سابق جنرل کا فاروق ستار اور مصطفی کمال کو ہاتھ ملانے کا مشورہ

سابق جنرل کا فاروق ستار اور مصطفی کمال کو ہاتھ ملانے کا مشورہ

(تجزیہ : کامران چوہان) متحدہ پر آئی جی کی اشارتاً تنقید کے بعد سابق گورنر سندھ لیفٹیننٹ جنرل(ر)معین الدین حیدر کی جانب سے بیان نے ایک نئی بحث چھیڑدی۔ نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے سابق گورنر لیفٹیننٹ جنرل(ر)معین الدین حیدر نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو ایم کیو ایم کے ’’را‘‘ سے روابط کا علم تھا لیکن ان کو قومی دھارے میں واپس لانے کے لیے نظرانداز کیا گیا۔بانی ایم کیو ایم نے اپنے آپ کو خود ختم کیا، سب سے پہلا پتھر مصطفی کمال نے مارا،پھر انہوں خود اپنا کام تمام کیا اور اس کے بعد فاروق ستار نے بھی ان سے اعلانِ لاتعلقی کردیا۔کراچی کو سیاسی یتیمی سے بچانے کے لئے فاروق ستار اور مصطفی کمال کو ایک ہو جانا چاہیے، دونوں ہی بانی ایم کیو ایم کے خلاف ہیں، تو دونوں کا ایک ہوجانا بہتر ہے، پھرآفا ق احمد کو بھی اپنے ساتھ ملائیں اورعشرت العباد کا بھی خیر مقدم کریں، لندن کا چیپٹر مکمل کلوز کریں تاکہ کراچی مضبوط ہو،کراچی کا لوکل مسئلہ ایم کیو ایم ہی حل کر سکتی ہے۔ ایم کیوایم بانی پرمصطفی کمال کی جانب سے لگائے گئے الزمات اور ان پر ایکشن لینے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مجھے ان تمام باتوں کا علم تھا، مصطفی کمال نے درست کہا ہے۔ایجنسیز کا کام کرنے کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے یہ ملک دشمن عناصر کے آلہ کار نہ بنیں اس لیے ان کو پاورمیں لایا گیا کہ اپنے بچے ہیں، غلط راہ پر چلے گئے ہیں، سدھرجا ئیں گے ایجنسیوں کی اپنی حکمت عملی ہوتی ہے، وہ اپنوں کو ٹھیک ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔مگر سابق گورنر سندھ لیفٹیننٹ جنرل(ر)معین الدین حیدرکی اس گفتگوکے بعدبہت سارے سوال اٹھ گئے ہیں۔ معین الدین حیدر کے مطابق اداروں کو متحدہ کے ’’را‘‘سے رابطوں کا علم تھاتو یقینی طورپر ان کو یہ بھی علم ہوگا کہ کون کون ’’را‘‘سے رابطے میں تھا اور یہی بات درست سمجھ لی جائے تو کیا مصطفی کمال اور فاروق ستار گروپ’’را‘‘نیٹ ورک سے منسلک نہیں تھے؟ تو شاید اسی لئے بانی ایم کیو ایم سے ناطے توڑنے والے دو الگ الگ طریقے سے سیاسی میدان پر موجود ہیں۔بانی متحدہ سے منحرف ہوانے والے دونوں گروپوں کے رہنماؤں کے درمیان عوامی اجتماعات میں گرمجوشی سے مصافے اوربغلگیر ہونے والی ملاقاتوں سے یہی دیکھائی دیتا ہے کہ جلد بدیر پاک سرزمین پارٹی اورمتحدہ پاکستان کے درمیان دن بدن سمٹتی دوریاں انضمام کا سبب بنیں گی ۔سابق گورنر سندھ لیفٹیننٹ جنرل(ر)معین الدین حیدر کی بات کواس بات سے بھی مزیدتقویت ملتی ہے کیونکہ پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفی کمال مسلسل ’’مہاجر‘‘نوجوانوں کیلئے بلوچستان طرزکی عام معافی کا بھی مطالبہ کررہے ہیں ۔کیاسنگین نوعیت کے الزامات کے حامل افرادکے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لا ئی جائے گی؟ جبکہ شفاف شخصیت کے حامل متحدہ سے الگ ہونے اور’’پاکستان زندہ باد‘‘کا نعرہ لگاکرعوام کے سامنے آنے والے بانی ایم کیوایم کے سابقہ رفیقوں کوعوام کی عدالت میں پیش ہونے کا موقع دیا جائے گا؟تاکہ ان کا فیصلہ عوام خود کرے۔ ذرائع کے مطابق سابق گورنر سندھ لیفٹیننٹ جنرل(ر)معین الدین حیدراپنے دورگورنری میں بانی متحدہ کیلئے نرم گوشہ رکھتے تھے مگراپنے بھائی کے قتل کے بعد ان کے خیالات میں تبدیلی آئی۔سابق گورنر سندھ نے وقت کاتعین کرکے یہ گفتگوکی ہے جو آئندہ دنوں میں سابق صدرپرویزمشرف کیلئے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر