چاند کی پہلی تاریخوں میں اسکا چہرہ بدل جاتا ہے

چاند کی پہلی تاریخوں میں اسکا چہرہ بدل جاتا ہے
چاند کی پہلی تاریخوں میں اسکا چہرہ بدل جاتا ہے

  

تحریر: آفرین اعوآن (اٹک،پاکستان )

’’اُدھر نہ بیٹھ بچے ۔۔! آگے آ جا۔۔‘‘ پیر مسکین شاہ صاحب نے اُس معصوم سی سات آٹھ سالہ بچی کو کہا ،جو بڑی مشکل سے اپنے بھائی کو گود میں لیے ہوئے مسجد کی سیڑھیوں پہ بیٹھی تھی ۔۔۔کہ وہ بچہ کسی طور چُپ نہ ہو پا رہا تھا ۔۔۔

’’ اسلام علیکم سرکار ۔۔۔‘‘دوست محمد نے پیر صاحب کے قدم چھوئے ۔۔اور جواب میں اُس صاحب کرامت شخصیت نے دوست محمد کے کندھے پہ ہاتھ رکھا ۔۔ ’’اللہ راضی ہو تم پہ بیٹا۔۔سُناؤ کیسے آنا ہوا۔۔؟‘‘ پیر صاحب نے اپنی گدی پہ بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔

’’سر کار ۔۔ آپ کے اس مرید نے بڑا تنگ کر رکھا ہے ۔۔ چُپ ہی نہیں ہوتا ۔۔؟ ‘‘ دوست محمد نے پیر صاحب کو اپنے آنے کی وجہ بتائی ۔

’’ ہمم ۔۔۔ ادھر لاؤ اسے ۔۔‘‘ پیر صاحب نے سر کے اشارے سے اُ س بچی کو قریب بُلایا ۔۔ پیر مسکین شاہ صاحب کے ہونٹ کلام پاک کے ورد میں مصروف ہو گئے ۔۔ ’’اس کا مسلہ اصل میں کچھ اور ہے دوست محمد ۔۔ ‘‘ پیر صاحب نے دم ختم کرنے کے بعد کہا ۔۔۔

’’ اللہ خیر کرے سرکار ۔۔۔ کیا مسلہ ہے میرے بچے کے ساتھ ۔۔۔ آپ تو جانتے ہیں کہ بڑ ی منتو ں مرادوں کا منگا ہوا ہے یہ ۔۔‘‘

’’دوست محمد ۔صرف ہم ہی اللہ کی مخلوق نہیں ہیں ۔۔۔ ہم سے کہیں زیادہ تعداد میں جنات ہیں ۔۔ اور بھی سینکڑوں مخلوقات ہیں ۔۔اللہ پاک جب چاہتا ہے ،جس مخلوق کو چاہتا ہے ،زمین پہ پھیلا دیتا ہے ۔۔۔ ‘‘ پیرصاحب نے دوست محمد کی اُڑتی ہوئی رنگت کو دیکھتے ہوئے تمحید باندھی ۔۔۔

’’ جی با لکل سرکار ۔۔ آپ درست فرما رہے ہیں ۔۔‘‘

’’ اس بچے کو تم لوگوں نے کسی وقت کسی درخت کے نیچے ڈالا ہو گا ۔۔اُس وقت اوپر سے ایک جن زادی گزر رہی تھی ،۔ اُس کی نگاہ پڑی ہے اس بچے پہ ۔۔اس کی گود میں اُس کی بیٹی تھی ،اسی کی ہم عمر ۔۔ ۔ میرا علم کہتا ہے کہ وہ بچی بڑی ہو کر تمھارے بیٹے کے لیے پریشانی کا باعث بنے گی ۔۔۔ تم نے دیکھا ہو گا کہ ہم میں سے اکثر ،جب سو کر اُٹھتے ہیں ،تو ہمارے ہاتھ ،کے کسی حصے پہ تھوڑی سی مہندی لگی ہوتی ہے ۔۔‘‘

پیر صاحب نے اپنی بات کی تصدیق کے لیے دوست محمد کی جانب دیکھا تو اُس نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔

’’ وہ اس وجہ سے ،کیونکہ ،ہم انسانوں کے ہم نام کسی جن کی شادی ہوتی ہے ،جب جنات اُس کو مہندی لگاتے ہیں ،تو اُس انسان کو بھی لگا دیتے ہیں ۔۔۔ لہذا ،جنات کے اصول کے مطابق ،تمھارا بیٹا ،جن زادی کی بیٹی کے نام ہو چکا ۔۔اب دعا کرو کہ وہ جن زادی مسلمان ہو ۔۔‘‘ پیر صاحب نے دوست محمد کی جانب دیکھا ۔۔۔

’’ تو کیا ،جب میرا یہ بیٹا بڑا ہو گا سرکار توجن زادی اسے اُڑا کر لے جائے گی ۔۔؟ ‘‘ بھولپن کی انتہا تھی ۔۔۔

’’ نہیں ۔۔۔ کہا نا ۔۔ دعا کرو کہ وہ مسلمان ہو ،تا کہ اُسے کلام اللہ کے زور پہ تمھارے بیٹے سے دور کیا جا سکے ۔۔ مگر وہ کا فی پریشان کرے گی تم سب کو ۔۔۔ ‘‘ پیر صاحب نے مسکرتے ہوئے دوست محمد کو جہاں حقیقت سے آگا ہ کیا ،وہی پہ اُسے تسلی بھی دی ۔۔

’’ ہمیں کیسے پتہ چلے گا سرکارکہ جن زادی کی وہ بچی اب جوان ہو گئی ہے ۔۔،اور اُس کے آنے کی کیا نشانی ہو گئی ۔۔‘‘

’’ جب وہ جوان ہو جائے گئی تو ،تمھارے بیٹے کی آنکھ میں ایک جماندرو سامنے آئے گا ۔۔‘‘

’’ جماندرو۔۔؟ ‘‘دوست محمد نے پیر صاحب کی طرف دیکھا ۔۔

’’ ہاں جماندرو۔۔ اور وہ جماندرو یہ ہو گا کہ جب نیا چاند نکلے گا ،تو تیرے اس بیٹے کی دائیں آنکھ میں بھی چاند کی شبیہ نظر آئے گی ۔۔‘‘

’’اور ہمیں کیسے پتہ چلے گا سرکار کہ اب میرے بیٹے پہ اُس کا سایہ آیا ہوا ہے ۔۔؟ ‘‘ دوست محمد ایک ہی وار میں سب جان لینا چاہتا تھا۔۔

’’ وہ جب آئے گئی ،تو تم سب خود ہی سمجھ جاؤ گئے ۔۔وہ اپنا آپ دیکھا دے گئی تمھیں ۔‘‘،’’ اب تم جاؤ ۔۔۔ اللہ پاک سب خیر کرے گا ۔۔‘‘

’’ اللہ پاک رحم کرے گا ۔۔۔آپ کا سایہ ہے ناہمارے سر پر ۔۔ ۔۔‘‘ دوست محمد نے اُٹھنا چاہا ۔۔

’’ اللہ پاک ہم سب کا نگہبان ہے ۔۔ وہ ہر چیز پہ قادر ہے ۔۔ سب مخلوقات اُس کے تابع ہیں ۔۔ وہی کرم کرے گا ۔۔ تم جاؤ ۔۔‘‘ پیر صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے دوست محمد کو جانے کی اجازت دے دی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’ نئے چاند کی دو تاریخ مناسب رہے گی ۔۔‘‘ دوست محمد نے اپنے ماموں زاد بھائی سے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کرتے ہوئے کہا تو سب نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا دیئے ۔۔ گاؤں میں بسنے والے یہ لوگ ،سادہ قناعت پسند ،مگر زندگی کی حقیقی خوشیوں سے لطف اندوز ہونے والے تھے ۔۔ اسی لیے اپنے پرائے کی تفریق سے پرے ،محلے بھر کے لوگوں کو اکٹھا کیا گیا ۔۔ ڈھولک پہ تھاپ پڑنے لگی ۔۔ دن ڈھلے سر دھلائی کی رسم کی گئی ۔۔۔ دوست محمد کی تو خوشیوں کا ٹھکانہ نا تھا ،کہ ایک ہی تو اُس کا بیٹا تھا ، تین بہنوں کا واحد بھائی ۔۔۔ اور آنے والی بھی کوئی غیر نہیں تھی ،کہ جو غریب نواز کو ماں باپ کی خدمت سے دور کر دیتی ۔۔۔ سو سب بے حد خوش تھے ۔۔۔

’’ او جیوندا رہ پُتر ۔۔اللہ حیاتی کرے ۔۔ ‘‘ سر دھلائی کی رسم کے بعد غریب نواز جب اپنے باپ کے قدموں میں گرا تو دوست محمد نے اُسے کندھے سے اُٹھا لیا ۔۔ باپ بیٹا کی نظریں ملیں ،تو دوست محمد کے چہرے کا رنگ ایک بار تو اُڑ گیا ۔۔

’’ کیا ہوا بابا ۔۔ ؟ آپ ٹھیک تو ہیں ۔۔؟ ‘‘ غریب نواز نے باپ کی بدلتی رنگت کو دیکھتے ہوئے پریشان ہو کر پوچھا ۔۔

