ایوب خان، مولانا مودودی سے خفا کیوں تھے؟(1)

ایوب خان، مولانا مودودی سے خفا کیوں تھے؟(1)
 ایوب خان، مولانا مودودی سے خفا کیوں تھے؟(1)

  



قیامِ پاکستان کے 11 سال اور 54 روز بعد، 7اکتوبر1958ء رات کے ساڑھے دس بجے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا [م:13 نومبر 1969ء ]نے ملک میں مارشل لا نافذکرکے قومی اور صوبائی حکومتوں کو برطرف ،مرکز اور صوبوں میں اسمبلیوں کو برخواست،سیاسی جماعتوں پر پابندی اور سپہ سالار جنرل محمد ایوب خان [م: 19?اپریل 1974ء] کو مسلح افواج کا سپریم کمانڈر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کا اعلان جاری کیا۔اس اعلان کے ساتھ ہی پاکستان میں سول حکومتوں کے خاتمے اورفوجی حکمرانی کے 13 سالہ طویل دور کا آغاز ہوا، جس کا اختتام 20دسمبر 1971ء کو اْس وقت ہوا، جب آمریت کے تضادات، داخلی تصادم اور بھارتی یلغار کے نتیجے میں مشرقی پاکستان الگ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔

اس زمانے میں مغربی دانش وَر اورمؤثر حلقے تسلسل سے یہ نظریہ پیش کر رہے تھے کہ: ’’فوج ترقی پذیر ممالک میں سب سے منظم اور جدید تعلیم یافتہ ادارہ ہے اور ان ملکوں میں فوجی اقتدار ہی ایک مؤثر نظام حکومت فراہم کر سکتا ہے جس کے ذریعے یہ ریاستیں ترقی کرسکتی ہیں‘‘۔

جنرل محمد ایوب خان پاکستان کے پہلے فوجی حکمران تھے۔وہ 17جنوری 1951ء کو پاکستانی افواج کے اولین پاکستانی کمانڈر انچیف بنے۔ انھوں نے اکتوبر1958ء سے مارچ 1969ء تک کے زمانے میں چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، فیلڈ مارشل اور پھر صدر کی حیثیت سے مجموعی طور پر 10 سال سے زائد عرصہ تک متحدہ پاکستان میں حکومت کی۔

ان کی خواہش کے مطابق تیار کردہ 1962ء کا آئین، پارلیمانی نظام کے بجاے صدارتی نظام پر مبنی تھا، جو پوری طرح جنرل ایوب خان کی ذات کے گرد گھومتا تھا۔ ان کے دورِ حکومت میں پاکستان میں ایک نا ہموار اور غیر متوازان معاشی ، صنعتی اور زرعی ترقی ہوئی۔ تاہم، ان کے کئی ہمدرد آج تک انھیں ایک ’خیراندیش‘ آمر (Benevolent Dictator) کی حیثیت سے یاد کرتے ہیں۔

جنرل ایوب خان کا نظریہ تھا کہ: ’’دورِجدید کے سیکولر نظام حکومت کو اپنا کر ہی پاکستان ترقی کر سکتا ہے‘‘۔ اپنے 10 سالہ دور اقتدار میں انھوں نے پاکستانی عوام کوہمیشہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مسائل کا حل جدید دور کے نظریات ہی کی مدد سے ممکن ہے۔

انھیں اپنے بارے میں یقین تھا کہ صرف وہی پاکستان کے نجات دہندہ ہیں اور تمام ’رجعت پسند‘ (Reactionaries) اور ’بنیاد پرست‘ (Fundamentalists ) قوتوں کو بے اثر کرسکتے ہیں، جو ان کے بقول: ’’اسے پتھر کے زمانے کی غاروں میں واپس دھکیلنا چاہتے ہیں‘‘۔

اس پورے عرصے میں ایک پالیسی کے تحت مولانا مودودی [م:22ستمبر 1979ء ]کی ذات اورجماعت اسلامی، جنرل ایوب صاحب کا خاص ہدف تھی۔ جس کی وجوہ سیاسی اور نظریاتی بھی تھیں۔ اس دور میں جماعت اسلامی واحد سیاسی اور دینی پارٹی تھی، جو مولانا مودودی کی قیادت میں ایک واضح نصب العین کے ساتھ پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام ، قانون کی حکمرانی کے احیا اور فوجی آمریت کے خلاف، جمہوریت پسند قوتوں سے مل کر بھرپور سیاسی جدوجہد کر رہی تھی۔

میاں طفیل محمد [م:25 جون 2009ء] کے مطابق: ’’[ جنرل ایوب خان ] پاکستان میں مستقلاً غیر محدود حکمرانی کا اختیار حاصل کرنا چاہتے تھے اور مولانا مودودی کو اپنی راہ کی بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے مولانا مودودی کو لاہور کے گورنر ہاؤس میں بلا کران سے طویل ملاقات کی۔ میاں طفیل محمد جو اس میٹنگ میں مولانا کے ساتھ شریک تھے ،انھوں نے اس بات چیت کے بارے میں لکھا ہے کہ جنرل ایوب نے مولانا کو سمجھاتے ہوئے بہت ’مشفقانہ انداز‘ میں فرمایا: ’مولانا یہ سیاست تو بہت گندا کام ہے۔ آپ جیسے بلندکردار اور پاکیزہ نفس لوگ اس میں کیوں پڑگئے ہیں؟ آپ اسے چھوڑیں اور ملک کے اندر بھی اور دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی اسلام کی تبلیغ فرمائیں۔ سیاست، سیاسی لوگوں کو کرنے دیں۔

اس دلدل میں تو جو بھی قدم رکھے گا، کیچڑ سے لت پت ہوگا۔ آپ مذہب کا اور تبلیغ کا کام کریں تو ہماری حکومت آپ سے تعاون کرے گی‘۔ مولانا نے اس کے جواب میں فرمایا:’جنرل صاحب، آپ ٹھیک ہی فرماتے ہیں کہ اس وقت سیاست کو غلط کار اور خوفِ خدا سے عاری لوگوں نے ایک گندا کھیل بنا دیا ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ حکومت کی خرابی تمام خرابیوں کی جڑ ہے اور اس خرابی نے ہماری زندگی کے ہردوسرے شعبے کو فلتھ ڈپو [گندگی کا مرکز]بنا دیا ہے۔ اس لیے جب تک سیاست کو گندگی سے پاک نہیں کیا جائے گا، زندگی کے کسی شعبے کو بھی درست اور صحت مند نہیں بنایا جاسکتا۔ اجتماعی نظامِ زندگی سے اس گندگی کو دْور کرنے کی کوشش ہمارے نزدیک کوئی سیاسی کام نہیں، بلکہ سراسر ایک دینی فریضہ ہے‘‘۔

ایوب خان نے فرمایا: ’’مولانا، پھر یہ کام کرتے ہوئے تو آپ اپنے کو غلاظت کی آلودگی سے نہیں بچا سکتے‘‘۔ مولانا نے جواب دیا:’’اس میں کیا شک ہے کہ جو شخص بھی غلاظت اور سیوریج صاف کرنے کا کام کرے گا، وہ چاہے کتنی ہی احتیاط برتے، کچھ نہ کچھ چھینٹے تو اس کے کپڑوں پر ضرور پڑیں گے۔ لیکن اگر اس خوف سے سیوریج صاف ہی نہ کیا جائے تو پھر لامحالہ سارے شہر کی صحت خطرے میں پڑ جائے گی‘‘۔(مشاہدات ،میاں طفیل محمد،نومبر 2000ء ، ص 322)

مولانا مودودی کو سیاست سے دست بردار کرنے میں ناکامی کے باعث ایوب خان اور ان کے ساتھیوں کی سوچ میں، جماعت اسلامی اور امیر جماعت مولانا مودودی کے خلاف پہلے سے موجودمخاصمت میں اور بھی شدت آگئی۔

ایوب خان اپنے دورِ اقتدار میں جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کے خلاف جارحانہ رویہّ پر قائم رہے۔ اس منفی سوچ کا اندازہ ان کی خود نوشت Friends Not Masters (’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘) کے مطالعے سے ہوتا ہے، یا پھر ان کی تحریر کردہ ڈائری کے مندرجات سے، جو 2007ء میں امریکی مصنف اور سفارت کار کریگ بیکسٹر (Craig Baxter ) نے: Diaries of Field Marshal Muhammad Ayub Khan (1966۔1972) کے نام سے مرتب کی اور اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس نے شائع کی ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم مولانا مودودی کے بارے میں جنرل ایوب خان کی انتہائی آرا سے آگاہی حاصل کریں ،ایوب خان کے عروج اور زوال کے عوامل کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں:

ایوب خان جنوری 1948ء میں مشرقی پاکستان میں جنرل آفیسر کمانڈنگ مقرر ہوئے۔ اس تقرر کے دوران انھیں وہاں کے تمام قابل ذکر سیاست دانوں سے ملنے کا موقع ملا اور ان کی باہمی چپقلش کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ پھر سیاست دانوں کے بارے میں فرض کر لیا کہ: ’’سیاست دان ملک کو ایک مضبوط اور مستحکم لیڈرشپ فراہم نہیں کر سکتے‘‘۔ 1950ء میں مشرقی پاکستان سے واپسی پر فوج کے ہیڈ کوارٹر (GHQ) راولپنڈی میں ایڈجوٹنٹ جنرل مقرر ہوئے۔ وہ فوجی افسروں کے سامنے مختلف لیکچرز میں بار بار یہ کہتے: ’’پاکستان کو چلانے کے لیے سیاست دانوں پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا‘‘۔

اس دوران ان کے تعلقات اسکندر مرزا سے استوار ہوئے، جو اس وقت پاکستان کے سیکریٹری دفاع تھے۔ اسکندر مرزا ہی کی حمایت سے ایوب خان جنوری 1951ء میں پہلے پاکستانی کمانڈر ان چیف مقرر ہوئے۔ اسی سال پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران 16کتوبر کو گولی مار کر شہید کردیا گیااورملک غلام محمدگورنر جنرل بن گئے [ملک غلام محمدکا تعلق بیورو کریسی کی آڈٹ اور اکاؤنٹ سروس سے تھا اور 1951ء میں وہ پاکستان کے وزیر خزانہ تھے]۔ انھوں نے گورنر جنرل کے اختیارات کو ایک سویلین آمر کی طرح استعمال کیا اور دستور ساز اسمبلی 24اکتوبر1954ء کو برخواست کر دی۔

1955ء میں اسکندر مرزا نے ملک غلام محمد کو مستعفی ہونے پر مجبور کرکے خود گورنر جنرل کا عہدہ سنبھال لیا۔اس دوران ملک میں یکے بعد دیگرے تین وزیر اعظم تبدیل ہوئے، جب کہ دوسری جانب 1951ء سے 1958ء تک کے عرصے میں جنرل ایوب کو کمانڈر ان چیف کے عہدے پر (الطاف گوہر کے مطابق دوبار چار چار سال کی،جب کہ امریکی محقق ہربرٹ فیلڈمین کے مطابق انھیں دونوں مرتبہ پانچ پانچ سال کی) توسیع ملتی رہی۔(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم