ہر ممتاز فنکار ،ادیب اور فلمی شخصیت کے سکینڈل ۔۔۔ تیسری قسط

ہر ممتاز فنکار ،ادیب اور فلمی شخصیت کے سکینڈل ۔۔۔ تیسری قسط
ہر ممتاز فنکار ،ادیب اور فلمی شخصیت کے سکینڈل ۔۔۔ تیسری قسط

  

’’اسکرین اینڈ ساؤنڈ ‘‘اسٹوڈیو کے بڑے سے پھاٹک کو دیکھ دیکھ کر ہماری آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور یہ ہمارے لئے الف لیلیٰ کے گنبد در بندکی طرح تھا جس کے اندر جانے کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا تھا اسکرین اینڈ ساؤنڈ کے اندر جانے کاراستہ تو ہمیں دور ہی سے نظر آ جاتا تھا مگر یہ دروازہ علی باباچالیس چور کے غار کے دروازے کی مانند ہمارے لئے بند ہی تھا۔اس کے اندر جانے کے لئے جو جادوئی منتر پڑھا جاتاہے‘ہم اس سے واقف نہیں تھے۔

ہر ممتاز فنکار ،ادیب اور فلمی شخصیت کے سکینڈل ۔۔۔ دوسری قسط  پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بس میں ہمارے ساتھ اور بھی بہت سے لوگ سفر کیاکرتے تھے۔یہ وہ لوگ تھے جو ہر روز صبح ماڈل ٹاؤن سے لاہور کے مختلف علاقوں میں جاتے اور شام کو یا رات کو واپس آیا کرتے تھے۔کسی ماڈل ٹاؤن والے سے اگر پوچھا جاتا کہ بھئی آپ کہاں جا رہے ہیں ؟تو وہ جواب میں کہتا ’’ شہر جا رہا ہوں۔‘‘

گویا لاہور ماڈل ٹاؤن والوں کے لئے ایک دوسرا شہر تھا اور کیوں نہ ہوتا۔چھ سات میل کا فاصلہ درمیان میں حائل تھا۔جس میں سے بیشتر ویران اور غیر آباد تھا۔سڑکوں پر روشنی تک نہیں ہو ا کرتی تھی۔ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مختصر سی آبادی نظر آجاتی تھی اور اس کے بعد پھر وہی جنگل بیابان۔ماڈل ٹاؤن کی بسوں کے سوا سفر کا کوئی دوسرا معقول ذریعہ نہیں تھا۔یا پھر سائیکل ہوا کرتی تھی۔کبھی کبھی گاؤں سے دودھ لانے والے ریڑھے بھی نظر آجاتے تھے۔غرضیکہ عجب لق ودق جگہ تھی۔شام ڈھلنے کے بعد لوگ شہر سے ماڈل ٹاؤن یاماڈل ٹاؤن سے شہر جانے سے گھبراتے تھے اور دامن بچاتے تھے کیونکہ راہ میں چور مل جاتے تھے۔جو ان کی سائیکل اور جیب سے چند روپے نکلوا کر غائب ہو جایا کرتے تھے اگر کسی کی کلائی میں گھڑی ہوتی تو وہ غریب اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا تھا۔

ان بسوں میں سوار ہونے والے بیشتر لوگوں کو فلموں یا فلم اسٹوڈیو سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ایک تو اس لئے کہ نیا نیا پاکستا ن بناتھا۔سبھی لٹ پٹ کر آئے تھے اور اپنی پریشانیوں میں مبتلاتھے۔ دوسرے اس لئے کہ مسلمانوں میں فلمیں اس زمانے میں اتنی مقبول نہیں تھیں اوربہت کم لوگ فلموں کے بارے میں بات چیت کرتے تھے۔فلمیں دیکھنے والوں کی تعداد بھی برائے نام ہی تھی۔

ایک دن ہم حسب معمول ماڈل ٹاؤن کی بوسیدہ سی بس میں سوار ہوئے جس کی کھڑکیوں کے اکثر شیشے ٹوٹے ہوئے تھے۔گرمیوں میں تو اندر آنے والی ہوا کابہت مزہ آتا تھا اور ساری بس قدرتی ائر کنڈیشنڈ ہو جاتی تھی مگر سردی کے موسم میں یہ ٹوٹے ہوئے شیشے مسافروں کی قلفی جما دیا کرتے تھے۔اس زمانے میں لاہور کے موسم بھی بہت شدید ہوا کرتے تھے۔گرمی ہے تو بہت زیادہ۔لو‘حبس دھوپ کی شدت،یہاں تک کہ تارکول کی سڑکیں بھی پگھل جاتی تھیں اور اگر سردی ہے تو وہ بھی بے انتہا۔وہ سردیوں کا موسم تھا اور ہر شخص اپنے پاس والے مسافر کے ساتھ چپکا بیٹھا تھا جو لوگ کھڑے تھے وہ بھی ایک دوسرے سے اس قدر نزدیک تھے کہ لگتا تھا کہ بغلگیر ہو رہے ہیں۔ ٹوٹے ہوئے شیشوں کی کھڑکیوں سے آنے والی یخ بستہ ہوا سے بچنے کی اس کے سوا کوئی اور صورت نہ تھی۔

ہمیں اتفاق سے بیٹھنے کی جگہ مل گئی تھی۔ ہم ہمیشہ اس طرف کی کھڑکی کے سامنے بیٹھنے کی کوشش کرتے تھے جس طرف سے اسکرین اینڈ ساؤنڈ اسٹوڈیو نظر آتا تھا۔ اس روز بھی ہم اپنی پسندیدہ جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ہمارے پاس ایک جوان العمر فیشن ایبل صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ سوٹ بوٹ میں تھے۔ سانولا رنگ تھا مگر نقش و نگار بہت اچھے تھے۔ سیاہ مونچھوں کی وجہ سے وہ اور بھی زیادہ رعب دار نظر آتے تھے۔ خاصے پڑھے لکھے معلوم ہوتے تھے۔ سفر کافی لمبا تھا اس لئے انہوں نے بس میں بیٹھتے ہی ہم سے باتیں شروع کر دیں۔ ہم سے پوچھا ’’کہاں سے آئے ہیں ؟ کہاں رہتے ہیں ؟ کہاں جار ہے ہیں ؟‘‘ وغیرہ۔ پھر اپنے بارے میں بتایا کہ ان کا نام گل تھا۔ آگے پیچھے کیا تھا یہ ہمیں یاد نہیں رہا۔ وہ پڑھے لکھے آدمی تھے۔ فوٹو گرافی کا شوق تھا اور بہت جلد اعلیٰ تربیت کے لئے ملک سے باہر جانے والے تھے۔ یہ سن کر ہم خاصے مرعوب ہوئے کیونکہ اس زمانے میں یورپ جانا ایک کارنامہ ہی سمجھا جاتا تھا اور گنتی کے چند لوگ ہی یہ سعادت حاصل کرتے تھے۔ پھر انہوں نے ہمیں لاہور کے بارے میں بتایا۔ وہ لاہور ہی کے رہنے والے تھے۔ ہم سے بولے کہ لاہور آپ کو اس لئے اور بھی اچھا لگے گا کہ یہاں فلمی مرکز ہے۔ فلمیں بنتی ہیں‘ ایکٹر اور ایکٹرسیں یہاں رہتی ہیں۔ فلموں کے بارے میں ان کی معلومات ہم سے بہت زیادہ تھیں مثلاً انہوں نے بتایا کہ مسلم ٹاؤن میں پنچولی اسٹوڈیو کے آس پاس اداکارعلاؤالدین اور سنتوش کمار رہتے ہیں۔ اسکرین اینڈ ساؤنڈ اسٹوڈیو کے بالکل سامنے فیروز پور روڈ کی دوسری جانب اداکار و ہدایت کار نذیر اور اداکارہ سورن لتا رہتی ہیں۔ انہوں نے اور بھی کئی فلم والوں کے بارے میں ہمیں بتایا مگر ہم ان سے بیشتر لوگوں سے ناواقف تھے اس لئے کہ ہم نے تو پاکستان آنے سے پہلے صرف بمبئی میں بنی ہوئی فلمیں ہی دیکھی تھیں۔ لاہور کی فلموں اور فلم والوں کے متعلق ہماری معلومات صفر کے برابر تھیں۔

انہوں نے یکایک ہم سے پوچھا ’’تمہیں اداکار بننے کا شوق ہے ؟‘‘

ہم نے کہا ’’نہیں مگر ہمیں فلمیں دیکھنے کا شوق ہے۔ ‘‘

’’اداکاروں کو دیکھنے کا شوق بھی نہیں ہے ؟ ‘‘ انہوں نے پوچھا

’’ نہیں۔ بس فلموں میں دیکھنا ہی اچھا لگتا ہے۔ دو چار آرٹسٹ ہی ایسے ہیں جنہیں دیکھنے کو جی چاہتا ہے مگر وہ بمبئی میں ہیں۔ ‘‘

گل صاحب نے کہا ’’یہاں کے آرٹسٹ بمبئی کے آرٹسٹوں سے کم نہیں ہیں مگر آپ نے ان کی فلمیں نہیں د یکھیں اور آج کل لاہور میں فلمیں بھی بہت کم بنتی ہیں۔یہاں تو نئے سرے سے فلم انڈسٹری بنے گی۔‘‘ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ان کی فلم والوں سے جان پہچان ہے۔

’’آپ کو فلم کی شوٹنگ دیکھنے کا شوق ہے ؟‘‘انہوں نے پوچھا۔ہم نے فوراً اثبات میں سر ہلا دیاوہ بولے ’’موقع ملا تو میں آپ کو فلم اسٹوڈیو دکھاؤں گا۔‘‘

انہوں نے ہمیں بتایا کہ اسکرین اینڈ ساؤنڈ اسٹوڈیوکے سامنے وا لی کوٹھی میں نذیر صاحب اور سورن لتا رہتے ہیں جن کی محبت کی شادی ہے۔ان دونوں نے ’’وامق عذرا ‘‘ اور ’’لیلیٰ مجنوں‘‘میں ہیرو اور ہیروئن کے طور پر کام کیا اور ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔یہاں تک کہ شادی کر لی۔نذیر صاحب پہلے بھی شادی شدہ تھے اور ان کی پہلی بیگم لاہور میں رہا کرتی تھیں۔سورن لتا سے شادی کے بعد نذیر صاحب نے اپنی پہلی بیوی سے ملنا بھی چھوڑ دیا تھا۔

’’ وہ کیوں ؟‘‘ہم نے پوچھا۔

گل صاحب نے ادھر اُدھر دیکھا اور چپکے سے بولے ’’ سورن لتا سے ڈرتے ہیں۔کتنی عجیب بات ہے کہ سب لوگ نذیر صاحب سے ڈرتے ہیں۔بمبئی کی فلم انڈسٹری میں بھی ان کا بہت رعب تھا مگر وہ سورن لتا سے ڈرتے ہیں۔‘‘

ہم نے دل میں سوچا کہ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ اﷲ ہر فرعون کے لئے ’’موسیٰ‘‘ پیدا کرتا ہے۔

’’شوکت حسین رضوی اور نور جہاں کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے ؟‘‘گل صاحب نے ہم سے پوچھا

ہم نے سادگی سے کہا ’’نہیں ‘‘

’’ارے‘آپ نے ان کی فلمیں نہیں دیکھیں ؟‘‘

ہم نے کہا ’’ہم نے ان کی دو فلمیں تو دیکھی ہیں اور ہمیں نور جہاں اچھی بھی لگتی ہیں‘وہ بہت اچھا گاتی ہیں مگر ہم انہیں جانتے نہیں ہیں۔‘‘

وہ ہنسنے لگے ’’بھئی آپ بھی خوب ہیں۔جاننے سے یہی مطلب ہے کہ آپ نے ان کی فلمیں دیکھیں ہیں یا نہیں اور کیا ان کو پسند بھی کرتے ہیں ؟‘‘

’’ ہاں ہاں‘بہت زیادہ ‘‘ ہم نے کہا

انہوں نے کہا ’’کہ آپ کو تو پتا ہو گاکہ شوکت صاحب اور بمبئی سے پاکستان آ گئے ہیں۔لاہور میں جلا ہوا اسٹوڈیو انہوں نے لے لیا ہے اور وہیں ’’شاہ نور اسٹوڈیو ‘‘کے نام سے نیا اسٹوڈیوبنا رہے ہیں۔‘‘

ہم سنتے رہے‘اس وقت ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب ہم دن رات شاہ نور اسٹوڈیو میں رہا کریں گے۔

گل صاحب نے کہا ’’شوکت صاحب اور نور جہاں شیش محل میں رہتے ہیں۔آپ نے دیکھا ہے شیش محل ؟‘‘

ہم نے انکار میں سر ہلا دیا۔

بولے ’’وہ ڈیوس روڈ پر ہے۔بڑی شاندار اور بڑی عمارت ہے‘پورا محل ہے۔‘‘

’’ان سے ملنا ہے تو کسی دن میں آپ کو لے چلوں گا۔میں نے ان کی تصویریں بنائیں ہیں۔وہ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں۔‘‘

ہم ہوں ہاں کر کے چپ ہو گئے۔دراصل بات یہ ہے کہ ہمیں اداکاروں وغیرہ سے ملنے کا کبھی اشتیاق نہیں رہا۔ہمیں تو فلم کی شوٹنگ دیکھنے کا شوق تھا کیونکہ ہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ فلم بنتی کس طرح ہے ؟

ابھی ہماری معلوماتی بات چیت یہیں تک پہنچی تھی کہ بس ریگل کے اسٹاپ پر پہنچ گئی۔یہ مال روڈ پر بہت اہم بس سٹاپ تھااور زیادہ تر لوگ یہاں اتر جاتے تھے۔گل صاحب بھی یہاں اتر گئے اور ہم بھی۔ ’’خدا حافظ، پھر ملیں گے ‘‘کہہ کر رخصت ہو گئے۔نہ یہ بتایاکہ وہ رہتے کہاں ہیں ؟ اور اگر ملیں گے تو کب اور کیسے ملیں گے ؟ہم یہ سوچتے رہ گئے کہ شاید وہ دوبارہ ماڈل ٹاؤن کے اسٹاپ پر مل جائیں گے مگر اس کے بعد وہ چھلاوے کی طرح غائب ہو گئے۔وہ دن اور آج کا دن۔ہم نے انہیں پھر کبھی نہیں دیکھا۔مگر وہ ہمارے دل میں فلم اسٹوڈیوز دیکھنے کا شوق اور زیادہ بھڑ کا گئے تھے۔

کچھ وقت اور گذر گیا۔ہم لاہور سے کچھ مانوس ہو گئے۔لکشمی چوک اور رائل پارک کا بھی پتا چل گیا جہاں فلمی دفاتر تھے۔کچھ عرصے بعد ہم ایک روز نامے میں کام کرنے لگے اور صحافی بن گئے۔اخباروں میں اس زمانے میں فلموں کا تذکرہ نہیں ہوا کرتا تھا۔نہ کوئی فلمی خبر شائع ہوتی تھی۔ فلمی خبروں اور تصویروں کے لئے فلمی جرائد مخصوص تھے اس لئے اخبار کے دفتر میں ہمیں کوئی ایسا نہیں ملا جس سے ہم فلم اسٹوڈیو دیکھنے کے بارے میں گفتگو کرتے۔

ہمارے ایک عزیز انگریزی روز نامہ ’’ پاکستان ٹائمز‘‘میں کام کرتے تھے۔انہوں نے ہمیں ایک دن ایک گندمی رنگ نوجوان سے ملایا اور بتایا کہ ان کا نام نبی احمد ہے۔

نبی احمد صاحب کم گو آدمی تھے مگر جب انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ فلمی صنعت سے وابستہ ہیں اور ایک فلم میں اسسٹنٹ کیمرہ مین کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں تو ہمیں دلچسپی پیدا ہو گئی۔ہم نے ان سے فلموں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ایک فلم کی شوٹنگ ہورہی ہے جس میں وہ کیمرہ مین نظام نا خدا کے معاون ہیں۔اس سے پہلے کہ ہم اپنے شوق کا اظہار کرتے انہوں نے خود ہی ہم سے پوچھا ’’آپ فلم کی شوٹنگ دیکھنا چاہتے ہیں ‘‘؟

ہم نے سر ہلا دیا۔

بولے ’’پرسوں ہماری فلم ’’دو کنارے ‘‘کی شوٹنگ ہے۔آپٍ نے اسکرین اینڈ ساؤنڈ اسٹوڈیو دیکھا ہے ؟‘‘

ہم نے کہا ’’وہ تو ہم روزہی دیکھتے ہیں‘ہمارے راستے میں ہے۔‘‘

’’بس تو پھر آپ پرسوں دن میں کسی وقت اسکرین اینڈ ساؤنڈ اسٹوڈیو میںآجائیں۔‘‘

’’مگر ہم اندر کیسے جائیں گے ؟‘‘ہم نے پوچھا

’’آپ گیٹ کے باہر کیفے ڈی پھونس میں کسی لڑکے کو بتا دیجئے گا۔وہ مجھے اندر خبر کر دے گا اور میں آپ کو اسٹوڈیو کے اندر لے جاؤں گا۔‘‘

ہم نے بے تابی سے پوچھا ’’مگر پرسوں کیوں ؟ہم تو کل ہی آ جائیں گے۔‘‘

کہنے لگے ’’کل نہ آئیں کیونکہ کل شوٹنگ نہیں ہے۔‘‘

اس طرح ہماری فلم کی شوٹنگ دیکھنے کی خواہش خود بخود پوری ہو گئی۔نبی احمد صاحب بعد میں پاکستان کے صف اول کے کیمرہ مین بن گئے تھے اور انہوں نے بہت سی یاد گار فلموں کی عکاسی کی۔وہ ایک پڑھے لکھے نوجوان تھے۔انہیں فوٹو گرافی سے عشق تھا۔وہ فوٹو گرافی کے بارے میں باہر سے آئے ہوئے انگریزی میگزین بہت باقاعدگی سے خریدا کرتے تھے۔اس زمانے میں ان کی قیمت ڈیڑھ دو روپے ہوتی تھی مگر اس وقت یہ بہت بڑی رقم تھی۔ اب یہی میگزین سینکڑوں روپے میں ملتے ہے۔ہم نے فلمی دنیا سے وابستگی کے زمانے میں کبھی کسی اور فوٹو گرافر کو فوٹو گرافی کے متعلق غیر ملکی میگزین خریدتے نہیں دیکھا۔یہ شوق اور دیوانگی نبی احمد صاحب ہی کے حصے میں آئی تھی۔

جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -