پلوامہ ، پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ ، مودی سرکار نے تحقیقات سے پہلے ہی ملبہ پاکستان پر ڈال دیا ، پسندیدہ ملک کا درجہ ختم، اسلام آباد سے ہائی کمشنر واپس بلا لیا ، پاکستان نے بھارتی الزام مسترد کر دیا ، ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے احتجاج

پلوامہ ، پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ ، مودی سرکار نے تحقیقات سے پہلے ہی ملبہ ...

نئی دہلی،اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں مبینہ فدائی حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے نئی دہلی میں پاکستانی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا اور پاکستان کے لئے پسندیدہ تجارتی ریاست ’’ ایم ایف این ‘‘ اسٹیٹس ختم کرنے کا اعلان کیا جبکہ پاکستان نے بھارتی الزامات مسترد کر دئیے ہیں ۔بھارت نے کزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں مبینہ فدائی حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کاالزام عائد کیا ہے اور اس ضمن میں نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو بھارتی وزارت خارجہ میں طلب کر کے احتجاج کیا ہے ۔بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا جس میں خود کش بمبار نے فوجی قافلے میں گھس کر اپنی گاڑی کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا ۔۔ایک سفارتی مراسلے میں اسلام آباد سے مطالبہ کیا کہ وہ حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے۔ ۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی سیکیورٹی فورسز پر خود کش حملے کے بعد وزیراعظم نریندرا مودی کی سربراہی میں سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر دفاع، وزیر داخلہ، وزیر خارجہ ، وزیر خزانہ سمیت اہم اعلی حکام نے شرکت کی۔وزیر اعظم نریندرا مودی نے ہمیشہ کی طرح اپنی انتظامی اور سیکیورٹی کوتاہیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا اور بغیر کسی ثبوت کے خود کش حملے کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے دیا۔ مودی نے الزام لگایا کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے پڑوسی ملک نے بڑی غلطی کی ہے جس کی انہیں کڑی سزا بھگتنی ہوگی۔عجلت میں دیئے گئے بھارتی وزیراعظم کے اس بیان کی بڑی وجہ حالیہ انتخابات بھی ہیں جس میں بی جے پی کو شکست دکھائی دے رہی ہے اور وہ ہندو ووٹرز کے جذبات کو اپنے مقصد کے حصول میں استعمال کرتے ہوئے اپنی جیت یقینی بنانے کے پرانے حربے آزما رہی ہے۔کابینہ اجلاس میں پاکستان کا موسٹ فیورڈ نیشن (پسندیدہ ریاست) کا اسٹیٹس بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ اسٹیٹس عالمی اداری برائے تجارت کے اصول و ضوابط کے تحت ایک ملک دوسرے ملک کو دیتا ہے۔ بھارت نے پاکستان کو یہ اسٹیٹس 1996 میں دیا تھا۔کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر ارون جیٹ لے نے میڈیا سے گفتگو میں مضحکہ دعوی کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کو عالمی دنیا سے تنہا کرنے کے لیے بھارت ہر ممکن ڈپلومیٹک اقدامات اٹھائے گا۔اس سے قبل بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے گیڈربھبکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں خون ریز حملہ پاکستان کی کارستانی ہے جس کا بدلہ لیا جائے گا ،پلوامہ میں سی آر پی ایف پر حملہ انتہائی دردناک اور پریشان کن ہے ۔دوسری جانب بھارت نے پاکستان میں متعین اپنے ہائی کمشنر اجے بساریہ کو بھی صورت حال پر مشاورت کے لیے فوری طور پر واپس بلا لیا ہے۔ دوسری طرفپاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ دھماکے کا الزام پاکستان پر لگانے پر پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا ہے۔جمعہ کودفتر خارجہ نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گورو آلووالیا کو طلب کر کے بھارت کی جانب سے پلوامہ حملے میں پاکستان پر الزامات پر شدید احتجاج کیا گیا ہے۔بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گورو آلووالیا دیے گئے احتجاجی مراسلہ میں پاکستان کی جانب سے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت نے واقعے کی تحقیقات بھی نہیں کی اور پاکستان پر الزام دھر دیا۔مراسلہ میں کہا گیا کہ جیش محمد کالعدم جماعت ہے جس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کالعدم جماعت کے مبینہ حملہ آور بھارت کے زیر تسلط علاقے میں موجود تھے۔دفتر خارجہ نے مراسلہ میں کہا کہ پاکستان مقبوضہ وادی میں حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بھارتی حکومت کی جانب سے دراندازی کے الزامات مسترد کرتا ہے۔ بھارتی حکومت اور میڈیا کی جانب سے حملے میں بغیر تحقیقات پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات مسترد کرتے ہیں۔

بھارت الزام

سرینگر ،جموں(مانیٹرنگ ڈیسک ) مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ کے لیتہ پورہ علاقے میں خود کش حملے میں ہلاک ہونے والے بھارتی فوجی اہلکاروں کی تعداد بڑھ کر 49 ہو گئی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ سری نگر کے ایک فوجی اسپتال میں زیرِ علاج نو مزید اہل کار زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔خود کش حملہ بھار تی فوج کی سی آر پی ایف کے ایک کانوائے پر کیا گیا تھا جس سے کانوائے میں شامل ایک بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی۔،خودکش حملے کی تحقیقات کے لیے بھارتی نیشنل سیکورٹی گارڈز ( این ایس جی) کے ماہرین اور قومی تحقیقاتی ادارے نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی(ین اے آئی) کے تفتیش کار بھی سرینگر پہنچ گئے ہیں۔خودکش حملے میں ہلاکتوں کے خلاف جمعے کو جموں اور خطے کے دوسرے ہندو اکثریتی شہروں اور علاقوں میں احتجاجی ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال کے لئے اپیل جموں کے تاجروں اور انتہا پسند ہندوؤں نے کی تھی ، ۔ہڑتال کے دوران جموں شہر کے مختلف مقامات پر ہونے والے مظاہروں میں پاکستان کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ ہڑتال کے دوران پرتشدد مظاہرین نے کئی نجی گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقے گجر نگر میں توڑ پھوڑ کی۔عینی شاہدین کے مطابق موٹر سائیکلوں پر سوار نوجوانوں نے، جن کے ہاتھوں میں بھارت کا قومی پرچم تھا، جموں کے پریم نگر علاقے میں نجی گاڑیوں اور مکانوں پر پتھرا وکیا۔ اس سے پہلے مظاہرین کے ایک گروپ نے گجر نگر سے گزرتے ہوئے سڑکوں پر پارک کاروں اور دوسری گاڑیوں کو بلا اشتعال آگ لگا دی۔ تشدد اور پتھرا کے ان واقعات میں تقریبا ایک درجن افراد زخمی ہوئے۔انتہا پسند ہندوں نے جموں کے علاقوں گجر نگر اور پریم نگر میں ایسی کم از کم پچاس گاڑیں نذر آتش کر دیں جن پر مقبوضہ وادی کشمیر کی رجسٹریشن والی نمبر پلیٹیں لگی تھیں۔ تشدد اور بڑھتے ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظرحکام نے پہلے گجر نگر اور پھر پورے جموں شہر میں غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو نافذ کر دیا۔ریاست کے سرمائی صدر مقام اور جموں خطے کے چند دوسرے ہندو اکثریتی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی تا حکمِ ثانی بند کر دی گئی ہیں۔سرحدی ضلع پونچھ سے موصولہ ایک اطلاع میں کہا گیا ہے کہ وہاں کے اعلی پیر بازار میں بھی ایک مشتعل ہجوم نے نجی موٹر گاڑیوں میں توڑ پھوڑ اور مقامی مسلمانوں کی دکانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی،اطلاعات کے مطابق نئی دہلی اور متعدد دوسرے شہرون مین بھی مسلمانوں کی املاک اور گاڑیان پر حملے کئے گئے۔ بھارت کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی 80سے زائد گاڑیا ں اور موٹر سائیکلیں ، جبکہ درجنوں گھروں کو آگ لگا دی گئی

گاڑیاں نذر آتش

مزید : صفحہ اول


loading...