بیسیوں قسط۔ ۔ ۔حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ، تحقیقی داستان

بیسیوں قسط۔ ۔ ۔حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ، تحقیقی داستان
بیسیوں قسط۔ ۔ ۔حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ، تحقیقی داستان

  

شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانوادۂنوشاہیہ کی خدمات

امام الاولیاحضرت سیدنوشہ گنج بخش ؒ نے پیرسید عبدالمجیدنوشاہی کی مراد پوری ہونے کے بعد انکی ذمہ داریوں کا تعیّن کردیا اور انہیں نسل در نسل اپنے مُرشدکے ادب کی تلقین فرمائی۔ اپنے پیرومرشد اور مربیّ کے ہاتھ پر بیعت کرکے اس مرد درویش کو منشاکے مطابق محبوب خداﷺ اور آپﷺ کے محبان کی زیارت نصیب ہوگئی۔یہ مرشد کی خدمت وادب اور طریقت کے اصولوں کا تقاضا تھا کہ بیعت کے بعد انہیں مرشد کی توجہ حاصل ہوجاتی اوروہ انعام کے حقدار ٹھہرتے۔ انکے مرشدپیر سید معروف حسین نوشاہی مدظلہ مبلغ ہونے کے ساتھ طریقت کے باطنی امور میں بھی درجہ ولایت پر متمکن ہیں۔ مجدداعظم قدس سرہٗ کا فیض عام کرنے میں انکی دریا دلی اور سخاوت معروف ہے۔گویا وہ اسم بامسمٰی ہیں۔ ادب لحاظ، مروت،وضعداری کے شعائر سے لیس ہیں۔اہل علم وادب کی خدمت ان کا شیوہ ہے۔ اپنے انہی شعائر ظاہری باطنی کے باعث انہیں یورپ میں بلند مرتبہ حاصل ہے۔

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ، تحقیقی داستان...انیسویں قسط پؑڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

طالبان معرفت کو امور ریاضت ومجاہدہ میں مرشد کی توجہ اور ہدایت نہ ملے تو وہ گمراہی کی دلدل میں گر سکتا ہے۔حضرت سیدابوالکمال برقؒ نوشاہی رحمۃ اللہ علیہ اپنے جدامجد حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ کی طرح موج میں ہوتے تو بیعت کے بغیر بھی معرفت الٰہی کے طلب گاروں کو نگاہ ڈال کر فیض عطا کر دیتے اور اسباق وریاضت پیش نظر ہوتے تو بیعت کے باوجود سالک کے دل کا میل نکالنے کیلئے مجاہدے کراتے۔

پیرسید عبدالمجیدنوشاہی کو برسوں کی ریاضت اور مجاہدوں کے باوجود گوہر مقصود حاصل نہ ہو سکا لیکن بیعت اورتوجہ کے بعد ان کا باطنی نظام انہیں اس نہج پر لے آیا جب اہل باطن کو مرشد اپنے رب قادروقدیر کی اجازت سے ’’عطا‘‘ کرتا ہے تو قلب و نظر سے حجاب اٹھتے چلے جاتے ہیں۔ باطنی نظام کی فعالیت اور اثر انگیزی مرشد کامل کی توجہ کی مرہون منت ہوتی ہے۔ اگر مرشد مہربان ہو تو ربّ کو منانا اور تلا شنا کاردشوار نہیں رہتا۔اولیاء کا یہی طریق رہا تھا۔ وہ تعلیم و تربیت کے ابتدائی مراحل طے کرنے کے بعد کسی نہ کسی مرشد کامل کی تلاش میں نکلتے اور پھربرسوں تلاش بسیار کے بعد انہیں اپنا مقصود ملتا،شیخ کے دست حق پر بیعت کے بعد انہیں منزل ملتی۔ بسا اوقات بہت سے اولیا ء کو تلاش بسیار کے بعد عمر عزیز کے آخری حصہ میں اپنے شیخ تک رسائی نصیب ہوتی۔تاہم کاتب تقدیر کو منظور ہوتا تو طالب کو مقصود جلد مل جاتا۔ یہ اللہ کریم کی حکمت ہے۔۔۔ یہ اللہ والے مجاہدوں ،ریاضتوں ، عبادتوں اور خدمت گزاری کے بعد ہی سائلین و عارفین کی باطنی اور ایمانی قوت کو مضبوط کرتے اور ان کے دل سے میل اتارتے ہیں،باطنی نظام میلے کچیلے دلوں پر نہیں ٹھہرتا۔ یہ نور معرفت انہی دلوں میں اجالا کرتا ہے جن کے اندر روشنی کو برداشت کرنے کی قوت وذرخیزی ہوتی ہے اور یہ قوت پیدا کرنا ،اگر موجود ہو تو اسے بیدار کرنا اور پھر اسے استحکام عطا کرنا ایک مہربان مرشدوشیخ کا مرہون منت ہوتا ہے۔

حضرت پیر سیّد ابوالکمال برقؒ نوشاہی اپنے مریدین وسائلین کا باطن روشن کرنے کے لئے انہیں اسباق عطا کرتے تھے۔ پھر کسی کو خلافت عطا کرنا چاہتے تو اس پرنہایت توجہ دیتے۔آپ جسے عطا کرنا چاہتے اسکا پیمانہ اسکی پیشانی سے ناپ لیتے۔ قطب الارشاد حضرت پیرسیّد ابوالکمال برق نوشاہیؒ فیض عطا کرنے میں فیاض تھے لیکن وہ بندہ دیکھ کر اسے استعداد و استطاعت کے مطابق نوازتے تھے۔ محض شوق ہی شوق میں معرفت الٰہی کے تمنائیوں کا باطنی نظام فعال کرنا بزرگان دین کے ہاں احسن ومقبول نہیں سمجھا جاتا۔ رُغبت و صلاحیت اور اذن ربّی کے بغیر باطن روشن نہیں ہوتا۔ مرشد و شیخ کی کامل توجہ سے مقام معرفت کی طرف کامیابی سے سفر کیا جاتا ہے اور یہ سفر بہت ہی کٹھن ہوتا ہے۔

فیض رسانی میں حضرت پیرسیّد ابوالکمال برق نوشاہیؒ کا شہرہ دور تک پھیل گیا تھا۔ راہ تصوف کے طلب گار ملکوں ملکوں سے ان کی زیارت کرنے آتے اور پھر ان کے ہی ہو کر رہ جاتے۔ حضرت برق نوشاہیؒ انہیں تصوف کے اسلوب سے آشنا کرتے اور رات گئے تک ذکر الٰہی کی محافل برپا کرتے۔ اُس زمانے میں بھمبر روڈ گجرات سے دولت نگر جاتے ہوئے اس کے مضافاتی گاؤں ڈوگہ شریف میں خلقت جمع رہتی تھی ۔حضرت سیدابوالکمال برقؒ نوشاہی جب دربار نوشاہیہ سجاتے تو سیاہ راتوں میں اجالا رحمت پھیل جاتا تھا۔اس لمحے آپ مریدین کوعالم باطن کے رموز سمجھاتے تھے۔ عالم باطن میں آپ ایک منفرد مقام کے حامل تھے جوایک کیفیت جسے احباب ’’محویت ‘‘ کہتے طاری ہونے کا سبب بنتا تھا۔ حاضرین کو یوں لگتا کہ عالم باطن میں ایک عدالت لگ گئی ہے ۔اولیاء اللہ اپنی اپنی زبانوں میں استغاثے پیش کرتے۔ قضاء و قدر والے احکام جاری کرواتے۔ مجاز احباب کی درخواست پر زبان میں تبدیلی آ جاتی۔ آپؒ اولیاء اللہ سے ایسی زبانوں میں گفتگو فرماتے جنہیں عام حالت میںآپؒ بولنے سے قاصر ہوتے تھے۔حضرت علامہ محمد عظیم نوشاہی مد ظلہ آپ سے ملاقات کے لئے آئے تو ’’محویت‘‘ کے وقت عالمی مبلغ اسلام حضرت پیر سیّد معروف حسین شاہ عارف نوشاہی مد ظالہ نے انہیں حضرت پیر سیّد برق نوشاہی قدس سرہٗ سے علمی گفتگو کی اجازت دی تو علامہ محمد عظیم نوشاہی مد ظلہ نے عربی میں آپ سے کچھ مسائل دریافت فرمائے ۔آپ نے عربی میں مفصل جواب دیاتو وہ ششدہ رہ گئے اسی طرح کا واقعہ حضر ت علامہ حافظ محمد انور نوشاہیؒ اور علامہ غلام مرتضی صابرؔ نوشاہیؒ سے بھی پیش آیا۔ آپ کے صاحبزادے بھی محافل میں شریک ہوتے ا ور عام مریدوں کی طرح اپنے والد گرامی کے قدموں میں بیٹھ کر تجلیات برق ؒ کا مطالعہ کرنے میں انہماک کا اظہار کرتے۔قبلہ سید ظاہرشاہ کمال نوشاہی اپنے والد حضرت برقؒ سے باطنی واقعات کے ظہور پذیر ہونے پرمشاہدہ کیا کرتے تھے۔ سیدظاہر شاہ کمال نوشاہی صاحب سے راقم کی ہالینڈ میں بات چیت ہوتی رہتی ہے اور وہ ازراہ شفقت راقم کی محققانہ طلب پر بلاتکلف گفتگو فرماتے ہیں۔’’ پیر صاحب کی جوتیاں اپنے سر پر ا ٹھا کر چلنا میرے لئے فخر ہوتاتھا۔ میں تو بے تاب رہتا پیر صاحب مجھے کب حکم کرتے ہیں اور میں ایک خادم کی طرح ان کی سیوا کرکے خوشی محسوس کروں۔میں تو حضور کا تب بھی خادم تھا،اب بھی ہوں۔ کیا یہ کم ہے کہ حضور پیر صاحب نے میرے نام کو اپنی کنیت کے لئے منتخب کیا اور مجھے اس اعزاز سے نوازا۔وقت وصال بھی میں حضور قبلہ پیر صاحب کی خدمت میں تھا۔ ’’حضورقبلہ نے وقت نزع میری جو ڈیوٹی لگائی میں اسے پورا کررہا ہوں۔‘‘ سید ظاہر شاہ کمال نوشاہی اپنے والد بزرگوار کاجب بھی ذکر کرتے ہیں ان پر رقت طاری ہو جاتی ہے۔گندمی چہرہ،سفید داڑھی،برق نگاہی۔۔۔وہ والد گرامی کا پرتو ہیں۔

سیّد ظاہر شاہ کمال نوشاہی برسوں سے ہالینڈ میں سلسلہ نوشاہیہ کی ترویج کررہے ہیں۔ مرشد کی کامل توجہ اور مرید کو درجہ ولایت تک پہنچانے کے لئے ایک شیخ کے کردار پر بات ہوئی تو سیّد ظاہر شاہ کمال کہنے لگے ’’شیخ کامل ہی مرید کو سالک و عارف بنا تاہے۔لیکن سالک کو اس راہ میں بڑے امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ سالک کی تربیت کے دوران ذرا سی لغزش اسے تباہ کردیتی ہے‘‘سیّد ظاہر شاہ کمال نوشاہی نے حضرت برقؒ کے خلفاء کا ذکر کرتے ہوئے ایک واقعہ سنایا’’ ضلع جہلم میں گاؤں موہال کے رہنے والے حضور قبلہ پیر صاحب کے ایک انتہائی مؤدب خلیفہ ہوا کرتے تھے مولوی محمد باقر سعید محی الدین قدسی۔۔۔آپ سر پر کلاوہ والی پگڑی باندھتے اور رعب دبدبہ والے انسان تھے۔ حضور کے فیض اور توجہ سے منازل طریقت طے کی تھیں ۔۔۔ حضور قبلہ پیربرق صاحب ؒ کے بہت قریب تھے ۔ حضرت قبلہ عالم حضرت پیر صاحب قدس سرہٗ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو سڑک سے ننگے پاؤں زمین پرناک رگڑتے ہوئے آتے ۔یہ عجزاور نفسی کشی کا ایک انداز تھا، رات دیر تک مرشد پاک کی خدمت میں حاضر رہ کر ملفوظات رقم کرتے۔حضرت پیر صاحبؒ کے قیامِ ٹھل شریف میں ماہانہ گیارھویں شریف کی محفل کے انعقاد کے علاوہ لنگر کے اخراجات کے لئے اپنی پوری تنخواہ حضرت قبلہ عالم حضرت پیر قدس سرہٗ کی خدمت میں پیش کرتے۔ سائیں سردار احمد نوشاہی ؒ منازل طریقت طے کر نے کے دوران نماز عصر کے بعد مراقبے میں مشغول ہو جاتے اور نماز مغرب کے بعد حضرت قبلہ پیر صاحبؒ کی بیٹھک میں آ کر اپنے مشاہدات بیان کرتے تھے جن کو قدسی صاحب رقم کرتے تھے۔آپ شاعر بھی تھے ۔ 1966ء سے قبل سیّد نوشہ گنج بخشؒ کی مدح ’’ انوار نوشاہی‘‘ سی حرفی لکھنے کے علاوہ منظوم شجرہ قادریہ نوشاہیہ تحریر فرمایا ۔ آپ خوش نویس ہونے کے ساتھ زود نویس بھی تھے ۔

قطب الارشادحضرت پیر سیّد ابو الکمال برق نوشاہیؒ عالمِ محویّت میں نعت رسول مقبول ﷺ اشعار میں بیان کرتے تو بابو غلام نبیؒ ، جناب محمد اقبال عرشی ؒ کے علاوہ قدسی صاحب ؒ ان اشعار کو رقم کرتے ۔پیر صاحبؒ قدسی صاحبؒ پربہت شفقت فرماتے اور انہیں حجرے میں مجاہدہ کراتے تھے ۔

یہ مراحل بڑے کٹھن ہوتے ہیں۔راہ تصوف میں بالخصوص جب مجاہدے کرائے جاتے ہیں تو مریدوں کا امتحان شروع ہوجاتا ہے۔مرید کو منازل طے کرانے میں مرشد کو ہمہ وقت اسکی جانب توجہ رکھنی پڑتی ہے۔ قدسی صاحب کو مجاہدات کے دوران اوچ شریف میں مشائخ سلسلہ کے مزارات پر حاضر ی دینے کے اشارت ملنے لگے تو وہ کسی غلط فہمی کی بنا پر حضرت پیر صاحبؒ کی مرضی کے خلاف اوچ شریف کے مسافر ہو گئے اور چند دن بعد مجذوبانہ حالت میں واپس ڈوگہ شریف آ گئے ۔ قدسی صاحب کا مجذوبانہ کیفت میں ایک دن حضرت اویس کرنیؒ سے مکالمہ ہو گیااور یہ کہہ کر کہ اس زمانہ میں بھی رسول اللہ ﷺکے عاشق موجود ہیں، زور سے اپنے رخسار پر زوردار مکّے مار کے دانتوں کو توڑ ڈالا۔

(جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