بھارتی فوجی سربراہ کا بیان کشمیریوں کا قتلِ عام کرنے کی واضح دھمکی ،بپن راوت ہوش کے ناخن لیں ،دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوں گے : سید علی گیلانی

بھارتی فوجی سربراہ کا بیان کشمیریوں کا قتلِ عام کرنے کی واضح دھمکی ،بپن راوت ...
بھارتی فوجی سربراہ کا بیان کشمیریوں کا قتلِ عام کرنے کی واضح دھمکی ،بپن راوت ہوش کے ناخن لیں ،دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوں گے : سید علی گیلانی

  


سرینگر( صباح نیوز)چیرمین حریت کانفرنس سید علی گیلانی نے بھارتی فوجی سربراہ کے بیان کو عام شہریوں کا قتلِ عام کرنے کی واضح دھمکی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت جموں کشمیر میں 47ء سے ہی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور بھارتی حکمرانوں کو صرف کشمیر کی زمین سے مطلب ہے اور اس پر اپنا جبری قبضہ جاری رکھنے کے لیے وہ یہاں کی تمام آبادی کو بھی موت کے گھاٹ اُتار سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوجی سربراہ نے اپنے بیان میں جس نشۂ قوت اور غرور کا مظاہرہ کیا ہے، وہ ہی بیمار سوچ والا وطیرہ جموں کشمیر میں جاری خون خرابے اور سیاسی غیریقینیت کا بنیادی سبب اور محرک ہے اور اسی کے خلاف پوری کشمیری قوم اور خاص طور سے ہماری نوجوان نسل اٹھ کھڑا ہوگئی ہے۔

جمعرات کو جاری ایک اخباری بیان میں گیلانی نے کہا کہ عسکری معرکوں کے دوران میں جو صورتحال پیدا ہوجاتی ہے اور جس طرح سے نہتے عام شہری سینہ تان کر بندوقوں کے دہانوں کے سامنے آجاتے ہیں، وہ بھارتی حکمرانوں اور فوج کے لیے غوروفکر کا باعث بن جانا چاہیے تھا اور انہیں سمجھ لینا چاہیے تھا کہ یہ گنتی کے چند سرفروشوں تک بات محدود نہیں ہے، بلکہ پوری کشمیری قوم بھارت کے قبضے کے خلاف سراپا احتجاج ہے اور وہ بھارتی حکمرانوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ’’کرو یا مرو‘‘ جیسے عزم کے ساتھ سامنے آگئی ہے۔سید علی  گیلانی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت اس نئی صورتحال سے کوئی سبق لینے کے بجائے پُرانی لکیر پیٹنے پر مُصر ہے اور وہ دھمکیوں کے ذریعے سے کشمیریوں کو خاموش کرانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے طرز فکر اور غنڈہ گردی سے ماضی میں کچھ حاصل ہوا ہے اور نہ مستقبل میں اس کے ذریعے سے کشمیریوں کو مرعوب کیا جاسکتا ہے۔

کشمیری راہنما نے اپنے بیان میں کہا کہ عسکری معرکوں میں قیمتی انسانی زندگیوں کا اتلاف کوئی اچھی بات نہیں ہے اور کوئی بھی ذی فہم شخص اس طرح کی صورتحال سے خوش نہیں ہوسکتا ہے، البتہ یہ صرف بھارت کا ہی غیر حقیقت پسندانہ رویہ ہے جو اس طرح کی صورتحال کے لیے بنیادی اور اصل سبب ہے۔ بھارتی فوجی سربراہ کا بیان اس حیثیت سے بالکل بھی حیران کُن نہیں ہے کہ یہ ملک 70سال سے اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور وہ کشمیر کے سیاسی تنازعے کو بندوق کے ذریعے سے حل کرانا چاہتا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کو اپنے فوجیوں کے جانوں کی کوئی فکر ہے اور نہ وہ کشمیریوں کے قتلِ عام کی کوئی پرواہ کرتے ہیں، وہ اپنی انّا کی تسکین کے لیے خون کے رسیا بن گئے ہیں اور انسانی زندگیوں کی ان کی نظر میں کوئی قدروقیمت ہی نہیں ہے۔

سید علی گیلانی ے بھارتی فوجی سربراہ کو ہوش کے ناخن لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دہلی کے پالیسی سازوں کی اکڑ ہے، جن کی  وجہ سے کشمیریوں کے سروں کی فصل بھی کٹ رہی ہے اور بھارت کے غریب فوجی بھی اس آگ میں ایندھن کے طور پر استعمال ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی سربراہ نے جس طرح سے تمام کشمیریوں کو مجاہدین کا اپرگراؤنڈ قرار دیکر ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی دھمکی دی ہے، وہ ان کی بیمار سوچ کی عکاس ہے اور اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ وہ معقولیت اور سیاسی بصیرت سے بالکل کورے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کوئی امن وقانون کا مسئلہ نہیں ہے، جس کو ملٹری طاقت کے ذریعے سے حل کیا جاسکتا ہے۔ یہ 15ملین لوگوں کے حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ یہ ان وعدوں کے ایفا کا معاملہ ہے، جو بھارتی حکمرانوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کئے ہیں اور بعد میں ان کو پورا نہیں کیا ہے۔ کشمیری راہنما نے بھارتی فوجی سربراہ کو تاریخ کا مطالعہ کرنے کی صلاح دی اور کہا کہ تنازعہ کشمیر کی وجہ سے بھارت نے تین جنگیں لڑی ہیں اور لاکھوں کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا ہے، البتہ اس تنازعے کو بندوق اور بارود کے ذریعے سے جب حل کیا جاسکا ہے اور نہ اب ایسا ممکن ہے۔ گیلانی نے ہندنواز کشمیری سیاستدانوں کی بھی سخت سرزنش کی اور کہا کہ گنتی کے ان چند لوگوں کو چھوڑ  کرپوری کشمیری قوم بھارت کے جبری قبضے کے خلاف کھل کر سامنے آگئی ہے اور ان کی آزادی کی راہ میں واحد حائل رُکاوٹ وہ ہی لوگ ہیں، جو اپنے اقتدار کی خاطر بھارت کے گماشتوں اور ایجنٹوں کا کردار نبھارہے ہیں اور اپنی ہی قوم کی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں۔

مزید : قومی