’’ ہاں ہاں پُتر ۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔ تم ٹھیک ہو ۔۔؟ ‘‘ اب وہ اپنے بیٹے کو کیسے بتاتا کہ اُس کی آنکھوں میں دوسرے دن کے چاند کی لکیر وہ دیکھ چکا ہے ۔۔’’ اللہ پاک خیر کرنا ۔۔ ‘‘ دل سے دعا نکلی ۔۔اور دوست محمد اپنے بیٹے کو سب گاؤں والے مردوں کے ساتھ لے کر گھر کو لوٹا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’میرا بیٹا کوئی ان پڑھ تھوڑی ہی ہے ،جو انگھوٹھا لگائے ۔۔ یہ دستخط کرے گا ۔۔‘‘ دوست محمد نے بڑے چاؤ سے اپنی جیب سے قلم نکال کر اپنے بیٹے کے سامنے کیا ۔۔۔ تا کہ وہ نکاح نامے پہ دستخط کر سکے ۔۔۔ مگر یہ کیا ۔۔ دوست محمد کے ہاتھ سے قلم ہوا میں گیا اور دو ٹکڑے ہو گیا

’’ نہیں کرے گا یہ دستخط ۔۔۔ ‘‘ غریب نواز کے ،منہ سے ایک عجیب باریک سی آواز نکلی ،اور ساتھ ہی غیریب نواز نے نکاح نامہ پھاڑ دیا ۔۔

سب لوگ حیرت سے اُسے تکنے لگے ،جب کہ مولانا صاحب کے چہرے کی رنگت زرد ہو گئی ،کیونکہ وہ غیرب نواز کے انتہائی قریب بیٹھا تھا ،اور اُ سکی آنکھوں کی بدلی ہوئی رنگت کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

’’ یہ ،یہ ۔۔۔ یہ کیا کیا تُو نے بیٹا ۔۔ ‘‘ دوست محمد ہڑبڑا گیا ۔۔۔ اور ساتھ ہی ساتھ اُس کے دل نے’’ انہونی‘‘ کے ’’ ہونے‘‘،کا بھی اعلان کر دیا ۔۔

’’یہ کیا ہے چاچا ۔۔؟۔۔ آپ کا بیٹا اگر اس شادی پہ راضی نا تھا تو آپ کو یہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔‘‘ دولہن کے ایک بھائی نے دوست محمد سے بڑے تلخ لہجے میں بات کی ۔۔۔ جب کہ دوست محمد اُس کے سامنے کھڑا آنے والے وقت کی پریشانیوں کے لیے خود کو تیا ر کر رہا تھا ۔۔۔

’’ پُتر ۔۔میری بات سُنو ۔۔ایسا نہیں ہے جیسا تم سوچ رہے ہو ۔۔۔‘‘ دوست محمد نے بات کو سنبھالنا چاہا ۔۔

’’ کیسا نہیں ہتے چاچا ۔۔ ‘‘ اُس نے دوست محمد کو ایک طرف کیا ،اور دولہے کی جانب لپکا ۔۔۔’’ اوئے ۔۔ تو کیا سمجھتا ہے ۔۔‘‘ اُس نے دولہے کا کالر پکڑا ہی تھا ،کہ ایک زور دار تھپڑ اُس کے منہ پہ پڑا اور وہ نیچے گر گیا ۔۔ لوگ ادھر اُدھر ہونے لگے ۔۔ غریب نواز پہ جیسے کوئی جنون سوار ہو گیا ،وہ چارپائیاں اُٹھا اُٹھا کے پھینکنے لگا ،لوگوں نے دیکھا کہ کبھی اُس کا چہرہ مرد کا ہوتا تو کبھی عورت نما کسی مخلوق کا ۔۔۔ بڑی مشکل سے غریب نواز کو قابو کیا گیا ،کہ اچانک اُس کی والدہ آگئیں وہاں ۔۔۔ اُسے گھر لایا گیا ۔۔۔ شادی ملتوی ہو گئی ۔۔ خوشیاں بکھر گئیں ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’ جھوٹ بولتا ہے وہ ۔۔ بکواس ہے یہ سب ۔۔ ڈرامے ہیں ۔۔میں دیکھ لوں گا اُسے ۔۔۔ ‘‘ اکرم غصے میں بولا ۔۔

’’ او ،نہی پُتر ۔۔ ایسا نہیں ہے ۔۔ تُو نے دیکھا نی تھا ،کیسے اُس کے چہرے پہ ایک عورت کا چہرہ آ رہا تھا ۔۔ ‘‘ دلہن کے باپ نے اپنے بیٹے کا غصہ کم کرنے کی کوشش کی ۔۔ دکھ اُسے بھی تھااپنی بیٹی کی بارات وا پس جانے کا ،مگر سب حالات سامنے تھے ۔۔

’’ پھر بھی ابا ۔۔ میں نکالوں گا اُ س کے جن ۔۔۔ دیکھنا تُو بس۔۔‘‘ اکرم کہتا ہوا باہر نکل گیا ۔۔اور دین محمد سر پکڑ کے بیٹھ گیا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’ پیر جی ۔۔میرے بیٹے کو ٹھیک کر دیں ۔۔ اس پہ کسی جن کا آثر ہو گیا ہے ۔۔۔ ‘‘ دوست محمد نے پیر کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے ۔۔

’’ ہمم ۔۔ تُو فکر نہ کر ۔۔ایسے بڑے بڑے جن تو پیر صاحب نے منٹوں میں نکالے ہیں ،‘‘ پیر کی بجائے اُس کے ساتھ کھڑے ہوئے چیلے نے کہا ۔۔۔ ’’ تُو بس کھانے کا بندو بست کر ۔۔‘‘

دوست محمد کو کسی نے اس پیر کے کامل ہونے کا کہا تو وہ اسے منت سماجت سے گھر لے آیا کہ اُس کا بیٹا کسی طور کسی پیر کے پاس جانے کو تیا ر نہ تھا ۔۔ وہ پیر آ تو گیا ۔۔ مگر اُسے جانے کو راستہ نہ مل سکا ۔۔۔ غریب نواز نے اُس نقلی پیر کی اتنی دھنائی کی کہ وہ جوتے ہاتھ میں لیے بھاگا ۔۔

’’ مت بُلا ایسے پیروں کو ۔۔۔ میں ان سے زیادہ علم رکھتی ہوں ۔۔۔ ‘‘ پیر کے جانے کے بعد نواز کی آواز بدلی ۔۔

’’ کیسے نہ بُلاؤں ۔۔۔ تو کون ہے اور کیوں میرے بیٹے کے پیچھے پڑ گئی ہے ۔۔ ‘‘ اب کی بار نواز کی ولدہ بولیں ۔۔

’’ ہاہاہا ۔۔ میں کہاں پڑھی ہوں اس کے پیچھے ۔۔۔ یہ تو لکھ دیا گیا ہے میرے مقدر میں ۔۔۔‘‘ نواز نے یہ کہتے ہوئے جب اپنی ماں کی جانب دیکھا تو پورا کا پورا ایک مجسم عورت کے روپ میں آ گیا ۔۔۔ سب نے دیکھا کہ وہ بے حد خوبصورت ہے ،اُس کی انکھیں سُرخ اور بال اتنے سنہری کہ جیسے سونے کی تاریں ۔۔۔ اور گھٹنوں تک کو چھوتے ہوئے ۔۔۔

’’اگر اتنا ہی چاہتی ہے تو سیدھی طرح آ ۔۔ عورت بن کے اور میں تجھے بیاہ دوں اس سے ۔۔‘‘ ماں نے بات بنائی ۔۔

’’ یہ آدم زاد ہے ،میرا اس کا بیاہ نہیں ہو سکتا ،مگر اس کا ہو بھی نہیں سکتا ۔۔ میرے ساتھ ،نہ کسی اور کے ساتھ ۔۔ بس یہی لکھا ہے ۔۔‘‘

اور سب نے دیکھا کہ نواز نے اپنا سر بائیں سے دائیں یوں کیا کہ بال ہوا میں لہرائے اور وہ ایک شبیہ کو نواز کے جسم سے نکلتے پھر ہوا میں تحلیل ہوتے دیکھتے رہے ۔۔ اُس کے بعد غریب نواز کی حالت ایسے تھی گویا میلوں پیدل سفر طے کر کے آیا ہو ۔۔ اُسے ایک چارپائی پہ لیٹا دیا گیا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’دھیان سے ۔۔ اُسے پتہ نہ چلنے پائے ۔۔ بس سبق سیکھانا ہے اُسے ۔۔‘‘ اکرم نے اپنے دوستوں کو ہدایات دیں ۔۔ وہ سب گلی کے نکڑ پہ کھڑے غریب نواز کا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔۔کہ کام سے واپسی پہ اُس نے یہی سے گزرنا ہوتا تھا ۔۔۔

’’وہ رہا۔۔ ‘‘ اُن میں سے ایک نے سب کو ہوشیار کیا ،اور سب تیار ہو گئے ۔۔۔ مگر یہ کیا ۔۔ غریب نوازنے آتے ساتھ ہی اُن کی پٹائی شروع کر دی ۔۔اُن کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا ۔۔ اُن سب کی اچھی طرع دھنائی کرنے کے بعد وہ وہاں سے جانے لگا ۔۔۔وہ سب ایک دوسرے کی طرف دیکھے گئے ،کوئی بولنے کی بھی سکت نہ رکھتا تھا ۔۔جیسے اُن سب کو کسی نے پتھر کا بنا دیا ہو ۔۔ چند قدم چلنے کے بعد غریب نواز رُکا ۔۔مُڑا ،اور اُن کے پاس آیا ۔۔۔

’’ آئندہ اگر اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی تو ،سچ مچ پتھر کے بن جاؤ گئے ۔۔‘‘ چہرہ نواز کا تھا ،مگر آواز کسی عورت کی تھی ۔۔۔ اُن سب نے دیکھا کہ نواز کی آنکھیں سُرخ انگارہ بنی ہوئی ہیں ۔۔۔ ’’ اب میں ہوتی ہوں اس کے ساتھ ۔۔۔ ہر وقت ۔۔‘‘ آخری جملہ اُس نے اکرم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کہا تو وہ سب وہاں سے چلتے بنے ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’یہ کیا کر کے آئے ہو ۔۔؟ کیوں مارا ہے اُن سب کو ۔۔وہ بھی اتنا زیادہ ۔۔ ‘‘ دوست محمد کا بھائی کھڑا غریب نواز سے استسفار کر رہا تھا ۔۔

’’ کیوں مارا ہے پُتر ۔۔ ؟ ایک تو ہم پہلے ہی اُن سے شر مندہ ہیں کہ بارات واپس آگئی اُن کے دروازے سے ۔۔ اب اکرم کو مار کر تو نے ااور شرمندہ کر دیا ،اپنے باپ کو ۔۔‘‘ دوست محمد نے زرا نرم لہجے میں بات کی تو اُس کا بھائی جیسے پھٹ پڑا ۔۔

’’ ارے چھوڑو یا ر دوست محمد ،یہ سب ڈرامہ ہے ۔۔ اوئے میں نے بڑے دیکھے ہیں ایسے ۔۔ یہ کوئی بات ہے بھلا ۔۔ ہم کیا منہ دیکھائیں گے برادری والوں کو ۔۔ایک تو بارات لے آئے واپس اور اوپر سے ۔۔۔کوئی جن ون نہیں ہیں اسے ۔۔‘‘ وہ بہت غصے میں تھا ۔۔

’’ پانی ۔۔۔ ‘‘ غریب نواز کی آواز تھوڑی سی بدلی ۔۔۔

’’ لے میرا پُتر پانی پی ۔۔۔ ‘‘ ماں نے پانی کا بھرا گلاس نواز کو پکڑایا ،نواز نے گلا س ہاتھ میں لیا اور اُس کو اپنی آنکھوں کے سامنے لایا تو دیکھتے ہی دیکھتے پانی کا رنگ بدلنا شروع ہو گیا ۔۔ پانی کی جگہ خون نے لے لی ۔۔۔ اور جب پانی خون بن گیا تب نواز نے گلاس کو منہ لگا یا اور غٹا غٹ پی گیا ۔۔۔ سب اپنی جگہ کانپ کے رہ گئے ۔۔۔ نواز کے چچا کو بھی چُپ لگ گئی ۔۔۔۔۔

’’ تم یہی رُکو ،میں قصاب سے گوشت لے آؤں ۔۔۔ جمعرات ہے ۔۔ تیری ماں نے فاتحہ بھی دلوانی ہو گی۔۔‘‘ دوست محمد نے نواز سے کہا

مگر تھوڑیہی دیر بعد پریشان سا واپس آ گیا ۔۔

’’ کیا ہوا بابا ۔۔۔ ؟ گوشت نہیں لائے ۔۔؟‘‘ اُس نے باپ کو خالی ہاتھ دیکھ کر کہا ۔۔

’’ کیا لاتا ۔۔۔ جیب میں ہاتھ ڈالا تو پیسے غائب ۔۔۔۔ ‘‘ باپ نے صورت حال بتائی ۔۔نواز نے بازار میں موجود لوگوں کو غور سے دیکھا اور ایک بندے پہ جا کے اُس کی نظر ٹک گئی ۔۔ پھر کیا تھا ،وہ شخص یوں پیچھے کواُلٹے قدموں لوٹا جیسے کوئی ریمورٹ ہو ۔۔وپسی پہ اُس کے راستے میں آنے والی ہر شئے گرتی چلی گئی ۔۔۔ وہ دوست محمد کے پاس آ کے رُک گیا ۔۔۔ اُس کے چہرے کی رنگت اُڑی ہوئی تھی ۔۔

’’ اب خود نکالے گا پیسے ۔۔۔یا ۔۔۔ ‘‘ نواز کی غراہٹ سے مشابہہ آواز سُن کے وہ اور بھی گھبرا گیا ،فورا پیسے نکال دوست محمد کے ہاتھ پہ رکھے ۔۔ یہ منظر سب لوگوں نے دیکھا تو وہ سب نواز کو کوئی جادوگر سمجھنے لگے ۔۔۔ بڑی مشکل سے دوست محمد اپنے بیٹے کو وہاں سے نکال کے لے آیا ۔۔ مگر وہ بے حد پریشان تھا کہ یہ صورت حال کافی پریشان کن تھی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’ چاچا ۔۔۔ وہ ۔۔۔ نواز بھائی کنویں میں گر جائے گا ۔۔‘‘ دوست محمد ابھی نماز عصر سے فارغ ہی ہوا تھا کہ ایک بچے نے آکر بتایا ۔۔اور دوست محمد کے ساتھ کچھ اور نمازی بھی بھاگے چلے گئے ،دیکھا تو غریب نواز نے کنویں کی منڈیر پہ اپنے ہاتھ ٹکا رکھے تھے اور باقی کا جسم اُس کا کنویں کے اندر تھا ۔۔۔ذرا سی جنبش سے وہ نیچے پانی میں گر سکتا تھا ۔۔۔

’’ نواز ۔۔ او پُتر ۔۔ ‘‘ باپ نے صرف ایک آواز دی اور غریب نواز پلک چھپکتے میں کنویں سے باہر تھا ۔۔ یہ منظر سب کے لیے حیران کن تھا ۔

’’یہ کیا کر رہا تھا ۔۔؟ گر جاتا تو۔۔؟ ‘‘ دوست محمد کی پریشان کن آواز آئی ۔۔

’’ یہ کیسے گر سکتا ہے ۔۔۔ میں جو ہو ں اس کے ساتھ ۔۔‘‘ وہی زنانہ سی آواز سے مشابہہ عجیب سی غراہٹ لیے آواز آئی ۔۔۔

’’ تجھے خدا کا واسطہ تو میرے بیٹے کا پیچھا چھوڑ دے ۔۔‘‘ دوست محمد نے ہاتھ جوڑ دئیے ۔۔ساجد ،عادل ،اسے گھر لے جاؤ ۔۔ حاجی صاحب نے اپنے ساتھ آنے والے دو نوجوان نمازیوں سے کہا ،تو وہ غریب نواز کو گھر کی جانب لے جانے لگے ،مگر وہ اُن سب سے بازو چھڑا کر خود ہی جانے لگا ۔۔۔دوست محمد وہی سر پکڑ کے بیٹھ گیا ۔۔

’’دوست محمد ،اس بچے کا کچھ کر ۔۔۔ یہ عام پیروں فقیروں کا کام نہیں ہے ۔۔۔ اس کے لیے کوئی پیر کامل پکڑ ۔۔ اس کے علاوہ گھر میں سورۃ بقرہ کا بھی ختم دلوا۔۔۔ ‘‘ حاجی صاحب نے دوست محمد کو مشورہ دیا ۔۔

’’حاجی صاحب اپنی طرف سے تو بہت کوشش کی ہے ۔۔جو بھی پیر آتا ہے ،یہ اُس کو مار بھاگاتا ہے ۔۔ وہ ایک آیت پڑھتے ہیں تو یہ دو پڑھ چکا ہوتا ہے ۔۔ اس کی ماں کی حالت تو اس سے بتر ہو گئی ہے ۔۔۔ اس کی شادی کے خواب دیکھ رہی تھی ۔۔ سب اُلٹ ہو گیا ۔۔

’’ اصل میں جو بھی شئے تمھارے بیٹے کے ساتھ ہے نا۔۔ وہ ان پیروں سے کہیں زیادہ علم رکھتی ہے ۔۔ تبھی کہا کہ اس کے لیے کوئی پیر کامل پکڑ ۔۔۔ ‘‘ حاجی صاحب نے اپنی بات دہرائی ۔۔

’ایک ہے ولی اللہ ۔۔۔ لے جا سکے گا ؟‘‘اپنے بیٹے کووہاں حاجی صاحب نے دوست محمد سے پوچھا ۔۔۔

’’ کوشش کروں گا حاجی صاحب ،آپ بتائیں تو ۔۔۔‘‘

’’اوچ بلوڈ ایک مقام ہے ،وہاں کے گدی نشین ہیں ۔۔ پیر زاوار حسین شاہ ۔۔ ایک ولی کامل ۔۔۔ میری اپنی سالی کا کچھ ایسا ہی مسئلہ تھا ۔ بیٹی کا معاملہ تھا ،ہر ایک نام نہاد پیر کے پاس نہیں لے جا سکتے تھے ۔۔۔ وہ بچی بھی اں کی دست شفقت سے ہی شفا یاب ہوئی ہے ۔۔

