پارلیمانی نظام یا صدارتی نظام؟

پارلیمانی نظام یا صدارتی نظام؟
 پارلیمانی نظام یا صدارتی نظام؟

  


ان دنوں پارلیمانی اور صدارتی نظام حکومت کی بحث ایک بار پھر چھڑ چکی ہے۔ کیوں؟ اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں ہے، البتہ قیافے لگائے جا سکتے ہیں یہ کہ کچھ حلقے ملک میں صدارتی نظام حکومت رائج کرنے کے خواہش مند ہیں اور مختلف حوالوں سے اس سلسلے میں غالباً فضا ہموار کی جا رہی ہے،جبکہ پارلیمانی نظام حکومت کے حامی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ بحث کو آگے بڑھانے سے قبل آیئے یہ دیکھتے ہیں کہ پارلیمانی اور صدارتی نظام حکومت میں کیا فرق ہے۔ پارلیمانی نظام (Parliamentary System) جمہوری حکومت کا ایک نظام ہے جس میں کابینہ بالواسطہ یا بلاواسطہ ایک پارلیمنٹ کے تحت کام کرتی ہے اور کابینہ کے ارکان (وزراء) پارلیمنٹ اور مقننہ کو جوابدہ ہوتے ہیں۔

اس نظام میں اختیارات وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں۔ اس نظام میں آئینی صدر تو ہوتا ہے، مگر اس کے اختیارات محدود ہوتے ہیں اور زیادہ اختیارات وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس صدارتی نظام (Presidential System) ایک ایسا نظام جمہوریت ہے جس میں سربراہ حکومت خود ہی سربراہ ریاست بھی ہوتا ہے۔ اس سسٹم میں سارے اختیارات صدر کے پاس ہوتے ہیں اور اس نظام میں وزیراعظم ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہو سکتا۔ بہرحال اگر ہو تو اس کے پاس اختیارات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور وہ ملک کو چلانے کے حوالے سے کسی بھی طرح کے فیصلے کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ یاد رہے کہ زیادہ تر صدارتی نظام وزیراعظم کے بغیر ہوتے ہیں اور صدر ہی فیصلے کرتا اور اپنی کابینہ کے ذریعے ان کا نفاذ کرتا ہے۔

صدارتی نظام میں سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ کوئی منتخب سیٹ اپ نہیں ہوتا اور پورے ملک اور قوم کے فیصلے چند گنے چنے لوگ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس پارلیمانی نظام میں نہ صرف صوبائی اسمبلیاں موجود ہوتی ہیں، بلکہ ایک وفاقی یا مرکزی حکومت بھی ہوتی ہے۔ صوبائی سطح کے فیصلے اور قانون سازی صوبائی اسمبلیوں میں مشاورت سے کی جاتی ہے اور مرکزی سطح کے فیصلے قومی اسمبلی میں کئے جاتے ہیں۔ پھر قومی اسمبلی کے اوپر سینیٹ ہوتی ہے، جسے ایوان بالا کہا جاتا ہے۔

سینیٹ قومی اسمبلی میں منظور کئے گئے قوانین کا از سر نو جائزہ لیتی ہے اور ضروری چھان پھٹک کے بعد ان قوانین کو منظور یا مسترد کرتی ہے، جبکہ سب سے اوپر صدر مملکت کی صورت میں ایک حتمی چیک ہوتا ہے۔ صدر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں منظور کئے گئے کسی قانون کے مسودے پر دستخط کرے تو ہی وہ قانون کی شکل اختیار کر سکتا ہے، بصورت دیگر نہیں۔ صدارتی نظام میں اس طرح کا کوئی تردد نہیں کیا جاتا اور صدر جو فیصلہ کر دے وہی عوام کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ صدر کے فیصلوں کے ساتھ پارلیمانی نظام کے برعکس عوام کا کوئی براہ راست تعلق واسطہ نہیں ہوتا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو صدارتی نظام ہوتا تو جمہوری ہی ہے، لیکن اس میں عوام پوری طرح Involve نہیں ہوتے۔

اب سوال یہ ہے کہ صدارتی نظام کیسے لایا جا سکتا ہے۔ پارلیمانی نظام حکومت ایک طاقت ور نظام ہے، چنانچہ صدارتی نظام لانے کے لئے اس کو ناکام ظاہر یا ثابت کرنا ضروری ہے۔ اور اس وقت ملک میں یہی ہوتا نظر آ رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت چھ ماہ گرنے کے باوجود ڈلیور نہیں کر سکی۔ نہ تو عوام کی توقعات پوری ہو رہی ہیں اور نہ ہی ملک کے معاشی حالات بہتر بنائے جا سکے ہیں۔ پہلے سعودی عرب سے سود پر قرضہ اور ادھار تیل حاصل کیا گیا، پھر متحدہ عرب امارات کے سامنے دست طلب دراز کیا گیا اور عوام کو یہ بتایا گیا کہ کوشش کی جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے کی نوبت نہ آئے۔ یہ الگ بات ہے کہ وزراء ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے رہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پیشگی پوری کی جا رہی ہیں۔

پٹرولیم، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کی چیخیں نکل گئیں اور وہ یہ کہتے پائے گئے کہ انہوں نے اس مقصد کے لئے تو تحریک انصاف کو منتخب کرکے برسراقتدار نہیں کیا تھا۔ اس نئی حکومت نے چھ ماہ کے مختصر عرصے میں دو منی بجٹ بھی عوام کی خدمت میں پیش کئے، اس طرح پٹرولیم، گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کے بعد جو کسر رہ گئی تھی، وہ بھی نکل گئی۔ ہر طرح سے شرائط پوری کرنے کے بعد اب آئی ایم ایف سے بھی رجوع کیا جا رہا ہے،تاکہ ملک کو مزید قرضوں میں ڈبویا جا سکے۔ معیشت کے اونٹ پر آخری تنکا رکھنے کی جو گنجائش باقی تھی، وہ روپے کی قدر میں خاصی کمی کرکے پوری کر دی گئی۔ روپے کی قدر میں کمی کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف غیر ملکی قرضوں کا حجم از خود بڑھ گیا، بلکہ مہنگائی کا ایک نیا اور بڑا ریلا عام آدمی کی گھریلو معیشت کو بھی اپنے ساتھ ہی بہا لے گیا۔

یہ ساری ناکامیاں دراصل ایک حکومت اور اس کی پالیسیوں کی ناکامیاں ہیں، لیکن اب ممکن ہے، اسے نظام کی ناکامی ظاہر کرکے صدارتی نظام لانے کی کوشش کی جائے۔ گزشتہ حکومتوں میں شامل رہنے والی بہت سی شخصیات پہلے ہی احتساب کی زد میں ہیں اور حکمرانوں کی جانب سے کرپشن کرپشن کا شور بھی بہت مچایا جا رہا ہے۔ شاید یہ بات بھی کی جائے کہ پارلیمانی نظام کرپشن میں اضافے کا باعث بنتا ہے، اس لئے اس کی بساط لپیٹ دی جانی چاہیے، لیکن ظاہر ہے یہ ایک لنگڑا بہانہ ہو گا۔ ایک حکومت کی ناکامی کو نظام حکومت کی ناکامی نہیں کہا جا سکتا، لہٰذا جمہوریت پسندوں، سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو آنے والے وقت میں اپنی آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی۔

مزید : رائے /کالم


loading...