قبضے روکنے والے سیل کے انچارج کی ملیر ندی میں غیرقانونی تعمیرات

قبضے روکنے والے سیل کے انچارج کی ملیر ندی میں غیرقانونی تعمیرات

  

کراچی (ویب ڈیسک) کراچی میں زمینوں پر قبضے روکنے والے کے ڈی اے کے انفورسمنٹ سیل کے انچارج نے ملیر ندی کے اندر غیرقانونی تعمیرات شروع کردی ہیں۔ ڈی ایم سی کورنگی کے چیئرمین نے وزارت بلدیات، میئر و کمشنرکراچی، کراچی پولیس چیف، ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایس پیز کو خط لکھ کر کرروائی کے لئے مدد طلب کرلی ہے جبکہ کے ڈی اے کے افسر جمیل بلوچ کا کہنا ہے کہ انہیں لینڈ مافیا کی دھمکیوں کا سامنا ہے جن سے بچاﺅ کیلئے وہ دیوار تعمیر کرا رہے ہیں۔

اب کوئی بھی آپ کو نامعلوم نمبر سے فون کر کے تنگ نہیں کر سکتا کیونکہ۔۔۔

تفصیلات کے مطابق شاہ فیصل کالونی میں ریتا پلاٹ کے قریب ملیر ندی میں بند کے ساتھ پختہ تعمیرات کا سلسلے گزشتہ ہفتے شروع کیا گیا تھا۔ جس کی اطلاع علاقہ مکینوں نے کے ڈی اے، ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ریوینیو ڈپارٹمنٹ، بند ڈویژن، اینٹی کرپشن پولیس، متعلقہ پولیس اور کے ایم سی کے افسران کو دی، مگر کسی ادارے نے اس غیرقانونی عمل کو روکنے کے لئے کوئی کارروائی نہیں کی۔ یہاں بدھ کو بھی کام زور و شور سے جاری تھا۔ ملیر ندی کے اندر کے ڈی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سٹیٹ اور انفورسمنٹ جمیل بلوچ کا محل نما گھر بھی تعمیرات سے متصل ہے۔ جمیل بلوچ پورے کراچی میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کے حوالے سے کافی سرگرم ہیں۔ ان کے گھر کے ساتھ ملیر ندی کے اندر تعمیرات کیسے ہورہی ہیں یہ جاننے کیلئے جمیل بلوچ کا انٹرویو کیا گیا تو حیرت انگیز طور انہوں نے ازخود یہ تعمیرات کرانے کا اعتراف کیا۔ ویڈیو ریکارڈنگ میں انہوں نے پہلے اعتراف کیا کہ وہ کراچی میں 600 ایکڑ اراضی کے مالک ہیں، پھر کہا کہ کراچی میں ان کی 200 ایکڑ اراضی ہے۔

TapMad نے ہمہ وقت سرگرم رہنے والوں کے لئے انٹرٹینمنٹ کی نئی دنیا متعارف کروادی

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ ملیر ندی میں ان کی 60 سے 70 ایکڑ اراضی ہے جو زرعی استعمال کیلئے پہلے ان کے والد نے ایک ایک سال کے لئے لی تھی، پھر 10 سال کیلئے حاصل کی گئی اور حالیہ دنوں میں 30 سال کی لیز پر ان کے خاندان کے پاس ہے جو زرعی استعمال میں ہے۔ ملیر ندی کے اندر کسی بھی صورت کسی بھی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہیں ہے لیکن جمیل بلوچ نے کہا کہ وہ کراچی میں لینڈ مافیا کے خلاف لڑرہے ہیں۔ انہیں مافیاز کی جانب سے شدید دھمکیوں کا سامنا ہے۔

مزید :

کراچی -