مشاعرے ہماری تہذیب و ثقافت کا حصہ ہیں، میئرکراچی

مشاعرے ہماری تہذیب و ثقافت کا حصہ ہیں، میئرکراچی

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کراچی میں منعقد ہونے والا عالمی مشاعرہ اس شہر کا جھومر ہے اور مشاعرے ہماری تہذیب و ثقافت کا حصہ ہیں انہوں نے کہا کہ نامساعد حالات کے باوجود مشاعرے کا یہ دیا روشن ہے کراچی کے شہری اس مشاعرے کے انعقاد میں بھرپور تعاون اور شرکت کریں اس سے دنیا بھر میں کراچی اور پاکستان کا سوفٹ امیج اجاگر ہوتا ہے، ساکنان شہر قائد نے اپنی مدد آپ کے تحت اس روایت کو زندہ رکھا ہوا ہے ، 22 مارچ کو منعقد ہونے والے عالمی مشاعرے کے لئے بلدیہ عظمیٰ کراچی ہرممکن تعاون فراہم کرے گی، یہ بات انہوں نے بدھ کی شام ساکنان شہر قائد کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی جس نے سابق وفاقی وزیر سید صفوان اللہ کی سربراہی میں میئر کراچی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی، وفد میں رضوان صدیقی ، امین یوسف، محمود احمد خان ، عامر مسعود شیخ، اقبال احمد خان، مظہر خان، نجم الدین شیخ ، معود حیات خان، حسن امام صدیقی ، اویس ادیب انصاری ، ڈاکٹر بلند اقبال سمیت دیگر شخصیات بھی شامل تھیں جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مشیر مالیات خالد محمود شیخ، سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز مسعود عالم ، ڈائریکٹر میڈیا مینجمنٹ علی حسن ساجد نے میئر کراچی کی معاونت کی، میئر کراچی نے کہا کہ ساکنان شہر قائد کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے مشاعرے شہر کی پہچان بن چکے ہیں۔ اس کے پیش نظر یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ہماری تہذیبی اور ثقافتی روایات زندہ رہیں گی اور کراچی کے شہری ایسی سرگرمیوں سے مستفید ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی رونقوں کو بحال کرنے اور اپنی تہذیب و ثقافت کو زندہ رکھنے کے لئے اس قسم کی صحت مند اور مثبت سرگرمیاں نہایت ضروری ہیں۔ مشاعرے کے انتظامات اور رابطے کے لئے ڈائریکٹر میڈیا مینجمنٹ علی حسن ساجد کو میئر کراچی کی جانب سے فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے جو عالمی مشاعرے کے حوالے سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے انتظامات اور رابطے کا فریضہ انجام دیں گے۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی مکمل طور پر ختم ہونی چاہئے، پنجاب اور بلوچستان کے بارڈر پر سختی ہونی چاہئے اور شہر کراچی کو اسلحے سے پاک کیا جانا چاہئے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -