نرس اور وکیل کے کلرک میں ہاتھاپائی، جوتیاں اے ایس آئی کو پڑگئیں

نرس اور وکیل کے کلرک میں ہاتھاپائی، جوتیاں اے ایس آئی کو پڑگئیں
نرس اور وکیل کے کلرک میں ہاتھاپائی، جوتیاں اے ایس آئی کو پڑگئیں

  


گوجرانوالہ(ویب ڈیسک) سیشن کورٹ میں نرس اورکلرک میں ہاتھا پائی ، پولیس کا شیر جوان پٹ گیا۔ مشتعل خاتون کو روکنے کیلئے پولیس اہلکاربیچ بچاو کراتے رہے۔ تھانہ صدر کے اغوا کے مقدمہ میں خاتون ملزمہ نرس نصرت بی بی دیگران کے ہمراہ سیشن جج محمد عبدالناصر کی عدالت کے باہر کھڑی تھی۔ نرس کی ایک وکیل کے کلرک کے ساتھ کسی بات پر تکرار ہو گئی ، عینی شاہدین کے مطابق نرس نصرت اور کلرک انصر کے درمیان تلخ جملوں اور گالیوں کا تبادلہ ہوا۔

سندھ ہائی کورٹ نے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی اصغر علی مہر کو معطل کر دیا

سیشن کورٹ کی سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات اے ایس آئی قدرت اللہ اطلاع پر پہنچا اور صورتحال کنٹرول کرنے کی کوشش کی ، فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشتعل فریقین کو الگ کروایا اس دوران نرس نصرت نے کلرک کو جوتی مارنے کی کوشش کی جو بیچ بچاو کروانے والے اے ایس آئی کو پڑ گئی۔ ہنگامہ آرائی کو پیشی پر آئے سائلوں کی بڑی تعداد حیرت سے دیکھتی رہی۔ صورتحال سے فاضل سیشن جج کو مطلع کر دیا گیا ہے۔

مزید : گوجرانوالہ