مردان‘ فارمیسی طلباء کو اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنا مہنگا پڑ گیا

مردان‘ فارمیسی طلباء کو اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنا مہنگا پڑ گیا

مردان ( بیورورپورٹ) فارمیسی طلباء کو اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنا مہنگا پڑ گیا ،یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے درجنوں طلباء پر جامعہ میں داخلے پر پاپندی لگادی طلباء نے یونیورسٹی انتظامیہ کے غیر انسانی سلوک کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور یونیورسٹی کے داخلی راستوں پر گھنٹوں دھرنادیا ،یونیورسٹی میں چھوتے روز بھی تدریسی عمل معطل رہا تفصیلات کے مطابق فارمیسی ڈیپارنمنٹ کے طلباء کا اپنے شعبے کو فارمیسی کونسل کے ساتھ رجسٹرڈ کرنے کے معاملے نے نیا رخ اختیار کرلیاہے اور اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والے طلباء پر یونیورسٹی انتظامیہ نے دروازے ہی بند کردیئے عبدالولی خان یونیورسٹی کی فارمیسی ڈیپارٹمنٹ قیام سے لے کر اب تک فارمیسی کونسل کے ساتھ بوجوہ رجسٹرڈ نہیں ہواہے جس کے خلاف چار دن قبل درجنوں طلباء نے احتجاج کیا او ریونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے وائس چانسلر کے دفتر میں زبردستی داخل ہوگئے یونیورسٹی حکام نے طلباء کے احتجاج کا برا مناتے ہوئے ریلی کی قیادت کرنے والے 14طلباء کے خلاف انہتائی اقدام اٹھاتے ہوئے ان کی جامعہ میں داخلے پر پاپندی عائد کردی اس شعبے کے فائنل ائیر کے طالب علم جنید نواز نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایاکہ یونیورسٹی حکام نے طلباء کو اپنے مسائل کے حل کے لئے پرامن احتجاج سے نہ صرف زبردستی روکے رکھاہے بلکہ طلباء کو یونیورسٹی میں داخلے پر پاپندی لگادی ہے انہوں نے کہاکہ گذشتہ پانچ دنوں سے ان کے شعبے میں تدریسی عمل معطل ہے اور ڈیپارٹمنٹ کو تالے پڑے ہیں انہوں نے کہاکہ گذشتہ روز وہ معمول کے مطابق اپنے دیگر ساتھیوں ثاقب الرحمان ،محمد الیاس ،کاشف کشمیری سمیت دیگر کو یونیورسٹی کے سیکورٹی اہلکاروں نے روکا اورانہیں یونیورسٹی میں داخل ہونے سے روکا طالب علم ثاقب الرحمان کے مطابق اہلکاروں نے انہیں وٹس اپ میں تحریری احکامات دکھائے تاہم احکامات دینے سے انکار کردیا انہوں نے مزید بتایاکہ یونیورسٹی حکام کی پھرتی کی یہ حالت ہے کہ دوایسے سابق طلباء کامران سمیع اور عبدالودود پر بھی جامعہ کے دروازے بند کردیئے گئے جو کئی ماہ قبل یونیورسٹی ہذا سے فارغ ہوچکے ہیں اور وہ جاب پر ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...