ماورائے قوانین اقدامات اور غیر ضروری تاخیری حربوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا

ماورائے قوانین اقدامات اور غیر ضروری تاخیری حربوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا

نو شہر ہ (بیورو رپورٹ )ورکرز ویلفےئر بورڈ مذاق بن گیا ہے، بورڈ ملازمین اور مزدوروں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے ماورائے قوانین اقدامات اور غیر ضروری تاخیری حربوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔اسے بورڈ میں مزید بیٹھنا نہیں چاہتا جس کا اس سنگین بحران میں بھی آٹھ آٹھ دس دس مہینے اجلاس نہیں بلایا جاتا۔ایسے نام نہاد بورڈ سے مستعفی ہو رہا ہوں ایک مہینے کے اندر بورڈ ملازمین کے تمام مسائل حل نہ کئے گئے تو متحدہ لیبر فیڈریشن مزدوروں کے بچوں اور بورڈ ملازمین کیلئے سڑکوں پر ہو گی۔ان خیالات کا اظہار متحدہ لیبر فیڈریشن کے صوبائی صدر محمد اقبال نے چراٹ سیمنٹ کمپنی سی بی اے یونین کے عہدیداران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ دو ہزار گیارہ سے بورڈ بحران شروع ہے۔ مگر اس وقت تک یہ بحران ختم نہ ہوا۔اور اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔دنوں کا کام مہینوں میں اور مہینوں کا کام سالوں میں کرنا بورڈ کا وتیرا بن گیا ہے۔ مزدورں کو ملنے والے مراعات و سہولیات کی بر وقت ادائیگی ایک معمہ بن گیا ہے۔بورڈ ملازمین دو سالوں سے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں سال ہونے کو ہے نہ ملازمت میں توسیع دی جاتی ہیں اور نہ ان کو تنخواہیں ۔ جس سے مزدوروں کے ہزاروں بچوں کا حال اور مستقبل داؤ پر لگا ہے۔ اس کا حل صرف بورڈ کی گورننگ باڈی کے پا س ہے مگر اس سنگین اور شدید بحران میں بھی بورڈ کی گورننگ باڈی کا اجلاس دس مہینے تک نہ بلانا بورڈ ملازمین اور مزدوروں کے ساتھ ظلم کی انتہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عالیہ ہائیکورٹ نے غیر قانونی طور پر برطرف شدہ بورڈ کی گورننگ باڈی کو بحال کیا ہے میں بحال شدہ بورڈ کے گورننگ باڈی سے بھی مستعفی ہو رہا ہوں۔ حکومت تکنیکی پیچیدگیوں سے بالائے طاق اس کو بحال کرے کیوں کہ بحال شدہ بورڈ میں جتنے بھی ممبر ہیں وہ حقیقی نمائندے ہیں۔اگر ماورائے قانون کوئی قدم اٹھایا گیا تو صرف یہ نہیں کہ عدالت سے رجوع کریں گے بلکہ سڑکوں پر مزاحمت بھی کرینگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر