’میں 7 سال سعودی عرب میں کام کرتا رہا، تاحال آٹھ لاکھ روپے نہیں مل سکے‘: کفیلوں سے ستائے پاکستانی شہری حکومت کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے

’میں 7 سال سعودی عرب میں کام کرتا رہا، تاحال آٹھ لاکھ روپے نہیں مل سکے‘: ...
’میں 7 سال سعودی عرب میں کام کرتا رہا، تاحال آٹھ لاکھ روپے نہیں مل سکے‘: کفیلوں سے ستائے پاکستانی شہری حکومت کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) عرب ممالک میں محنت مزدوری کرنے کے لیے جانیوالے ایشیائی باشندوں بالخصوص پاکستانیوں کے لیے مشکلات روزبروز بڑھتی چلی جارہی ہیں اور کمپنیاں بند ہونے کی وجہ سے کچھ لوگوں کو اپنے اپنے ممالک واپس بھی بھیجاگیا لیکن تاحال انہیں واجبات ادانہیں کیے گئے، ایسے ہی حالات کا سامنا کرنیوالے درجنوں پاکستانی شہری احتجاج کرنے پریس کلب کے باہر پہنچ گئے اور بتایاکہ احتجاج میں شامل افراد نے دو سے 30سال تک سعودی عرب میں کام کیا لیکن 10سے12ماہ کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کی عدم ادائیگیوں جو کہ لاکھوں میں ہیں پر احتجاج شروع کیاتو اوورسیزوزیرپیرصلاح الدین راشدی سعودی عرب پہنچ گئے اوردفتر خارجہ و پاکستانی سفیر منظورالحق کے ساتھ مل کر ہمیں آمادہ کیاگیاکہ آپ پاکستان چلے جائیں ، ٹکٹ آپ کو مل جاتی ہے اور واجبات ڈیڑھ سے دوماہ کے اندر آپ کو اپنے گھروں میں پاکستان میں ہی مل جائیں گے لیکن چھ ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود تاحال کچھ نہیں ملا اورنہ ہی کوئی ذمہ دار رابطے میں ہے، گھروں میں فاقوں کی نوبت ہے ۔

اسلام آباد پریس کلب کے باہر احتجاج کرنیوالے شہریوں نے بتایاکہ وزیراعظم کے اعلان کردہ پچاس ہزار بھی پندرہ سے بیس فیصد لوگوں کو نہیں ملی،ایک متاثرہ شہری نے بتایاکہ سعودی عرب سے بھی واپس خالی ہاتھ ہی آیا ہوں، حدیث مبارکہ ہے کہ مزدور کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے ملے ، ہمارا پسینہ تو کیا خون بھی خشک ہوگیا، تقریباً آٹھ لاکھ روپے واجب الاد ا ہیں ، واپسی کا کرایہ تک نہیں ملاتھا،واپس بھیجنے کے لیے ریاض میں پاکستانی قونصلیٹ نے مصالحت کرائی تھی لیکن لالی پاپ کے بعد ہم جیسے لوگوں کو نہیں ملے اور نہ ہی ملناگنوارا کرتے ہیں، ہم اسی لیے یہاں جمع ہوئے کہ میڈیا کے ذریعے اپنی آواز بلند کرسکیںاور اپنے مسائل سے متعلقہ لوگوں کو آگاہ کرسکیں۔

راشدنامی شہری نے بتایاکہ لبنان کے حکمران خاندان کی کمپنی سعودی اوجر میں سات سال کام کیا اور آٹھ لاکھ روپے سے زائد کے واجبات ہیں، سترہزار روپے ماہانہ کے حساب سے دس ماہ کی تنخواہ باقی ہے جبکہ سات سال کے دیگر واجبات ہیں جس کے کاغذات سفارتخانے کے پاس ہیں جن پر واضح لکھا تھا کہ اس ورکرکی اتنی رقم واجب الاد ا ہے ، واپس آئے چار ماہ سے زائد عرصہ ہوگیا ، جدہ میں پاکستانی قونصل خانے طارق اور علی سے رابطہ کیا توانہوں نے کہاکہ تاحال معاملات حل نہیں ہوئے ، یقین دہانیاں بہت کرائی گئیں لیکن ابھی تک خالی ہاتھ ہیں۔

غلام عباس نے بتایاکہ نو سال سعودی عرب میں رہااور ساڑھے آٹھ لاکھ روپے کے قریب رقم واجب الادا ہے،احتجاج کرنیوالوں میںسرگوھا، مانسہرہ ، شانگلہ، چکوال اور دیگر شہروں کے لوگ بھی شامل ہیں، نوازشریف کے سعودی اور لبنان کے حکمرانوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، وزیراعظم سے اپیل ہے کہ سعودی اوجر کے مالک لبنان کے حکمران سعد حریری سے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ہمارے حقوق دلوائیں، محرم الحرام میں آئے تھے تو نوازشریف نے بھی بیت المال سے ہر بندے کو پچا س ہزارروپے دینے کا اعلان کیاتھا لیکن وہ بھی صرف پانچ فیصد سے زائد لوگوں کو نہیں ملے۔

ایک اور شہری نے انکشا ف کی اکہ فلپائن اور بھارت نے سعودی اوجر کے ملازمین اپنے شہریوں کی ذمہ داری لی اور حکومتوں نے واجب الادا مجموعی رقم سے نصف ملک واپس پہنچتے ہی فوری طورپر اداکردی کہ فی الحال اس رقم سے اپنے گھریلومعاملات چلائی، سعودی اوجر سے رقم ملنے پر اداکی گئی رقم حکومت کاٹ لے گی ، ہماری درخواست ہے کہ حکومت پاکستان بھی ویسا ہی طریقہ اپنائے اور ہماری مدد کی جائے ۔

احتجاج کی مکمل ویڈیو دیکھئے 

مزید : قومی