دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے ۹ اقدامات

دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے ۹ اقدامات
دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے ۹ اقدامات

  


لاہور پھر لہو لہان ہوا ہے۔پرنٹ میڈیا پر سیاسی رہنماﺅں کے بیانات کا وہی پُرانا سلسلہ اور الیکٹرانک میڈیا پر گھسی پٹی باتوں کی جگالی۔ اور کچھ ہو گا بھی نہیں۔ کچھ تبدیل نہیں ہو گا۔ سب کچھ ویسا ہی رہے گا‘ جیسا دہشت گردی کے پچھلے واقعہ سے پہلے تھا اور بعد میںتھا۔ بس چند دن گزر لینے دیں۔ پھر عوام اور سیاستدانوں میں سے کسی کو یاد بھی نہیں رہے گا کہ لاہور کے چیئرنگ کراس پر خود کش حملہ آور نے خود کو بارود سے اڑایا تھا۔

ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق کم از کم 80000پاکستانی دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کا شکار ہو چکے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف لڑنے والی قوموں کا طرز عمل اور طریق ِکار ایسا ہوتا نہیں ہوتا۔ امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ رونما ہواتو امریکیوں نے نہ صرف خود کو بلکہ پوری دنیا کو بھی تبدیل کرکے رکھ دیا۔ برطانیہ میں سیون سیون کا سانحہ ہوا تو انہوں نے ایسا بندوبست کیا کہ دوبارہ ویسا واقعہ رونما نہ ہو سکا۔ 16دسمبر2014ءکو سانحہ پشاور رونما ہوا تو پوری قوم ایک ہو گئی تھی اور سیاسی اور فوجی قیادت نے مل بیٹھ کر کئی دن کے صلاح مشورے اور سوچ بچار کے بعد بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا۔ تب امید کی کرن پیدا ہوئی کہ دہشت گردی کے عفریت کو مکمل طور پر قابو کر لیا جائے گا۔لیکن افسوس‘ جلد ہی نیشنل ایکشن پلان کو بھی جیسے طاقِ نسیاں پر رکھ دیا گیا۔ آج اس نیشنل ایکشن پلان کو بنے دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے‘ لیکن ہم محض دہشت گردی کا زور ٹوٹنے پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے جبکہ عزم ہمارا یہ تھا کہ اس کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ میرے خیال میں ہمیں اس کے لئے درج ذیل اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

1: نیشنل ایکشن پلان پر شق وار عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔ قومی سطح پر اتفاق رائے حاصل کرنے کے لئے سانحہ پشاور کے بعد والی آل پارٹیز کانفرنس کی طرز پر حکومت کو ایک کل جماعتی کانفرنس طلب کرنی چاہےے اور جائزہ لینا چاہےے کہ نیشنل ایکشن پلان کی کون سی شقوں پر کلی یا جزوی طور پر عمل درآمد ہوا‘ اور کون سی رہ گئیں۔

2: نیشنل ایکشن پلان میں سے بھی سب سے زیادہ توجہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے پر ہونا چاہئے۔ سہولت کار قابو میں آئیں گے تو دہشت گردوں کو کارروائیاں روکنا پڑیں گی۔

3: اب جبکہ بلدیاتی نظام تقریباً پورے ملک میں قائم ہو چکا ہے تو محلے کی سطح پر کام کرنے اور اپنے علاقے میں سبھی کے ساتھ جان پہچان رکھنے والے کونسلر حضرات سے رپورٹ طلب کی جائے کہ ان کے علاقے میں انتہا پسندوں کی حمایت کرنے والے کون لوگ ہیں۔ ان معلومات کو پوشیدہ رکھا جائے ‘ خاموشی اور خفیہ طریقے سے اس کی تحقیقات کی جائے اور اگر کونسلروں کی فراہم کردہ معلومات درست ثابت ہوں تو بھرپور کارروائی کی جائے۔ دہشت گردوں کی سپلائی لائن کاٹنے اور ان کی سہولت کاری جڑ سے ختم کرنے کا اس سے بہتر طریقہ شاید اور کوئی نہ ہو۔

:4جب تک دہشت گردی اور انتہا پسندی پر مکمل طور پر قابو نہیں پا لیا جاتا‘ کھلی جگہوں پر احتجاجوں اور دھرنوں کا سلسلہ بند ہونا چاہےے؛ تاہم ضروری ہے کہ اس مقصد کے لئے کوئی محفوظ جگہ مختص کی جائے کہ کسی معاملے میں اپنے تحفظات کے اظہار کے لئے عوام کو احتجاج کے حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ غالباً اس سلسلے میں کچھ فیصلے ہوئے بھی‘ لیکن ان پر بھی عمل درآمد کی نوبت نہیں آنے دی گئی۔ اس کے دو فائدے ہوں گے۔ اوّل : سانحہ مال روڈ جیسے حادثات سے بچا جا سکے گا۔ دوئم: احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کی وجہ سے ٹریفک کے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں‘ ان سے بچا جا سکے گا۔

5: اس حوالے سے کچھ ذمہ داری عوام پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ڈرگسٹ کے دھرنے مثال ہی لے لیں۔ حکام کے توجہ دلانے اور درخواست کرنے پر اگر اس دھرنے کے کرتا دھرتا توجہ دیتے اور دھرنا ختم کرکے میڈیکل سٹوروں اور مطبوں کو بند رکھنے جیسے احتجاج تک ہی محدود رہتے تو اس سانحے سے بچا جا سکتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی اپنے طرز عمل پر غور کرنا چاہئے۔ کسی ادارے یا کمیونٹی کے وابستگاز کئی کئی روز احتجاج کرتے رہتے ہیں اور دھرنا دئےے بیٹھے رہتے ہیں‘ لیکن حکومتی سطح پر کوئی ان کی شنوائی کے لئے نہیں آتا۔ جب کوئی کمیونٹی احتجاج کرنے سڑکوں پر نکل آئے اور شہری زندگی کو متاثرکر رہی ہو تو پھر سرکاری حکام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان سے بات چیت کا ڈول ڈالیں۔ ان کی بات سنیں‘ اپنی سنائیںتاکہ کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکے۔

6: کالعدم تنظیموں کی خفیہ سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور ان کا سدباب کرنا فورسز کا کام ہے۔ یہ تنظیمیں نام بدل بدل کر اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی اور مسائل کا باعث بنتی رہیں گی۔

7: انتہا پسندوں‘ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے رابطوں کا پتہ چلانے اور ان رابطوں کو کاٹنے کے لئے سائبر ٹیکنالوجی کا استعمال عمل میں لانا چاہےے۔ کس کا ‘ کب‘ کس سے رابطہ ہوا‘ کس نے کس کو‘ کب‘ کیا پیغام بھیجا‘ یہ پتہ چلانا آج کے دور میں ناممکن نہیں ۔

8: افغان مہاجرین کی واپسی کا جلد اور ٹھوس بندوبست کیا جانا چاہئے۔ ہم نے ان کی بہت مہمان نوازی کی‘ لیکن اب انہیں ان کے وطن واپس بھیج دیا جانا چاہئے‘ کیونکہ ہمارے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے رابطے بھارت اور افغانستان سے ملتے ہیں۔ یہ آمدورفت رکے گی تو حالات میں کچھ بہتری آئے گی۔

9: جو آپریشن بھی کرنا ہے‘ خاموشی اور رازداری سے کیا جائے۔ جب میڈیا میں یہ خبریں آ جاتی ہیں کہ فلاں جگہ پر فلاں آپریشن ہونے والا ہے تو دہشت گرد چوکنا ہو جاتے ہیں اور اپنی جگہ تبدیل کر لیتے ہیں‘ اس طرح آپریشن کے وہ مقاصد حاصل نہیں ہوتے‘ جو ہونے چاہئیں۔ 

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں ، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