پنجاب اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی کی لاء ڈیپارٹمنٹ اور ایکسائز کو قادیانیوں کو پراپرٹی ٹیکس میں دی جانیوالی چھوٹ ختم‘ معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کی ہدایت

پنجاب اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی کی لاء ڈیپارٹمنٹ اور ایکسائز کو قادیانیوں کو ...

بہاولپور(بیورورپورٹ)پنجاب اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی نے لاء ڈیپارٹمنٹ اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو ہدایت کی ہے کہ قادیانیوں کو پراپرٹی ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ کو فی الفور ختم کیا جائے اور معاملہ کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی ارسال کیا جائے تا کہ اس حوالے سے مزید اقدامات کئے جا سکیں ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر سید وسیم اختر نے پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروائے گئے سوال میں استفسار کیا تھا کہ پراپرٹی ٹیکس میں کن کن تنظیموں یا این جی اوز کو چھوٹ دی جاتی ہے ۔ جس کے جواب میں لاء ڈیپارٹمنٹ اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے جو لسٹ فراہم کی اس میں جماعت احمدیہ بھی شامل تھی جس پر ڈاکٹر سید وسیم اختر نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں کو قومی اسمبلی نے غیر مسلم اکثریت قرار دیتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کو محدود کیا ہے جبکہ قادیانیوں کو پراپرٹی ٹیکس میں چھوٹ دینا ان کی سرگرمیوں کو تقویت دینے کے مترادف ہے جو غیر آئینی ہے ۔ سپیکر نے سوال سٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کر دیا ۔ گزشتہ روز کمیٹی کے اجلاس میں لاء ڈیپارٹمنٹ نے وضاحت کی کہ قادیانیوں کو پراپرٹی ٹیکس میں چھوٹ قانون کے مطابق دی گئی ہے جس پر ڈاکٹر سید وسیم اختر نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں کو پراپرٹی ٹیکس میں چھوٹ غیر آئینی ہے جس پر کمیٹی کے تمام ارکان نے متفقہ طور پر لاء ڈیپارٹمنٹ اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو ہدایت کی کہ قادیانیوں کو پراپرٹی ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ فی الفور ختم کی جائے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر