صوبائی وزیر توانائی کی متعلقہ حکام کو آئل ریفائنری اور پاور پلانٹس پر کام تیز کرنے کی ہدایت

صوبائی وزیر توانائی کی متعلقہ حکام کو آئل ریفائنری اور پاور پلانٹس پر کام ...

  

پشاور( سٹاف رپورٹر )خیبر پختونخوا کے وزیرتوانائی و برقیات اور تعلیم محمد عاطف خان نے محکمے کے متعلقہ حکام کو صوبے میں آئل ریفائنری اور پاور پلانٹس کے قیام پرکام کی رفتارتیزکرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اہم منصوبوں سے نہ صرف ہزار وں لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ یہ صوبے کی دیرپاترقی و خوشحالی میں بھی ممدو معاون ثابت ہوں گے۔یہ ہدایات انہوں نے بدھ کے روز پشاور میں خیبر پختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی لمٹیڈ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔اجلاس میں دوسروں کے علاوہ سیکرٹری توانائی و برقیات انجینئر نعیم خان، چیف ایگزیکٹیوخیبر پختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی رضی الدین اورچیف ایگزیکٹیو پیڈو اکبر ایوب نے بھی شرکت کی۔اجلاس کو کمپنی کی سرگرمیوں اور کامیابیوں پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیاکہ کوہاٹ بلاک کے علاوہ پشاور اور نوشہرہ بلاکس میں بھی تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کا کام شروع کردیا گیا ہے اور ان بلاکس میں بھی وسیع ذخائر کی دریافت متوقع ہے۔اجلاس کو پن بجلی اور تیل و گیس کے شعبوں میں جاری،نئے اور مجوزہ منصوبوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی اور ان پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ84میگاواٹ کے مٹلتان پاور پراجیکٹ پر کام شروع کردیاگیاہے جبکہ 150میگاواٹ کے شرمئی پاور پراجیکٹ کا ایوارڈ بھی عنقریب دیا جارہاہے ۔اسی طرح 300میگاواٹ کے بالاکوٹ پاور پراجیکٹ کے لئے بھی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔وزیر توانائی نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے 3سال کے قلیل عرصہ میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے سازگار ماحول پید اکیاہے اور ریڈٹیپ کا خاتمہ کرکے ریڈ کارپٹ بچھادیاہے۔انہوں نے کہا کہ2013میں تیل کی یومیہ پیداور 29ہزار5سو بیرل تھی جسے بڑھاکر 54ہزار یومیہ تک بڑھا دیاہے اسی طرح گیس کی یومیہ پیداوار کو 44ایم ایم سی ایف ڈی اور ایل پی جی کی یومیہ پیداور کو 550ٹن تک پہنچا دیاگیاہے اور2025تک تیل کی یومیہ پیداوار کو 2لاکھ بیرل، گیس کو 2ہزار ایم ایم سی ایف ڈی اور ایل پی جی کو 3ہزار ٹن تک بڑھادیاجائے گا۔عاطف خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گیس کی لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کردیا گیا ہے جبکہ گیس سے سستی بجلی پیداکرنے کی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -