احتساب اور شفافیت کا دائرہ وسیع کر دیا گیا

احتساب اور شفافیت کا دائرہ وسیع کر دیا گیا

پشاور( سٹاف رپورٹر )خیبر پختونخوا کی حکومت میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم(E&SE) کا محکمہ تعلیمی شعبہ میں شفافیت کے ایک نئے دور میں داخل ہوگیا ہے۔ 2017 کے ابتدائی2ماہ میں خیبر پختونخوا میں آن لائن ایکشن مینجمنٹ سسٹم اور IMU کے نفاذ سے2ماہ کے اندر سکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری میں3فیصد کمی ہوئی۔ اب خیبر پختونخوا کے سکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری کی شرح15% سے کم ہوکر12% رہ گئی۔ آن لائن ایکشن مینجمنٹ سسٹم(OAMS) دسمبر2016 میں نافذ کیا گیا جس سے 2017 کے ابتدائی 2ماہ میں اساتذہ کی غیر حاضری میں15%سے کم ہوکر12%رہ گئی ہے اور اساتذہ سے2.7ملین روپے وصول کر لئے گئے ہیں۔2014 میںIMU کے نفاذ سے تعلیمی انڈیکیٹرز کی کامیابی سے مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ اسی مانیٹرنگ کے نتیجہ میں تعلیمی اور غیر تعلیمی سٹاف کی غیر حاضری میں کمی آئی، بند سکولوں کو کھولا گیا اور سکولوں میں سہولیات فراہم کی گئیں۔ خود کار ایکشن مینجمنٹ سسٹم سے کوائف جمع کرنے اور مختلف لاپرواہی کے شکار تعلیمی شعبوں میں ذمہ داریوں کا تعین کر کے مختلف افسران کو نظام ٹھیک کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔نظام کے نفاذ کے پہلے2ماہ میں صوبہ بھر میں اساتذہ کی غیر حاضری میں15% سے کم12%رہ گئی ہے۔ غیر حاضری کے عادی اساتذہ کی تنخواہ بھی بحکم ڈپٹی کمشنر کاٹی جائے گی۔ اس انتظام کے تحت روزانہ کی بنیاد پر بد انتظامی کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔اس سسٹم میں سکینڈ دستاویزات کو اپ لوڈ کرنے کی سہولت ہے تاکہ گواہی مستند ہوجائے اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کی کارکردگی بھی نظر آئے گی۔ اس نظام سے صوبہ بھر میں ایک یکساں نفاذ سے تمام ایکشن کو ٹریک کیا جاسکے گا۔ اس سے شفافیت اور احتسابی نظام مضبوط ہوگا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر