جیسے کو تیسا۔حبیب احمد

جیسے کو تیسا۔حبیب احمد

ایک لڑکا چڑیا گھر میں ہاتھی دیکھ رہا تھا۔ اس نے ہاتھی کی طرف اپنے ہاتھ میں سیب لے کر بڑھایا۔ جب ہاتھی نے سیب لینے کی کوشش کی تو لڑکے نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تاکہ ہاتھی سیب نہ لے سکے لڑکا پھر لوٹا اور دوبارہ اپنا ہاتھ سیب کے ساتھ بڑھایا اور جیسے ہی ہاتھی نے سیب لینے کی کوشش کی لڑکے نے پھر اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔

اب ہاتھی غصہ میں آ گیا لیکن لڑکے کے بھولنے تک ہاتھی نے اس کے اس عمل پر صبر سے کام لیا اور اس کے بعد ہاتھی نے اپنی سونڈ بڑھا کر لڑکے کی ٹوپی اچک لی تو لڑکا چیخا اور رونے لگا تو ہاتھی نے اپنی سونڈ میں ٹوپی لے کر لڑکے کی طرف بڑھائی اور جب لڑکے نے ٹوپی لینے کا ارادہ کیا تو ہاتھی نے اپنی سونڈ کھینچ لی۔ ہاتھی نے لڑکے کے ساتھ ایسا ہی کیا جیسا کہ لڑکے نے ہاتھی کے ساتھ کیا تھا۔

اس کو دیکھ کر لوگ بہت ہنسے اور لڑکا اپنی ٹوپی ضائع ہونے پر روتا رہا۔ اور سمجھ گیا کہ جو برائی کرتا ہے برا ہی پاتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...