مکمل صحت یاب ہونے سے پہلے ہی ڈسچارج کر دیا گیا ، زخمیوں کا الزام

مکمل صحت یاب ہونے سے پہلے ہی ڈسچارج کر دیا گیا ، زخمیوں کا الزام

  

لاہور(جنرل رپورٹر)ہسپتالوں میں زیر علاج سانحہ ماڈل ٹاؤن کے زخمیوں نے کہا ہے کہ انہیں مکمل صحت یاب ہونے سے پہلے ہی ڈسچارج کر دیا گیا ۔وزیر اعلیٰ بتائیں کہ ان کی ہسپتالوں میں نافذ کی گئی ایمر جنسی کہاں گئی ۔ڈسچارج کرتے وقت انہیں بے سروسامانی کے حالت میں گھروں کا بھیجا گیا ۔نہ ٹرانسپورٹ فراہم کی گئی اور نہ ہی ادویات، وہ پاکستان سے گفتگو کر رہے تھے۔پنجاب کیمسٹ کو نسل کے سیکریٹری جنرل سلیم شیخ نے کہا کہ حکومت انہیں ہمیں ہر طرف سے مار رہی ہے ۔پہلے قاتل ڈرگ ایکٹ مسلط کیا پھر مظاہرے کو سیکیورٹی فراہم نہ کی اب مکمل صحت یاب ہونے سے پہلے ہی ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ۔نہ ادویات دی گئیں نہ ٹرانسپورٹ فراہم کی گئی ۔آج ٹی وی کے کیمرہ مین عبد الرحمن ولد عبد الغفور نے کہا کہ میری ٹانگ میں اب بھی بم کے بال بیرنگ موجود ہیں ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے انہیں نکالے بغیر ہی ہسپتال سے نکال دیا گیا ۔زخمی ہونے کے بعد جب ہسپتال میں آئے تو آرمی چیف اور وزیر اعلیٰ کی آمد سے قبل انہیں روٹی تک دی گئی اب جب انہیں فارغ کیا گیا تو ایک دن کی دوائی تک نہ لے کے دی گئی ۔شاہدرہ کے زخمی علی شاہ نے کہا کہ ہمیں جب ڈسچارج کیا گیا تو جو گلدستے آرمی چیف و وزیر اعلی کی جانب سے دیئے گئے وہ یء دیئے گئے ہیں کہ یہ لے جاؤ۔احسن شاہ نے کہا کہ دھماکہ حکومت کی ہٹ دھرمی کا نتیجہ تھا ۔ہم مظاہرہ ختم کر رہے تھے کہ حکومت کی جانب سے پیغام آیا کہ 7بجے مذاکرات ہونے ہیں جس کی وجہ سے ہم رک گئے ۔مذاکرات کے لئے کوئی نہ آیا لیکن دہشتگرد ضرور آ گیا جس نے ہماری دنیا اندھیر کر دی ۔کامران مغل نے کہا کہ میو ہسپتال ،گنگا را اور سروسز سے بھی زخمیوں کی اکثریت کو مکمل صحت یاب ہونے سے پہلے ہی فارغ کر دیا گیا۔وزیر اعلیٰ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

مکمل صحت یاب

مزید :

صفحہ اول -