امریکی قومی سلامتی مژیر کے روسی حکام سے رابطے ، ریپبلکن پارٹی نے بھی تحقیقات کی حمایت کر دی

امریکی قومی سلامتی مژیر کے روسی حکام سے رابطے ، ریپبلکن پارٹی نے بھی تحقیقات ...

 واشنگٹن (اے این این)امریکہ کی حکمران جماعت ریپبلکن پارٹی نے بھی قومی سلامتی کے لیے صدر ٹرمپ کے سابق مشیر مائیکل فلن کے روسی حکام سے رابطوں کی وسیع تحقیقات کے مطالبے کی حمایت کردی ہے ۔مائیکل فلن نے اس دعوی کے بعد استعفی دے دیا تھا کہ انھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری اور اپنی تعیناتی سے قبل امریکی پابندیوں کے بارے میں روسی سفیر سے بات چیت کی تھی۔وائٹ ہاس کے ترجمان نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مائیکل فلن کی روسی سفیر کے ساتھ فون پر بات چیت کے معاملے کا کئی ہفتوں سے علم تھا۔لیکن اس معاملے میں آزادانہ تحقیقات کے مطالبے پر بعض سینئر ریپبلکن رہنما تنقید کر رہے تھے۔یہ معاملات اس وقت طول پکڑنے لگے جب نیویارک ٹائمز نے یہ خبر دی کہ فون ریکارڈ اور انٹرسیپٹ کی جانے والی فون کالز سے پتہ چلا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ٹیم کے بعض ارکان اور صدر کے دوسرے ساتھیوں نے انتخاب سے ایک سال قبل روسی انٹیلی جنس کے سینیئر اہلکاروں سے بار بار رابطے کیے تھے۔صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ فلن نے کوئی غیر قانونی عمل نہیں کیا ۔فلن کا قومی سلامتی کے مشیر بنائے جانے سے قبل ایک عام شہری کے طور پر سفارتکاری کرنا غیر قانونی ہو سکتا تھا۔پہلے پہل لفٹینینٹ جنرل ( ر) فلن نے روسی سفیر سرگئی کسلیاک کے ساتھ پابندیوں کے متعلق بات چیت سے انکار کیا نائب صدر مائک پینس نے تو ان کی جانب سے عوامی طور پر ان الزامات کو مسترد بھی کیا تھا۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر نے کہا کہ نگران اٹارنی جنرل سیلی یئیٹس نے 26 جنوری کو وائٹ ہاس کو متنبہ کیا تھا کہ مائیکل فلن روسی بلیک میل کا شکار ہو سکتے ہیں۔شان سپائسر کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ فلن کے عمل سے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ اس کے بعد وائٹ ہاس کے قانونی مشیروں نے مسٹر فلن سے کئی موقعے پر پوچھ گچھ کی اور اس کی وسیع پیمانے پر جانچ کی اور وہ انھی نتائج پر پہنچے جس جو ٹرمپ کا موقف تھا۔اس کے بعد وائٹ ہاؤس کے کونسلر کیلی این کانوے نے کہا کہ 'بالآخر نائب صدر کو گمراہ کرنے سے حالات قابو سے باہر ہو گئے۔اس تنازعہ کے بارے میں اپنے پہلے عام بیان میں صدر ٹرمپ نے ٹویٹ میں کہا: 'اصل کہانی یہ ہے کہ آخر واشنگٹن سے اتنے غیر قانونی لیکس کیوں سامنے آ رہے ہیں؟ کیا ایسے ہی لیکس اس وقت بھی سامنے آئیں گے جب میں شمالی کوریا سے نمٹ رہا ہوں گا؟'سینیٹ میں مسلح افواج کی کمیٹی کے سربراہ ریپبلکن رہنما جان مکین نے کہا ہے کہ مائیکل فلن کا استعفی 'قومی سلامتی کے موجودہ نظام کی خرابی کا پریشان کن اشار ہ ہے جو روس کے متعلق صدر ٹرمپ کی منشا پر سوال اٹھاتے ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ڈیون

نیونس نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ ان لیکس کی تحقیقات چاہتے ہیں جن کی وجہ سے فلن کو مستعفی ہونا پڑا ہے۔

B

مزید : کراچی صفحہ اول