شومارکیٹ، صرافہ مارکیٹ وغیرہ میں کثرت سے یہ لوگ دکھائی دیتیہیں۔اسی طرح لاہور کے نواحی علاقے ان سے بھرے ہوتے ہیں مگر کوئی اس طرف متوجہ نہیں اور جن کی ہر گلی چوک میں ڈیوٹیاں ہوتی ہیں وہ سوپچاس روپے پر ان لوگوں سے نظریں پھیرلیتے ہیں اور جانے دیتے ہیں۔ ہمارے علم میں تو ایسے سیاستدان بھی لائے گئے ہیں جو محض اپنے ووٹروں کی تعداد بڑھانے کی خاطر باہر کے کئی لوگوں کو شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت بھی فراہم کرتے رہے ہیں، گزشتہ کچھ عرصے سے معمولی کام کرنے والے اجنبی ہمارے گلی محلوں، مارکیٹوں اور دفاتر میں کثرت سے نظر آنے لگے ہیں ہم ان کو معمولی جان کر نظر انداز کر دیتے ہیں بعض اوقات ان کی مسلسل آمدورفت ان کی اجنبیت ختم کردیتی ہے اور ہم ان کو اہم مقامات تک رسائی فراہم کردیتے ہیں ۔ مثلاً جوتے پالش کرنے والے، مونگ پھلی اور چنے کی ریڑھیاں لگانے والے، جگہ جگہ پھل فروٹ کے چھابے لگانے والے، مارکیٹوں اور دفاتر کے چوکیدار وغیرہ ان اجنبیوں کا چہرہ مسلسل آمدورفت سے متعارف ہو جائے تو ہم ان کو گھروں تک بھی راہ دے دیتے ہیں۔یہ لوگ ہمارے ڈرائیور، چوکیدار ،مالی وغیرہ بن کر اچھے گھروں (سرونٹ کوارٹروں) میں رہائش اختیار کرلیتے ہیں ایسے میں اگر کوئی باہر سے خاص مشن پر آجائے تو وہ انہی ’’نوواردوں‘‘ کے پاس مہمان کی حیثیت میں جتنے دن چاہے رہ لے۔۔۔!

مدارس و مساجد کے ساتھ ساتھ اچھے گھرانوں میں رہائش پذیر ملازموں کے مہمانوں پر بھی نظر رکھنا ہوگی۔ دفاتر اور مارکیٹوں کے چوکیداروں کے کوائف بھی کھنگالنے کی ضرورت ہے اور نواحی علاقوں میں آباد ان افغانوں کو (جو پاکستانی ، پشتون کے نام پر رہائش پذیر ہیں) پرکھنا بھی لازم ہے۔ لیکن سب سے اہم ’’عسکریت پسندی‘‘ کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں پر کام کرنے والوں اور ان کے وابستگان کا ریکارڈ جانچنے اور جن کو ’’ راہ داریاں‘‘ الاٹ کی گئی ہیں ان کی آمدورفت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آپریشن کریں مگر ہر طرح کی مصلحتوں سے بالا تر ہو کر اور سرکاری اداروں کے علاوہ ہر طرح کی عسکریت اور عوامی سطح کی عسکریت پسندانہ تعلیم و تربیت کے خاتمے کے لازمی اقدامات کے ساتھ ۔ اور ہاں! اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ بعض وہ تنظیمیں جو خود ’’عسکریت پسند‘‘ ثابت ہوئی ہیں ان سے تعلق رکھنے والے بعض افراد محض ذاتی و تنظیمی انتقام کی خاطر ان لوگوں کی بھی جھوٹی مخبری کردیتے ہیں جوان سے علیحدگی اختیار کر چکا ہوتا ہے۔ اس طرح قومی اداروں کا وقت بھی ضائع ہوتا ہے ، عوام میں شہرت و تعلق بھی متاثر ہوتے ہیں اس سے اچھی مہم بھی متاثر ہوجاتی ہے۔

حالات سے آگاہی قومی اداروں سے تعاون کی اہمیت امن کی خاطر اپنے اردگرد نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ان کے طریق کار کے بارے میں قومی و ملکی سطح پر باقاعدہ مہم شروع کی جائے ذرائع ابلاغ (الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا) تعلیمی اداروں اور مساجد و مدارس کو باقاعدہ اس مہم میں شریک کیا جائے بلدیاتی ادارے بھی گلی محلے کی سطح پر ایک ایک گھر اور ایک ایک فرد تک آگاہی لٹریچر پہنچاسکتے ہیں۔سکول ، کالج اور یونیورسٹی ہر سطح پر (تخریب و دہشت کے سدباب کی خاطر) مضامین ،نصاب تعلیم میں شامل کئے جائیں، نچلی سطح سے ہی ذہن سازی ہوگی تو تخریب و تفرقہ اور قتل و غارت کا خاتمہ ممکن ہے۔

مزید :

کالم -