روس سے تعلق کا الزام ’’نان سنس‘‘ ہے، ٹرمپ

روس سے تعلق کا الزام ’’نان سنس‘‘ ہے، ٹرمپ

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے تعلق کے حوالے سے لگائے گئے الزامات پر تلملاتے ہوئے انہیں ’’نان سینس‘‘ قرار دے دیا ہے۔ بدھ کے روز اپنے ٹویئٹر پیغامات میں انہوں نے اپنی ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کی ٹیم پر ایسے الزامات دراصل ان بے شمار غلطیوں کا ’’کوراپ‘‘ ہے جو ہیلری کلنٹن کی شکست خوردہ مہم کے دوران کی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے دو اہم انٹیلی جنس اداروں ایف بی آئی اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جو اطلاعات ’’نیویارک ٹائمز‘‘ اور ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کو فراہم کر رہی ہیں، یہ سارا عمل ’’غیر قانونی‘‘ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جو میڈیا پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں، انہوں نے اپنے تازہ پیغامات میں دو مرتبہ پھر ’’ایم ایس بی این سی‘‘ اور ’’سی این این‘‘ کے بارے میں کہا ہے کہ یہ چینل دیکھنے کے قابل نہیں ہیں جو ان کے بقول مسلسل اپنی ’’سازشی تھیوریوں‘‘ اور ’’اندھی نفرت‘‘ کا پرچار کرنے میں مصروف ہیں۔ تاہم انہوں نے ’’فوکس نیوز‘‘ چینل کے پروگرام ’’فوکس اینڈ فرینڈز‘‘ کو عظیم قرار دیا۔ ٹرمپ امریکہ کے زیادہ تر میڈیا کو ’’جعلی‘‘ کہہ کر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔صدر ٹرمپ کی انتظامی ٹیم اپنے پہلے ہی مہینے میں بحرانی کیفیت کا شکار ہوچکی ہے۔ سات اسلامی ممالک کے مہاجرین اور مسافروں پر امریکہ داخلے کی پابندیوں کے ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کو عدالتوں نے پہلے معطل اور پھر منسوخ کرکے نئی انتظامیہ کو پہلا بڑا جھٹکا لگایا تھا۔ نیشنل سکیورٹی ایڈوائز مائیکل فلین کا استعفی ٹرمپ انتظامیہ کے لئے دوسرا بڑا جھٹکا قرار دیا جا سکتا ہے۔ مبصرین ایسے محسن کابینہ کے ایک رکن کا استعفی نہیں سمجھتے بلکہ ان کے خیال میں یہ امریکہ کی قومی سلامتی کی پالیسی کے لئے ایک بڑے بحران کا پیش خیمہ ہے۔ کیونکہ اس سے ایک بار پھر حریف سپرپاور روس کے ساتھ اور خصوصاً اس کی انٹیلی جنس کے ساتھ تعلق کا اشارہ ملتا ہے جو ایک خطرناک بات ہے۔ مائیکل فلین نے ٹرمپ کے عہدہ صدارت سنبھالنے سے بھی پہلے واشنگٹن میں روسی سفیر سے روس پر عائد پابندیوں کے بارے میں بات چیت کی اور نائب صدر کے پوچھنے پر جزوی سچ بولا اور اصل بات کو چھپا لئے۔ معلوم ہوا ہے کہ صدر ٹرمپ کو کافی پہلے مسٹر فلین کی غلط بیانی کا علم تھا اور وہ ان سے استعفی طلب کرنے کے مناسب وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ اس دوران امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے مائیکل فلین کے استعفی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کسی چیز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

ٹرمپ،تلملا اٹھے

مزید : صفحہ اول