’’ جزاک اللہ ،حا جی صاحب ۔۔ میں کل ہی اُسے لے جانے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔۔ جوان بیٹا ہے ۔۔ کوئی نقصان نہ پہنچے اسے ‘‘ ۔۔

’’ ضرور ۔۔ اللہ پاک اسے شفا ء عطا کرے ۔۔۔ ‘‘ آمین ۔۔ ۔۔اور حاجی صاحب نے جانے کے لیے قدم بڑھادئیے ۔۔اور دوست محمد بھی گھر کی جانب چل دیا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’ چادر لو سر پہ ۔پیر صاحب آرہے ہیں ۔۔۔‘‘ دوست محمد نے چند قدم ہلے گھر میں داخل ہو کر گھر کی خواتین کو آگاہ کیا ۔۔ کہ لاکھ کوشش کے باوجود بھی غریب نواز کہیں جانے کو تیا ر نہ ہوا ۔۔ بلکہ اس کی طبیعت پہلے سے بھی زیادہ بگڑ گئی ،تب مجبور ہو کر غریب نواز کے بہنوئی کو پیر صاحب کے ڈھیرے پہ بھیجا گیا تا کہ وہ اُن کو کسی طور راضی کر کے گھر لے آئے ،کہ یہ باعث برکت بھی ہو گا اور غریب نواز بھی ٹھیک ہو جائے گا ۔۔

’’ اچھا اچھا ۔۔ ‘‘ غریب نواز کی والدہ نے کہا اور ساتھ ہی اپنا سر ڈھانپ لیا ۔۔۔ بیٹیوں نے بھی ماں کی تقلید کی ۔۔اتنے میں ایک دراز قامت ،بھاری بھرکم جسامت والی نورانی چی شخصیت گھر کی ڈھیوڑی میں داخل ہوئی ۔۔ پیرصاحب مسلسل کچھ پڑھنے میں مشغول تھے ۔۔

وہ چند قدم چلتے اور پھر ر‘ک کر ارد گرد پھونک مارتے ،حتی کہ درو دیوار پر بھی وہ پھونک رہے تھے ۔۔ کرتے کرتے وہ دوست محمد کی رہنمائی میں ایک کمرے میں آ کے بیٹھ گئے ۔۔ اور سب سے سلام دعا کی ۔۔ اب وہ پرسکون حالت میں جوتے اُتار کے بیٹھ گئے ۔۔

’’ پیر صاحب ۔۔ نا جانے آج صبح سے ہی غریب نواز گھر سے غائب ہے ۔۔ جب سے آپ کے آنے کی ہمیں اطلاع ہوئی ہے ۔۔ میں تو اُسے ڈھونڈ ڈھونڈ کے تھک گیا ہو ں ۔۔ ‘‘ دوست محمد نے اپنی تشویش کا اظہا ر کیا۔۔

’’ کوئی بات نہیں ،دوست محمد ۔۔ وہ خود چل کے آئے گا ۔۔ تم دیکھنا ۔۔ اللہ پاک کی کلام میں بڑی طاقت ہے ۔۔ وہ لاکھ علوم پہ دسترس رکھے مگر کلام الہی سے زیادہ طاقت ور اور پُر اثر کلام کا علم نہیں ہے اُس کے پاس۔۔‘‘ زاوار حسین شاہ صاحب نے کہا ،تو دوست محمد کی کچھ سمجھ میں نہ آیا ،کہ اُس کا بیٹا تو صرف مڈل تک تعلیم حاصل کر پایا تھا ۔۔ پھر وہ کیسے اتنے علوم پہ دسترس رکھ سکتا ہے ۔۔۔

’’ میں ،اُس جن زادی کی بات کر رہا ہوں ،جو تیرے بیٹے کی ہم عمر ہے ۔۔۔ اور اس وقت اُس پہ قابض ہے ۔۔ ‘‘ پیر صاحب نے جیسے دوست محمد کا ذہن پڑھ لیا ہو ۔۔۔

’’ جی جی ۔۔ آپ صحیح فرما رہے ہیں ۔۔‘‘

’’ ہمم ۔۔۔ جاؤ دیکھو۔۔ وہ آگیا ہے ۔ڈھیوڑی میں ۔۔۔ ‘‘ پیرصاحب نے دوست محمد سے کہا تو سچ مچ غریب نواز گھر کے دروازے میں کھڑا تھا ۔۔ مگر اندر آنے سے ہچکچا رہا تھا ۔۔ جبکہ اندر پیر صاحب نے اپنے جوتے پہننے شروع کر دئیے ۔۔ یہ دیکھ کر غریب نواز کی ماں رونے لگی کہ میرے بیٹے کو یہ پیر مارے گا ۔۔کیوں کہ اس سے پہلے ایک دو پیروں نے یہ ہی کیا تھا کہ اسی طرح جن نکالے جاتے ہیں ۔۔

اور پھر خود اپنی جان بچانا مشکل ہو گیا تھا اُن کے لیے ۔۔۔ مگر سب نے دیکھا کہ غریب نواز دھیرے دھیرے چلتا ہوا کمرے کے دروازے میں آٹھہرا ۔۔۔ اُس کی آنکھیں سُرخ انگارہ بنی ہوئی تھیں ۔۔۔ اور اُس کا چہرہ عجیب سی چمک لیے ہوئے تھا ۔۔۔

’’آجاؤ ۔۔اندر ۔۔‘‘ پیرصاحب پوری طرح تیار ہو کر بیٹھ گئے ۔۔ کہ آنے والی حملہ بھی کر سکتی تھی ۔۔ہاں پیر صاحب نے اب با آواز بلند پڑھنا شروع کر دیا تھا ۔۔ اچانک غریب نواز کا ظاہر بدلنے لگا ۔۔اور دیکھتے ہی دیکھتے غریب نواز کی جگہ ایک جن زادی نے لے لی ۔۔ جس کی حد درجہ بڑی آنکھیں ،،گھٹنوں سے نیچے جاتے سہنری بال ،جیسے سونے کی تاریں ہوں ۔۔

’’میرانام نیلم ہے اور میں اسے نہیں چھوڑوں گی ۔۔‘‘ غراہٹ سے ملتی جلتی آواز آئی ۔۔

’’ تمیں اسے چھوڑنا ہی ہو گا ۔۔۔یہ آدم زاد ہے ۔۔اس کا اور تیرا کوئی جوڑ نہیں ۔۔‘‘ پیر صاحب نے جن زادی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔

’’ ہمارے قانون کے مطابق ،یہ میرا ہے ۔۔ کیوں کہ اسی اور میری پیدائش ایک ہی وقت ہوئی ہے ۔۔‘‘ غراہٹ تیز ہو گئی ۔۔

’’ تمہارا قانون اللہ کے قانون سے بڑھ کر نہیں ۔۔ یہ اللہ پاک کا حکم ہے کہ جنات و بشر باہم ایک نہیں ہو سکتے ۔۔سو اسے چھوڑ کر اپنی دنیا میں چلی جاؤ ۔۔۔ورنہ بھسم ہونے کو تیار ہو جاؤ۔۔۔‘‘ اب کی بار پیر صاحب کی آواز اس قدر رعب دار تھی ۔۔ کہ باقی سب کے بھی رونگھٹے کھڑے ہو گئے ۔۔۔ پیر صاحب نے ایک بار پھر کلام اللہ کا ب�آواز بلند تلاوت شروع کی تو وہ چیخنے لگی ۔۔۔۔

’’ میں مطیع ہو گئی ۔۔ بے شک اللہ کا حکم ہی افضل ہے ۔۔ میں مسلمان ہوں ۔۔ میں نے مانا ،کہ ہم ایک نہیں ہو سکتے ۔۔ میں چلی جاؤں گی مگر ایک شرط پہ ۔۔‘‘ جب اُس نے کہا تو سب نے اُس کی جانب دیکھا ۔۔۔ کہ کون سی شرط ہو گی۔۔

’’ بولو ۔۔ اگر قابل قبول ہوئی تو ضرور مانی جائے گی ۔۔‘‘ پیر صاحب نے سب کی ترجمانی کی ۔۔۔

’’ جب بھی نیا چاند نکلے گا ،تب میں آؤں گئی ۔۔ نئے چاند کی پہلی تین تاریخوں میں ۔۔ ‘‘ نیلم نے اپنی شرط رکھی ۔۔

’’ ٹھیک ۔۔۔ مگر تم کسی کو بھی تنگ نہیں کرو گی ۔۔۔ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرو گی ۔۔ ‘‘ پیر صاحب نے حکمیہ کہا ۔۔

’’ منظور ہے ۔۔ ‘‘ نیلم جن زادی نے کہا اور غریب نواز کو کلام اللہ نے صحت عطا کی ۔۔ ۔وہ اپنے دیس چلی گئی ۔۔ آج اُس کی شادی کو عرصہ بیت چکا ۔۔اولاد جوان ہو چکی ،وہ بڑھاپے کی دہلیز پہ کھڑا ہے ۔۔۔ ہاں مگر آج بھی ہر چاند کی پہلی تاریخوں میں نواز کی انکھوں میں چاند کی شبیہ بنتی ہے ،تو اُس کے چہرے کا رنگ ہی اور ہوتا ہے ۔۔۔مگر اب سب اس کے عادی ہو چکے ہیں ۔۔۔*

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت